صاحبو یہ بات ہی کچھ ایسی اہم ہے کہ معمول سے ہٹ کر مجھے پوسٹ کرنا پڑ رہی ہے۔
ابھی کچھ دیر پہلے فیس بُک پر ڈفر کی ایک تجویز دیکھی کہ اپنا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نمبر، بغیر کسی وقفے یا ڈیش کے لکھ کر 668 پر بھیجیں۔ جواباً ایس ایم ایس آپکو بتائے گا کہ اس شناختی کارڈ نمبر پر کتنے موبائل نمبر ایشو کیے جا چکے ہیں۔ اپڈیٹ: یہی معلومات پی ٹی اے کی ویبسائٹ پر  بھی لی جا سکتی ہیں۔
ٹیلے نار فون استعمال کرتے ہوئے ایس ایم ایس کا جواب نہیں آیا لیکن یو فون کے ایک نمبر سے یہ ایس ایم ایس کیا تو فوراً جواب آ گیا۔ میری حیرت کی انتہا نہیں یہ دیکھ کر کہ میرے نمبر سے ٹیلے نار اور وارد کے ایک ایک نمبر کے علاوہ موبی لنک کے 8 نمبر ایشو کیے جا چکے ہیں۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ (وارد اور ٹیلی نار کو چھوڑ کر) میں نے موبی لنک کا صرف ایک نمبر لیا تھا کسی زمانے میں اور وہ بھی بہت عرصے سے استعمال نہیں کر رہا۔
میرا خیال فوراً اس دکاندار کی جانب گیا ہے جسکو میں نے اپنے کارڈ کی کاپی دی تھی۔ لگتا ہے ان صاحب نے میرے کارڈ کی کاپی کا خوب فراخدلانہ استعمال کیا ہے۔
اب میں اس بات پر بھی سوچ رہا ہوں کہ نہ جانے اور کتنی جگہوں پر میرے کارڈ کا ناجائز استعمال ہو رہا ہے اور کب قانون کا کوئی پھندا کسی ایسے ہی چکر میں میں میرے گلے میں پڑتا ہے۔
فی الحال تو میں نے موبی لنک کی ویبسائٹ پر فوری طور پر یہ سب نمبر بند کرنے کی گزارش کی ہے لیکن لگتا نہیں کہ اسکا کوئی جواب آئے یا اسپر عمل ہو۔ شائد انکی فرنچائز پر جانے اور کافی مغز ماری کے بعد ایسا ممکن ہو سکے۔ دیکھتا ہوں کہ کیا، کیا جا سکتا ہے۔آپ اپنی تسلی بھی کر لیں۔ اور ہاں، ڈفر بھائی بہت بہت شکریہ۔ جیل سے بچ گیا تو آپکو زبردست ڈنر کراؤنگا، کینبرا کی فوڈ سٹریٹ میں۔

اپڈیٹ: اس سروس کے اجراء سے متعلق خبر یہاں دیکھئے۔ اسکے علاوہ میری ناقص معلومات کے مطابق یہ سروس زونگ اور یو فون پر کام کر رہی ہے، ٹیلے نار اور وارد میں شائد نہیں۔ اسکے علاوہ کچھ لوگوں کو ایک سے زیادہ مرتبہ کوشش کے بعد کامیابی ہوئی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض لوگوں کے کنکشن موجود تھے جبکہ رپورٹ میں نہیں آئے لیکن زیادہ تر لوگوں کی رپورٹ انکی توقع سے زیادہ نمبروں کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان متفرق نتائج کی وجہ شائد اس سروس کا ٹیسٹ فیز میں ہونا ہو ۔ مزید کچھ لوگوں کے نتائج دیکھنے کیلئے عامر کا بلاگ دیکھئے۔

صاحبو خبر ہی کچھ ایسی ہے کہ فدوی ایک بار پھر اپنی hibernation سے باہر آنے پر مجبور ہو گیا ہے ورنہ لوگوں نے تو اپنی سی کر کے دیکھ لی بلکہ کچھ “براہِ راست” قسم کے نامے تو میرے نام یہاں اور یہاں بھی آئے (اور شائد کہیں اور بھی آئے ہوں لیکن دیکھ نہ پایا) کہ جنکا میں بہرحال تہہ دل سے مشکور ہوں کہ “آئے تو سہی،  بر سرِ الزام ہی آئے”۔۔۔

