افسوس صد افسوس

January 3, 2010

آج دو خبروں پر نظر پڑی۔ ایک یہ کہ دنیا کے ایک ارب سے زیادہ انسان آج بھی بھوکے ہیں۔ یعنی تقریباً ہر چھ انسانوں میں ایک بھوکا ہے۔ یعنی اگر آپکے گھر میں چھ فرد ہیں تو ان میں سے ایک بھوکا ہے یا فرض کریں کہ آپ بارہ افراد کو کھانے پر بلاتے ہیں لیکن دس افراد کھانا کھاتے ہیں اور باقی دو مہمان بھوکے واپس لوٹ جاتے ہیں۔ افسوس صد افسوس۔

دوسری خبر یہ کہ بہت سے لوگ آجکل ورچوئل گیمز اور ورچوئل تحائف پر بے تحاشا پیسہ ضائع کر رہے ہیں۔ یعنی کسی کی سالگرہ پر اگر پھول بھیجنے ہیں تو انٹرنیٹ پر ورچوئل پھول بیجیں جو ان صاحب کی ای میل میں چند لمحے چمکیں گے اور آپکی جیب سے کچھ پیسے کم ہوں جائیں گے۔ یہی پیسے جو آپ کسی کو کھانا کھلانے، کسی کو دوائی خرید کر دینے یا سردی سے بچنے کیلئے گرم کپڑے مہیا کرنے پر خرچ کر سکتے تھے۔ افسوس صد افسوس۔

Mohammad Zulkifl Al-Faisal was born on the 9th of November, 2009 at 0745ish in Islamabad, Pakistan.
Alhamdo lillah. Masha ‘Allah.
Hey btw, I am his dad ;-)
Picture taken same day, few hours after his birth.

Update: Many people have asked me the meaning of this name. Zulfikl is considered to be a prophet in Islam, Christianity and Judaism. More can be read here and here. Some scholars also think that he is actually Gautama Buddha.

محمد ذوالکفل الفیصل ۹ نومبر ۲۰۰۹ بروز سوموار، صبح کے قریباً پونے آٹھ بجے، اسلام آباد پاکستان میں پیدا ہوا۔
الحمد للہ ۔ ماشا اللہ
(: ارے ہاں، میں اسکا ابا جان ہوں
تصویر پیدائش کے چند گھنٹے بعد لی گئی۔ نام کے معانی کیلئے اوپر دیے گئے روابط دیکھئے۔

صاحبو یہ بات ہی کچھ ایسی اہم ہے کہ معمول سے ہٹ کر مجھے پوسٹ کرنا پڑ رہی ہے۔
ابھی کچھ دیر پہلے فیس بُک پر ڈفر کی ایک تجویز دیکھی کہ اپنا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نمبر، بغیر کسی وقفے یا ڈیش کے لکھ کر 668 پر بھیجیں۔ جواباً ایس ایم ایس آپکو بتائے گا کہ اس شناختی کارڈ نمبر پر کتنے موبائل نمبر ایشو کیے جا چکے ہیں۔ اپڈیٹ: یہی معلومات پی ٹی اے کی ویبسائٹ پر  بھی لی جا سکتی ہیں۔
ٹیلے نار فون استعمال کرتے ہوئے ایس ایم ایس کا جواب نہیں آیا لیکن یو فون کے ایک نمبر سے یہ ایس ایم ایس کیا تو فوراً جواب آ گیا۔ میری حیرت کی انتہا نہیں یہ دیکھ کر کہ میرے نمبر سے ٹیلے نار اور وارد کے ایک ایک نمبر کے علاوہ موبی لنک کے 8 نمبر ایشو کیے جا چکے ہیں۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ (وارد اور ٹیلی نار کو چھوڑ کر) میں نے موبی لنک کا صرف ایک نمبر لیا تھا کسی زمانے میں اور وہ بھی بہت عرصے سے استعمال نہیں کر رہا۔
میرا خیال فوراً اس دکاندار کی جانب گیا ہے جسکو میں نے اپنے کارڈ کی کاپی دی تھی۔ لگتا ہے ان صاحب نے میرے کارڈ کی کاپی کا خوب فراخدلانہ استعمال کیا ہے۔
اب میں اس بات پر بھی سوچ رہا ہوں کہ نہ جانے اور کتنی جگہوں پر میرے کارڈ کا ناجائز استعمال ہو رہا ہے اور کب قانون کا کوئی پھندا کسی ایسے ہی چکر میں میں میرے گلے میں پڑتا ہے۔
فی الحال تو میں نے موبی لنک کی ویبسائٹ پر فوری طور پر یہ سب نمبر بند کرنے کی گزارش کی ہے لیکن لگتا نہیں کہ اسکا کوئی جواب آئے یا اسپر عمل ہو۔ شائد انکی فرنچائز پر جانے اور کافی مغز ماری کے بعد ایسا ممکن ہو سکے۔ دیکھتا ہوں کہ کیا، کیا جا سکتا ہے۔آپ اپنی تسلی بھی کر لیں۔ اور ہاں، ڈفر بھائی بہت بہت شکریہ۔ جیل سے بچ گیا تو آپکو زبردست ڈنر کراؤنگا، کینبرا کی فوڈ سٹریٹ میں۔

