صاحبو یہ بات ہی کچھ ایسی اہم ہے کہ معمول سے ہٹ کر مجھے پوسٹ کرنا پڑ رہی ہے۔
ابھی کچھ دیر پہلے فیس بُک پر ڈفر کی ایک تجویز دیکھی کہ اپنا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نمبر، بغیر کسی وقفے یا ڈیش کے لکھ کر 668 پر بھیجیں۔ جواباً ایس ایم ایس آپکو بتائے گا کہ اس شناختی کارڈ نمبر پر کتنے موبائل نمبر ایشو کیے جا چکے ہیں۔ اپڈیٹ: یہی معلومات پی ٹی اے کی ویبسائٹ پر بھی لی جا سکتی ہیں۔
ٹیلے نار فون استعمال کرتے ہوئے ایس ایم ایس کا جواب نہیں آیا لیکن یو فون کے ایک نمبر سے یہ ایس ایم ایس کیا تو فوراً جواب آ گیا۔ میری حیرت کی انتہا نہیں یہ دیکھ کر کہ میرے نمبر سے ٹیلے نار اور وارد کے ایک ایک نمبر کے علاوہ موبی لنک کے 8 نمبر ایشو کیے جا چکے ہیں۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ (وارد اور ٹیلی نار کو چھوڑ کر) میں نے موبی لنک کا صرف ایک نمبر لیا تھا کسی زمانے میں اور وہ بھی بہت عرصے سے استعمال نہیں کر رہا۔
میرا خیال فوراً اس دکاندار کی جانب گیا ہے جسکو میں نے اپنے کارڈ کی کاپی دی تھی۔ لگتا ہے ان صاحب نے میرے کارڈ کی کاپی کا خوب فراخدلانہ استعمال کیا ہے۔
اب میں اس بات پر بھی سوچ رہا ہوں کہ نہ جانے اور کتنی جگہوں پر میرے کارڈ کا ناجائز استعمال ہو رہا ہے اور کب قانون کا کوئی پھندا کسی ایسے ہی چکر میں میں میرے گلے میں پڑتا ہے۔
فی الحال تو میں نے موبی لنک کی ویبسائٹ پر فوری طور پر یہ سب نمبر بند کرنے کی گزارش کی ہے لیکن لگتا نہیں کہ اسکا کوئی جواب آئے یا اسپر عمل ہو۔ شائد انکی فرنچائز پر جانے اور کافی مغز ماری کے بعد ایسا ممکن ہو سکے۔ دیکھتا ہوں کہ کیا، کیا جا سکتا ہے۔آپ اپنی تسلی بھی کر لیں۔ اور ہاں، ڈفر بھائی بہت بہت شکریہ۔ جیل سے بچ گیا تو آپکو زبردست ڈنر کراؤنگا، کینبرا کی فوڈ سٹریٹ میں۔
اپڈیٹ: اس سروس کے اجراء سے متعلق خبر یہاں دیکھئے۔ اسکے علاوہ میری ناقص معلومات کے مطابق یہ سروس زونگ اور یو فون پر کام کر رہی ہے، ٹیلے نار اور وارد میں شائد نہیں۔ اسکے علاوہ کچھ لوگوں کو ایک سے زیادہ مرتبہ کوشش کے بعد کامیابی ہوئی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض لوگوں کے کنکشن موجود تھے جبکہ رپورٹ میں نہیں آئے لیکن زیادہ تر لوگوں کی رپورٹ انکی توقع سے زیادہ نمبروں کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان متفرق نتائج کی وجہ شائد اس سروس کا ٹیسٹ فیز میں ہونا ہو ۔ مزید کچھ لوگوں کے نتائج دیکھنے کیلئے عامر کا بلاگ دیکھئے۔
RSS - Posts