حضور اتنا تو آپ بھی جانتے ہیں کہ لینکس اپنا ذوق ہے اور فوٹوگرافی اپنا شوق۔ اب اگر یہ دونوں یکجا ہو جائیں تو کیا صورت بنے گی؟ تصور ہی بہت حسین ہے۔ خیر خبر کچھ یوں ہے کہ کچھ منچلوں (اور یہ ایسے ویسے لوگ نہیں سٹینفورڈ یونیورسٹی کے محقق ہیں) نے ایک اوپن سورس ڈیجیٹل کیمرا بنانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ چونکہ مارکیٹ میں موجود کیمرے اس سے بہت زیادہ کرنے کے اہل ہیں جو وہ اسوقت کر رہے ہیں، اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی ایسا کیمرا بنایا جائے جو پروگرام کیا جا سکے۔ یعنی فوٹوگرافر حضرات اپنی مرضی سے کیمرے میں تبدیلیاں کر سکیں۔ شٹر سپیڈ، اپرچر، آئی ایس او سپیڈ، وغیرہ وغیرہ ایسی کئی چیزیں ہیں جن پر فوٹوگرافر مکمل کنٹرول چاہتے ہیں اور اس کیمرے میں وہ ایسا بہت کچھ کر پائیں گے۔

تفصیلات میں جائیں تو کئی دلچسپ باتیں ملتی ہیں۔ مثلاً اس کیمرے کی چیدہ چیدہ خصوصیات میں سے سب سے نمایاں اسکا لینکس پر چلنا ہے۔ عدسے کینن کے جَڑے گئے ہیں جبکہ سینسر نوکیا این 95 فون کا ہے۔ باقی بھی کچھ “کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا” والا معاملہ ہے۔ نام اس کا فرینکن کیمرا ہے جو اسکی بدصورتی کو مد نظر رکھ کر رکھا گیا ہے لیکن اہل نظر کے قریب تو شائد یہ دنیا کا خوبصورت ترین کیمرا ہو گا۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہوتا ہے (جسکی ناکامی کی بہرحال کوئی وجہ بھی نہیں)، تو یقینا یہ فوٹوگرافی کی دنیا میں ایک انقلاب ہو گا اور کینن اور نائکون وغیرہ کیساتھ شائد کچھ ایسا ہی ہو گا جیسا اب مائکروسوفٹ کی ساتھ ہو رہا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ یہ کیمرا استعمال کون کریگا؟ تو صاحب فی الحال تو یہ کیمرا کمپیوٹیشنل فوٹوگرافی کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر بنایا جا رہا ہے لیکن وہ دن بھی دور نہیں جب شوقیہ اور پیشہ ور فوٹوگرافر حضرات (اور یقیناً خواتین بھی) اسے اپنے ہاتھ میں لینا پسند کریں گے۔اور ایسا کیوں نہ ہو کہ ڈیجیٹل فوٹو گرافی کی دنیا میں تیز تر تبدیلیاں آنے کے ساتھ ساتھ ہر فوٹوگرافر بہرحال کسی حد تک کمپیوٹیشنل فوٹوگرافر ہی ہے۔