اپڈیٹ: اس سروس کے اجراء سے متعلق خبر یہاں دیکھئے۔ اسکے علاوہ میری ناقص معلومات کے مطابق یہ سروس زونگ اور یو فون پر کام کر رہی ہے، ٹیلے نار اور وارد میں شائد نہیں۔ اسکے علاوہ کچھ لوگوں کو ایک سے زیادہ مرتبہ کوشش کے بعد کامیابی ہوئی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض لوگوں کے کنکشن موجود تھے جبکہ رپورٹ میں نہیں آئے لیکن زیادہ تر لوگوں کی رپورٹ انکی توقع سے زیادہ نمبروں کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان متفرق نتائج کی وجہ شائد اس سروس کا ٹیسٹ فیز میں ہونا ہو ۔ مزید کچھ لوگوں کے نتائج دیکھنے کیلئے عامر کا بلاگ دیکھئے۔

صاحبو خبر ہی کچھ ایسی ہے کہ فدوی ایک بار پھر اپنی hibernation سے باہر آنے پر مجبور ہو گیا ہے ورنہ لوگوں نے تو اپنی سی کر کے دیکھ لی بلکہ کچھ “براہِ راست” قسم کے نامے تو میرے نام یہاں اور یہاں بھی آئے (اور شائد کہیں اور بھی آئے ہوں لیکن دیکھ نہ پایا) کہ جنکا میں بہرحال تہہ دل سے مشکور ہوں کہ “آئے تو سہی،  بر سرِ الزام ہی آئے”۔۔۔

حضور اتنا تو آپ بھی جانتے ہیں کہ لینکس اپنا ذوق ہے اور فوٹوگرافی اپنا شوق۔ اب اگر یہ دونوں یکجا ہو جائیں تو کیا صورت بنے گی؟ تصور ہی بہت حسین ہے۔ خیر خبر کچھ یوں ہے کہ کچھ منچلوں (اور یہ ایسے ویسے لوگ نہیں سٹینفورڈ یونیورسٹی کے محقق ہیں) نے ایک اوپن سورس ڈیجیٹل کیمرا بنانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ چونکہ مارکیٹ میں موجود کیمرے اس سے بہت زیادہ کرنے کے اہل ہیں جو وہ اسوقت کر رہے ہیں، اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی ایسا کیمرا بنایا جائے جو پروگرام کیا جا سکے۔ یعنی فوٹوگرافر حضرات اپنی مرضی سے کیمرے میں تبدیلیاں کر سکیں۔ شٹر سپیڈ، اپرچر، آئی ایس او سپیڈ، وغیرہ وغیرہ ایسی کئی چیزیں ہیں جن پر فوٹوگرافر مکمل کنٹرول چاہتے ہیں اور اس کیمرے میں وہ ایسا بہت کچھ کر پائیں گے۔