ایک دلچسپ بات یہ کہ اس کیمرے کی ایک اہم صلاحیت ایچ ڈی آر بنانا بتائی گئی ہے (یہ مخفف ہے ہائی ڈائنامک رینج کا اور سادہ الفاظ میں ایک ایسی تصویر جو کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ روشنی میں موجود تفصیلات کو بیک وقت محفوظ کر سکے)۔ یہ کام تاوقت کمپیوٹر سوفٹوئر کی مدد سے ہی ممکن ہے لیکن کیا ان صاحبان کو یہ علم نہیں کہ پینٹکس کے کچھ ماڈل ( اور شائدکچھ اور کیمرے بھی) یہ کام پہلے ہی کرنے کے قابل ہیں؟ دوسری حیرت انگیز بات اسمیں نوکیا فون کے ننھے منے سینسر کا استعمال ہے جبکہ پیشہ ور فوٹوگرافر تو فل فریم کیمرا سے کم پر راضی ہی نہیں ہوتے۔ شائد مستقبل میں اسمیں بڑے سائز کا سینسر استعمال کرنے کا ارادہ ہو۔ بہرحال اسکے علاوہ بھی کئی کام ایسے ہیں جو یہ کیمرہ سر انجام دے سکے گا اور یہی اسکا مقصد بھی ہے کہ فوٹو گرافر حضرات اپنا زیادہ وقت کمپیوٹر کی سکرین کی بجائے کیمرے کے عدسے کے پیچھے گزاریں۔ اسکا مطلب شائد یہ بھی ہے کہ اسوقت کے مقبول ترین فوٹو ایڈیٹنگ سوفٹوئر یعنی ایڈوبی فوٹو شاپ کی دکان بھی بند ہونے والی ہے (گرچہ یار لوگ تو ابھی بھی گمپ اور گمپ شاپ سے کام چلا ہی لیتے ہیں اور لینکس میں تو یہ آزادی پرانی بات ہے)۔ یہ بہت سوں کیلئے اچھی خبر یوں بھی ہے کہ پاکستان میں تو سوفٹوئر کی چوری کوئی اتنا بڑا جرم نہیں سمجھا جاتا لیکن اُنکے دل سے پوچھیں جو فوٹو شاپ خرید کر استعمال کرتے ہیں۔ گرچہ یہ کیمرا مارکیٹ میں آتے آتے یقیناً کچھ وقت لگے گا لیکن بہر حال خبر تو اچھی ہے نا؟

ارے ہاں، اگر آپ نے یہ تحریر یہاں تک پڑھ لی ہے تو گمان غالب ہے کہ آپ ایک انتہائی فارغ (یعنی “ویلے”) انسان ہیں۔ تو لگے ہاتھوں میرا تصویری بلاگ بھی دیکھتے جائیے اور فلکر اکاونٹ بھی۔ آپکی آراء کا انتظار رہیگا۔