تفصیلات میں جائیں تو کئی دلچسپ باتیں ملتی ہیں۔ مثلاً اس کیمرے کی چیدہ چیدہ خصوصیات میں سے سب سے نمایاں اسکا لینکس پر چلنا ہے۔ عدسے کینن کے جَڑے گئے ہیں جبکہ سینسر نوکیا این 95 فون کا ہے۔ باقی بھی کچھ “کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا” والا معاملہ ہے۔ نام اس کا فرینکن کیمرا ہے جو اسکی بدصورتی کو مد نظر رکھ کر رکھا گیا ہے لیکن اہل نظر کے قریب تو شائد یہ دنیا کا خوبصورت ترین کیمرا ہو گا۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہوتا ہے (جسکی ناکامی کی بہرحال کوئی وجہ بھی نہیں)، تو یقینا یہ فوٹوگرافی کی دنیا میں ایک انقلاب ہو گا اور کینن اور نائکون وغیرہ کیساتھ شائد کچھ ایسا ہی ہو گا جیسا اب مائکروسوفٹ کی ساتھ ہو رہا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ یہ کیمرا استعمال کون کریگا؟ تو صاحب فی الحال تو یہ کیمرا کمپیوٹیشنل فوٹوگرافی کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر بنایا جا رہا ہے لیکن وہ دن بھی دور نہیں جب شوقیہ اور پیشہ ور فوٹوگرافر حضرات (اور یقیناً خواتین بھی) اسے اپنے ہاتھ میں لینا پسند کریں گے۔اور ایسا کیوں نہ ہو کہ ڈیجیٹل فوٹو گرافی کی دنیا میں تیز تر تبدیلیاں آنے کے ساتھ ساتھ ہر فوٹوگرافر بہرحال کسی حد تک کمپیوٹیشنل فوٹوگرافر ہی ہے۔

ایک دلچسپ بات یہ کہ اس کیمرے کی ایک اہم صلاحیت ایچ ڈی آر بنانا بتائی گئی ہے (یہ مخفف ہے ہائی ڈائنامک رینج کا اور سادہ الفاظ میں ایک ایسی تصویر جو کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ روشنی میں موجود تفصیلات کو بیک وقت محفوظ کر سکے)۔ یہ کام تاوقت کمپیوٹر سوفٹوئر کی مدد سے ہی ممکن ہے لیکن کیا ان صاحبان کو یہ علم نہیں کہ پینٹکس کے کچھ ماڈل ( اور شائدکچھ اور کیمرے بھی) یہ کام پہلے ہی کرنے کے قابل ہیں؟ دوسری حیرت انگیز بات اسمیں نوکیا فون کے ننھے منے سینسر کا استعمال ہے جبکہ پیشہ ور فوٹوگرافر تو فل فریم کیمرا سے کم پر راضی ہی نہیں ہوتے۔ شائد مستقبل میں اسمیں بڑے سائز کا سینسر استعمال کرنے کا ارادہ ہو۔ بہرحال اسکے علاوہ بھی کئی کام ایسے ہیں جو یہ کیمرہ سر انجام دے سکے گا اور یہی اسکا مقصد بھی ہے کہ فوٹو گرافر حضرات اپنا زیادہ وقت کمپیوٹر کی سکرین کی بجائے کیمرے کے عدسے کے پیچھے گزاریں۔ اسکا مطلب شائد یہ بھی ہے کہ اسوقت کے مقبول ترین فوٹو ایڈیٹنگ سوفٹوئر یعنی ایڈوبی فوٹو شاپ کی دکان بھی بند ہونے والی ہے (گرچہ یار لوگ تو ابھی بھی گمپ اور گمپ شاپ سے کام چلا ہی لیتے ہیں اور لینکس میں تو یہ آزادی پرانی بات ہے)۔ یہ بہت سوں کیلئے اچھی خبر یوں بھی ہے کہ پاکستان میں تو سوفٹوئر کی چوری کوئی اتنا بڑا جرم نہیں سمجھا جاتا لیکن اُنکے دل سے پوچھیں جو فوٹو شاپ خرید کر استعمال کرتے ہیں۔ گرچہ یہ کیمرا مارکیٹ میں آتے آتے یقیناً کچھ وقت لگے گا لیکن بہر حال خبر تو اچھی ہے نا؟