صاحبو آپکے ساتھ کبھی ایسا ہوا کہ گویا کوئی آندھی آئی ہو اندر ہی اندر۔ جھکڑ چلے ہوں زوردار اور اس طوفان نے اندر کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہو۔ پرانے خیالات کے بوڑھے برگد کہ جنکی شاخوں سے خود ساختہ فرسودہ روایات لٹک رہی تھیں، جڑوں سے اکھڑ گئے ہوں اور پھر ایک لمحہ سکون کا، خاموشی کا جو ایک نوید ہو کسی الہام کی، کسی نئے خیال کی، کسی نئی تخلیق کی، گویا ایک نئی زندگی کی۔ بالکل ایسے جیسے جنگل میں لگنے والی آگ کے بعد جل کر سیاہ ہوئے پیڑ پودوں پر ٹھنڈے سبز رنگ کی نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ نہیں صاحب اپنے ایسے نصیب کہاں۔ چھوٹے موٹے طوفان تو آتے ہیں لیکن ایسا سونامی کبھی نہیں آیا۔ اور کبھی آنے کی کوشش بھی کی تو لاشعوری کوشش سے اسکا گلا ہی گھونٹ دیا کہ بنے بنائے گھونسلے کو چھوڑنا، نئی ابتدا کرنا مشکل کام ہے اور میری سہل پسندی اسکی متحمل نہیں ہو سکتی یا کم از کم میں نے کبھی یہ آزمایا نہیں۔ ہاں البتہ انھی چھوٹی چھوٹی لہروں سے ہی تبدیلی لانے کی کوشش کی ہے اور وہ بھی اپنے مطلب کی تبدیلی۔
بہرحال کچھ ایسا ہی لمحہ تھا جب گویا کسی نے میرے دماغ میں اس خیال کو کِیل کی طرح ٹھونک دیا کہ دنیا میں جو کچھ مجھے اب تک حاصل ہوا ہے وہ میرے زورِ بازو کی پیداوار نہیں ہے۔ ایسا تو خیر پہلے بھی نہیں سوچا تھا لیکن اب بہرحال میں شدت سے یہ محسوس کرنے لگا کہ جہاں میں آج ہوں قطع نظر اس سے کہ یہ اچھی جگہ ہے یا بری، اسمیں کتنے ہی زیادہ، بلکہ شائد سارے کے سارے، بیرونی عوامل ہیں۔ مثلاً اگر مجھے یورپی یونین کی طرف سے بیرونِ ملک تعلیم کے لئے وظیفہ ملا تو اسمیں میرا کچھ کمال نہیں تھا۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ تک رسائی، وقت کی فراغت، انگریزی میڈیم سکول کی تعلیم وہ سب باتیں تھیں جنھوں نے اس وظیفے کے حصول میں مدد کی۔ اب کمپیوٹر اور انٹرنیٹ تک رسائی پاکستان میں ہر شخص کو تو کیا ہر یونیورسٹی کے ہر طالبعلم کو بھی میسر نہیں۔ پرائیویٹ انگریزی میڈیم سکول میں تعلیم بھی کم ہی بچوں کا نصیب ہے اور وقت کی فراغت بھی اسلئے تھی کہ گھر چلانے کی ذمہ داری مجھ پر نہیں تھی۔ شائد ایسی ہی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں جنکی وجہ سے نہایت ذہین، محنتی اور اچھے طالبعلم زندگی میں آگے نہیں بڑھ پاتے اور حالات کا جبر انھیں معمولی نوکریاں یا چھوٹا موٹا کاروبار کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
بہرحال میری یہ بات کوئی غیر معمولی یا انوکھی بات نہیں بلکہ ہم سب جانتے ہیں اور یقیناً میرے برعکس بہت سے لوگوں کو تو اسکا ذاتی تجربہ بھی ہو گا۔ لیکن میں دراصل اس سے آگے، کچھ اور کہنا چاہتا ہوں۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ملنے والی ایسی بہت سی favors سے مجھے ڈر سا لگنے لگا ہے۔ جوں جوں اسکی نعمتیں مجھے مل رہی ہیں توں توں میرے ڈر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا وجہ ہے؟ میں ہی کیوں؟ وہ کیا کام لینا چاہتا ہے؟ گویا یہ کیسا امتحان ہے کہ جسکا جواب تو چھوڑیں، مجھے تو سوال تک نہیں معلوم۔۔۔ یا شائد سوال سامنے ہے لیکن اسکو پڑھنے کا، غور کرنے کا وقت نہیں یا موڈ نہیں، نیت نہیں۔ اور اگر ایسا ہے تو یہ تو اور بھی قابلِ فکر بات ہے۔ میری نالائقی سمجھیے کہ پیسے لے کر جیب میں ڈال لئے، یہ نہیں پوچھا کہ کام کیا کرنا ہے۔ اب جب وہ پوچھے گا کہ وہ کام کیا جسکے لئے پیسا دیا تھا، ذرائع دیے تھے، تو میں کیا جواب دونگا؟ کیا یہ کہونگا کہ مجھے تو اپنی job description کا ہی علم نہیں تھا، میں تو سمجھا تھا کہ تُو رحیم و کریم ہے، سب کو دے رہا ہے، سو مجھے بھی دے دیا۔ یا کیا یہ کہونگا کہ مجھ ہی میں کوئی سرخاب کے پر لگے تھے کہ یہ نعمتیں میں نے اپنا حق سمجھ کر رکھ لیں؟ لیکن یہ تو مجھے بھی علم ہے کہ ایسا کچھ نہیں۔ دن گزر رہے ہیں، گھڑی کی ٹِک ٹِک مسلسل چل رہی ہے اور میری پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب مجھے کچھ کچھ سمجھ آ رہا ہے کہ کیوں سدھارت کپل وستو کا تخت چھوڑ کر پیپل کے درخت تلے جا بیٹھا تھا جہاں اسے نروان ملا، اللہ کے نیک بندے کیوں اتنے minimalist ہوتے ہیں۔ لیکن بہرحال کیا یہ میری حد درجہ نالائقی نہیں کہ سوالات کا ہی علم نہیں، جوابات تو بعد کی بات ہے؟ یقیناً پرچہ حل کرنے کے لئے بھی تو وقت چاہئے نا۔ اگر کوئی یہ کہے کہ بس یار ایسے ہی ٹھیک ہے تو نہیں، ایسا ہرگز ٹھیک نہیں۔ وہ رحیم و کریم تو ہے، منصف بھی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں برابر ہوں جاؤں کسی ایسے شخص کے جو جوابات لکھ رہا ہو، مجھ سے کئی گنا زیادہ بڑی ذمہ داریاں نبھا رہا ہو، باوجود اسکے کہ اسکے پاس مجھ سے کم ذرائع ہوں۔ تو اسکو دیکھ کر کہ اللہ میاں نے جو مجھے دیا ہے، یقیناً میرا کام تو بہت ہی مشکل ہونا چاہئے۔ آہ لیکن کیا کیجئے۔ مجھے علم ہی نہیں کہ کرنا کیا ہے، جانا کہاں ہے۔ یا شائد علم تو ہے لیکن سامنا کرنے کا یارا نہیں۔ لیکن ٹھہریے صاحب، اس سے پہلے کہ آپکو مجھ پر ترس آئے یا آپ مجھ سے ہمدردی کا اظہار کریں، مجھے اس کا حل بتائیے۔ کیا آپکے ساتھ ایسا ہوا ہے اور اگر ہاں تو آپ نے کیا کیا ہے؟ مجھے انتظار رہے گا۔

صاحبو اگر آپ میری طرح بد قسمت ہیں کہ مائکروسوفٹ ونڈوز سے آپکی جان چھڑائے نہیں چھوٹتی تو یقیناً اور بہت سے شکووں کے علاوہ ایک شکوہ آپکو رفتار کا بھی ہو گا۔ اب اگر دہرے پراسیسر اور ایک گیگا ریم کے ساتھ بھی کمپیوٹر مر مر کر چلے تو شکوہ تو جائز ہوا نا؟ ایسے میں اگر تقابل کیا جائے لینکس کے ساتھ تو عموماً لینکس نظام مثلاً ابنٹو یا ڈیبین تیز رفتار ہوتے ہیں۔ اس بات کا یقین مجھے پہلے بھی تھا لیکن ابنٹو کے تازہ نسخے نے اس یقین کو مزید پختہ ہی کیا ہے۔

لیکن اگر آپکو اندازہ نہیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں تو ابنٹو کا نیا نسخہ 9.04 المعروف جانٹی جیکالوپ آزمائیے۔ گھبرائیے نہیں۔ اسمیں گھاٹا کوئی نہیں کہ ونڈوز کے برعکس ایک تو یہ نظام مفت ہے پھر لائیو سی ڈی یا یو ایس بی کی مدد سے اپنے کمپیوٹر میں کسی قسم کی تبدیلی کیے بغیر اس نظام کو آزما سکتے ہیں (ویسے میں نے تو اس مرتبہ تنصیب بھی سی ڈی کی بجائے یو ایس بی سے، بذریعہ یونیٹ بوٹن، کی ہے)۔ ہاں مستقل بنیادوں پر استعمال کیلئے بہتر ہے کہ تنصیب یاانسٹالیشن کر لیں۔ ویسے آپ میری طرح اپنے کمپیوٹر کو دہریہ بھی بنا سکتے ہیں یعنی وہ ونڈوز اور لینکس ابنٹو دونوں نظاموں پر چلے ۔ رہی بات ابنٹو کے حصول کی تو آپ اسے انٹرنیٹ پر سے مفت اتار سکتے ہیں اگر آپ تیز رفتار انٹرنیٹ کے مالک ہیں تو۔ دوسری صورت میں کینانکل کو لکھ بھیجئے، وہ آپکو مفت سی ڈی بھیج دیں گے گرچہ چند ہفتوں کا انتظار کرنا پڑے گا۔