ارے ہاں، اگر آپ نے یہ تحریر یہاں تک پڑھ لی ہے تو گمان غالب ہے کہ آپ ایک انتہائی فارغ (یعنی “ویلے”) انسان ہیں۔ تو لگے ہاتھوں میرا تصویری بلاگ بھی دیکھتے جائیے اور فلکر اکاونٹ بھی۔ آپکی آراء کا انتظار رہیگا۔

سوال جواب

July 12, 2009

صاحبو آپکے ساتھ کبھی ایسا ہوا کہ گویا کوئی آندھی آئی ہو اندر ہی اندر۔ جھکڑ چلے ہوں زوردار اور اس طوفان نے اندر کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہو۔ پرانے خیالات کے بوڑھے برگد کہ جنکی شاخوں سے خود ساختہ فرسودہ روایات لٹک رہی تھیں، جڑوں سے اکھڑ گئے ہوں اور پھر ایک لمحہ سکون کا، خاموشی کا جو ایک نوید ہو کسی الہام کی، کسی نئے خیال کی، کسی نئی تخلیق کی، گویا ایک نئی زندگی کی۔ بالکل ایسے جیسے جنگل میں لگنے والی آگ کے بعد جل کر سیاہ ہوئے پیڑ پودوں پر ٹھنڈے سبز رنگ کی نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ نہیں صاحب اپنے ایسے نصیب کہاں۔ چھوٹے موٹے طوفان تو آتے ہیں لیکن ایسا سونامی کبھی نہیں آیا۔ اور کبھی آنے کی کوشش بھی کی تو لاشعوری کوشش سے اسکا گلا ہی گھونٹ دیا کہ بنے بنائے گھونسلے کو چھوڑنا، نئی ابتدا کرنا مشکل کام ہے اور میری سہل پسندی اسکی متحمل نہیں ہو سکتی یا کم از کم میں نے کبھی یہ آزمایا نہیں۔ ہاں البتہ انھی چھوٹی چھوٹی لہروں سے ہی تبدیلی لانے کی کوشش کی ہے اور وہ بھی اپنے مطلب کی تبدیلی۔
بہرحال کچھ ایسا ہی لمحہ تھا جب گویا کسی نے میرے دماغ میں اس خیال کو کِیل کی طرح ٹھونک دیا کہ دنیا میں جو کچھ مجھے اب تک حاصل ہوا ہے وہ میرے زورِ بازو کی پیداوار نہیں ہے۔ ایسا تو خیر پہلے بھی نہیں سوچا تھا لیکن اب بہرحال میں شدت سے یہ محسوس کرنے لگا کہ جہاں میں آج ہوں قطع نظر اس سے کہ یہ اچھی جگہ ہے یا بری، اسمیں کتنے ہی زیادہ، بلکہ شائد سارے کے سارے، بیرونی عوامل ہیں۔ مثلاً اگر مجھے یورپی یونین کی طرف سے بیرونِ ملک تعلیم کے لئے وظیفہ ملا تو اسمیں میرا کچھ کمال نہیں تھا۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ تک رسائی، وقت کی فراغت، انگریزی میڈیم سکول کی تعلیم وہ سب باتیں تھیں جنھوں نے اس وظیفے کے حصول میں مدد کی۔ اب کمپیوٹر اور انٹرنیٹ تک رسائی پاکستان میں ہر شخص کو تو کیا ہر یونیورسٹی کے ہر طالبعلم کو بھی میسر نہیں۔ پرائیویٹ انگریزی میڈیم سکول میں تعلیم بھی کم ہی بچوں کا نصیب ہے اور وقت کی فراغت بھی اسلئے تھی کہ گھر چلانے کی ذمہ داری مجھ پر نہیں تھی۔ شائد ایسی ہی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں جنکی وجہ سے نہایت ذہین، محنتی اور اچھے طالبعلم زندگی میں آگے نہیں بڑھ پاتے اور حالات کا جبر انھیں معمولی نوکریاں یا چھوٹا موٹا کاروبار کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