ابنٹو سے اب میرے تعلق کو خاصا عرصہ ہو گیا ہے، ٹھیک سے یاد نہیں لیکن دو برس سے سوا ہونے کو آئے ہیں۔ اسی موضوع پرگزشتہ تحاریر آپ یہاں، یہاں اور یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ میرے ابنٹو کے استعمال کی چند ایک وجوہات ہیں، مثلاً:

ابنٹو مفت ہے، لینکس کی تقریباً تمام اقسام مفت ہی ہیں۔ آپ قانونی طور پر انکو انٹرنیٹ سے حاصل کر سکتے ہیں، تقسیم کر سکتے ہیں، بیچ سکتے ہیں۔

ابنٹو کا ہر چھ ماہ بعد بہتر، نیا نسخہ منظر عام پر لایا جاتا ہے۔ اس چھ ماہی نسخے کے علاوہ ہر تین سال بعد ایک طویل مدتی نسخہ لایا جاتا ہے جو ان لوگوں کیلئے ہے جو زیادہ مہم جو فطرت نہیں رکھتے اور تین سال تک کوئی بڑی تبدیلی نہیں چاہتے۔

ابنٹو اور لینکس کی دیگر اقسام پرانے کمپیوٹرپر ونڈوز کی نسبت بہتر رفتار کی حامل ہیں۔ ان اقسام میں سے بھی چند ایک خصوصیت کے ساتھ پرانے کمپیوٹروں کیلئے بنائی جاتی ہیں۔ ایک اچھی مثال ابنٹو کی ایک قسم زبنٹو کی ہے۔

وائرس وغیرہ کا کوئی جھنجٹ نہیں۔

لوگ رضاکارانہ طور پر آپ کی مدد کرتے ہیں، مثلاً اپنے مکی بھائی نے ایک پورا فورم اس مقصد کے لئے ترتیب دے رکھا ہے، لینکس پاکستان والے بھی مدد کرتے ہیں اور ابنٹو کے اپنے فورم تو موجود ہیں ہی۔ لوگ آپکی مدد کرینگے لیکن آپ میں شکر گزاری، صبر، اپنی بات بہتر طریقے سے بیان کرنے کی صلاحیت اور کچھ سیکھنے کی لگن ہونا شرط ہے۔ سیکھ کر اوروں کو سکھانے کی لگن تو سونے پر سہاگہ ہے۔

تقسیم اور تبدیلی کی آزادی کی وجہ سے لینکس کی بیشمار اقسام ہیں۔ خود ابنٹو بھی لینکس کی ہی ایک قسم ہے لیکن اسکی بھی آگے کئی اقسام ہیں۔ اس سب کا فائدہ یہ ہے کہ آپ اپنے مطلب کی چیز ڈھونڈ لیتے ہیں۔ مثلاً اب میں اپنے سفری، بلکہ بستری کمپیوٹر کیلئے ابنٹو کا یہ نسخہ آزمانے کا سوچ رہا ہوں۔

مختصر یہ کہ اس سب میں فائدہ ہی فائدہ ہے نقصان کوئی نہیں۔ آزمائش شرط ہے۔ آپکے تجربات کا انتظار رہیگا۔

صاحبو آج ایک تحریر پڑھی تو ایک پرانی بات یاد آ گئی۔ اپنے جرمنی کے ایک سالہ قیام کے دوران جو چند اساتذہ بلکہ جو چند جرمن مجھے پسند آئے ان میں ایک پروفیسر وولفگینگ بوکلمین بھی تھے۔ دھیما مزاج، شرمیلی مسکراہٹ، لمبا قد اور سب سے بڑھ کر انکساری۔ ہم سب شاگردوں سے ایسے بات کرتے جیسے وہ شاگرد ہوں اور ہم استاد۔ ہمارے ہاں تو کالج یا جامعہ کے ہر استاد کو پروفیسر کہہ دیا جاتا ہے بلکہ نجومی یا ہومیو ڈاکٹر بھی اپنے نام کے ساتھ پروفیسر لکھ لیتے ہیں لیکن مغرب میں ایسا نہیں ہوتا۔ بندہ کافی سینئر ہو کر اور کئی پاپڑ بیل کر پروفیسر بنتا ہے۔ پروفیسر بوکلمین کا کچھ کام آپ گوگل سکالر میں انکے نام کیساتھ دیکھ سکتے ہیں۔ ان جیسے سینئر پروفیسر کی جو بات مجھے پہلے کچھ دن عجیب لگی بلکہ کوفت کا باعث بنی، وہ انکا تکیہ کلام تھا اور اس تکیہ کلام کے پیچھے یقیناً انکا لاشعور یا نفسیاتی حالت تھی جو شائد عادت میں ڈھل گئی تھی۔ قصہ کچھ یوں کہ ہم طلبا کے ہر سوال کے جواب کا آغاز وہ “آئی ایم ناٹ شیور بٹ آئی تھنک۔۔۔” سے کرتے تھے، یعنی مجھے مکمل علم تو نہیں لیکن میرا خیال کچھ یوں ہے۔ جواب دینے کے بعد یا اس سے پہلے وہ کلاس کے باقی طلبا سے بھی انکی رائے طلب کرتے تھے اور ہم اپنی کم علمی کے باوجود پھول پھول کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ بہرحال پہلے پہل تو مجھے بڑا عجیب لگا کہ عجیب استاد ہے، کسی بات کا مکمل علم ہی نہیں رکھتا۔ لیکن جوں جوں وقت گزرا، مجھے اس بات کی گہرائی کا احساس ہوا۔ اوروں کا تو نہیں پتہ، اپنی بات کرتا ہوں۔ یقین کیجئے مجھے تو یہ کہنا کہ مجھے کسی بات کا علم نہیں یا مکمل علم نہیں، بہت ہی مشکل ہے۔ انا آڑے آ جاتی ہے، اندر کھڑے بت لرزنے لگتے ہیں، پسینہ آ جاتا ہے، سانس چڑھ جاتی ہے اور پھر میں بڑی ڈھٹائی سے دعویٰ کر دیتا ہوں کہ نو، آئی ایم شیور، مجھے یقین ہے کہ میرا علم کامل ہے، درست ہے۔۔۔ سچ پوچھیں تو شائد یہی وجہ ہے کہ میرا علم بھی نہایت محدود ہے۔ ویسے بھی اگر بندہ یہ سمجھ لے کہ وہ بہت کچھ جانتا ہے تو کھڑکی ہی بند ہو جاتی ہے۔ شائد یہی میرا المیہ ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر بندہ یہ سمجھنے لگ جائے کہ وہ سب جانتا ہے یا عقل کُل ہے تو یا تو وہ بندہ نہیں، خدا ہے اور یا پھر وہ کچھ بھی نہیں جانتا۔ خدائی کا دعویٰ تو میں ہرگز نہیں کرتا لیکن دوسری صورت ہضمنے کیلئے بہت بڑا جگر چاہیئے جو فی الحال میرے پاس نہیں۔

صاحبو آپ نے یقیناً سنا ہو گا کہ نماز یا دعا میں رقت طاری ہو جائے تو یہ گھڑی شرفِ قبولیت کی ہوتی ہے۔ کیا آپ نے اس پر غور کیا کہ ایسا کیوں ہے؟ فدوی کے اندازے کے مطابق تو اس لئے کہ جب بندہ اللہ میاں کے حضور بے اختیار رو پڑتا ہے تو گویا اپنی اوقات میں آ جاتا ہے، اسکی ساری اکڑفوں نکل جاتی ہے اور اسکو اپنی بیچارگی کے کامل احساس کی بدولت رونا آ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو بندے کا یہ احساس پسند آتا ہے کہ غرور، تفاخر صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو زیب دیتا ہے۔ جاننے اور نہ جاننے کے درمیان ایک طویل بلکہ شائد لا متناعی فاصلہ ہے۔ مکمل علم تو اللہ کی ذات کو ہے، وہ اس میں سے جتنا چاہتا ہے، اپنے بندے کو دیتا ہے۔ اور جسکو دیتا ہے، وہ بندہ اس علم کے بوجھ تلے دب کر کہتا ہے “آئی ایم ناٹ شیور”۔

Next Page »