بہرحال میری یہ بات کوئی غیر معمولی یا انوکھی بات نہیں بلکہ ہم سب جانتے ہیں اور یقیناً میرے برعکس بہت سے لوگوں کو تو اسکا ذاتی تجربہ بھی ہو گا۔ لیکن میں دراصل اس سے آگے، کچھ اور کہنا چاہتا ہوں۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ملنے والی ایسی بہت سی favors سے مجھے ڈر سا لگنے لگا ہے۔ جوں جوں اسکی نعمتیں مجھے مل رہی ہیں توں توں میرے ڈر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا وجہ ہے؟ میں ہی کیوں؟ وہ کیا کام لینا چاہتا ہے؟ گویا یہ کیسا امتحان ہے کہ جسکا جواب تو چھوڑیں، مجھے تو سوال تک نہیں معلوم۔۔۔ یا شائد سوال سامنے ہے لیکن اسکو پڑھنے کا، غور کرنے کا وقت نہیں یا موڈ نہیں، نیت نہیں۔ اور اگر ایسا ہے تو یہ تو اور بھی قابلِ فکر بات ہے۔ میری نالائقی سمجھیے کہ پیسے لے کر جیب میں ڈال لئے، یہ نہیں پوچھا کہ کام کیا کرنا ہے۔ اب جب وہ پوچھے گا کہ وہ کام کیا جسکے لئے پیسا دیا تھا، ذرائع دیے تھے، تو میں کیا جواب دونگا؟ کیا یہ کہونگا کہ مجھے تو اپنی job description کا ہی علم نہیں تھا، میں تو سمجھا تھا کہ تُو رحیم و کریم ہے، سب کو دے رہا ہے، سو مجھے بھی دے دیا۔ یا کیا یہ کہونگا کہ مجھ ہی میں کوئی سرخاب کے پر لگے تھے کہ یہ نعمتیں میں نے اپنا حق سمجھ کر رکھ لیں؟ لیکن یہ تو مجھے بھی علم ہے کہ ایسا کچھ نہیں۔ دن گزر رہے ہیں، گھڑی کی ٹِک ٹِک مسلسل چل رہی ہے اور میری پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب مجھے کچھ کچھ سمجھ آ رہا ہے کہ کیوں سدھارت کپل وستو کا تخت چھوڑ کر پیپل کے درخت تلے جا بیٹھا تھا جہاں اسے نروان ملا، اللہ کے نیک بندے کیوں اتنے minimalist ہوتے ہیں۔ لیکن بہرحال کیا یہ میری حد درجہ نالائقی نہیں کہ سوالات کا ہی علم نہیں، جوابات تو بعد کی بات ہے؟ یقیناً پرچہ حل کرنے کے لئے بھی تو وقت چاہئے نا۔ اگر کوئی یہ کہے کہ بس یار ایسے ہی ٹھیک ہے تو نہیں، ایسا ہرگز ٹھیک نہیں۔ وہ رحیم و کریم تو ہے، منصف بھی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں برابر ہوں جاؤں کسی ایسے شخص کے جو جوابات لکھ رہا ہو، مجھ سے کئی گنا زیادہ بڑی ذمہ داریاں نبھا رہا ہو، باوجود اسکے کہ اسکے پاس مجھ سے کم ذرائع ہوں۔ تو اسکو دیکھ کر کہ اللہ میاں نے جو مجھے دیا ہے، یقیناً میرا کام تو بہت ہی مشکل ہونا چاہئے۔ آہ لیکن کیا کیجئے۔ مجھے علم ہی نہیں کہ کرنا کیا ہے، جانا کہاں ہے۔ یا شائد علم تو ہے لیکن سامنا کرنے کا یارا نہیں۔ لیکن ٹھہریے صاحب، اس سے پہلے کہ آپکو مجھ پر ترس آئے یا آپ مجھ سے ہمدردی کا اظہار کریں، مجھے اس کا حل بتائیے۔ کیا آپکے ساتھ ایسا ہوا ہے اور اگر ہاں تو آپ نے کیا کیا ہے؟ مجھے انتظار رہے گا۔