باتیں کچھ اُردو کی۔۔۔
صاحبو بلاگستان میں بات چلی ہے اردو کی ترقی کی ۔ میری اس تحریر کی وجہ بھی ابو شامل صاحب ہی ہیں (یعنی دعاؤں یا بددعاؤں کا رخ ادھر ہی رکھیے) ۔ نہیں ایسا نہیں کہ یہ پہلی مرتبہ ہے اور نہ ہی آخری مرتبہ ہو گی انشااللہ۔ اب بڑھاپے کا ایک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جذبہ مر جاتا ہے، یا کم از کم دھیما ضرور پڑ جاتا ہے۔ میں نے کچھ لوگوں کو اس بارے خاصا پر جوش دیکھا تو اپنے بڑھاپے کا احساس ہونے لگا۔ ایک فائدہ البتہ یہ کہ توانائیوں کی جگہ تجربہ لے لیتا ہے۔ بجائے طاقت صرف کرنے کے آپ اپنی ترجیحات کو ذہن میں رکھتے ہیں، مطلوبہ نتائج کو تولتے ہیں اور ممکنہ لائحہ عمل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ سب ایک ترتیب سے نہیں ایک دائرے میں ہوتا ہے اور بسا اوقات ترجیحات ممکنات کے تابع ہوتی ہیں اور مطلوبہ نتائج کی بجائے متوقع نتائج کی بنا پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ جوانی میں ایسا نہیں ہوتا۔ یا یوں کہہ لیجیے بڑی حد تک نہیں ہوتا۔
دوستوں نے ایک بات کی کمپیوٹر پر اردو کو لکھنے، پڑھنے، دیکھنے کے مسائل کی۔ یہ بات بھی طے پائی کہ ان سب مراحل کو آسان بنایا جائے تا کہ نوواردوں کو ان مسائل سے پریشانی نہ ہو اور وہ گھبرا کر پلٹ نہ جائیں۔ جب فدوی نے بلاگنگ شروع کی تھی تو چند دوستوں نے جن میں قدیر، نعمان، مکی وغیرہ ( اور یقیناً اور دوست بھی کہ جنکے نام میں بھول رہا ہوں اور جن سے معافی کا خواستگار ہوں) قابل ذکر ہیں، تکنیکی مدد دی تھی۔ بعد کے عرصے میں بلال کا کام ہمیشہ بہت مددگار ثابت ہوا۔ میری طرح ٹیکنالوجی سے نابلد دوسرے حضرات کی مدد کرنے یقیناً لوگ سامنے آئے ہونگے لیکن یہ انفرادی حیثیت میں ہی ہوتا رہا۔ اس ضمن میں، میں لیکن بہرحال چند گزارشات گوش گزار کرنا چاہتا ہوں جو یقیناً پہلے بھی کئی مرتبہ کئی دوست کہہ چکے ہیں لیکن یہاں دہرانے میں میں مضائقہ نہیں، کم از کم میری دانست میں نہیں۔
پہلے تو ایک مختصر سا reality check۔ گرچہ تلخ ہی سہی لیکن حقیقت یہی ہے کہ اردو کا انگریزی سے مقابلہ کوئی نہیں ہے۔ بیرون ملک چھوڑیں خود پاکستان میں بھی یہ صرف رابطے کی زبان (اور کم ہی لوگوں کی مادری زبان) ہے۔ گرچہ صورتحال تبدیل ہو رہی ہے کہ مثلاً والدین کے ساتھ سرائیکی بولنے کے باوجود میں اور میرے بہن بھائی اپنے بچوں سے اردو ہی میں بات کرتے ہیں۔ میرے صاحبزادے تو کچھ درمیان کی چیز ہی سیکھ رہے تھے کہ اردو انگریزی دونوں کانوں میں پڑ رہی تھیں۔ خیر اب منے میاں پاکستان میں ہیں اور امید ہے کہ بہت جلد اپنی “اصل” پر آ جائیں گے، یعنی اردو، سرائیکی اور شاید کچھ پشتو کی بھی، سُدھ بدھ ہو جائیگی۔
سو جناب اردو کا مقدمہ صرف انٹرنیٹ پر غیر موجودگی نہیں بلکہ پاکستان میں بھی ایک اقلیتی زبان کے طور پر ہے۔ دفتری زبان انگریزی ہی ہے اور اگلے کئی برس صورتحال تبدیل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی کہ پاکستان کے معاشرے میں انگریزی ایک زبان نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی، ایک طبقہ اور اس طبقے کا ایک ہتھیار ہے۔ دل کے کچھ پھپھولے یہاں پھوڑے تھے، یہ بھی دیکھ لیں۔ اس سے عام عوام کو بےخبر اور اختیار سے دور رکھنے کا کام لیا جاتا ہے۔ سو مسئلہ تکنیکی نہیں سیاسی اور سماجی ہے۔ بہرحال بات نکلے گی تو بڑی دور تلک جائے گی۔ فی الوقت میں آپکے منہ کا مزہ خراب نہیں کرنا چاہتا۔ کچھ نہ کچھ مقابلہ تو کیا ہی جا سکتا ہے اور اسی سلسلے میں چند پریشان خیالات کو یہاں اکھٹا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
1. مواد کی تیاری:
ہم مانیں یا نہیں لیکن بہت سے لوگ اپنے کمپیوٹروں پر اردو لکھنے سے پہلے اردو پڑھنا چاہیں گے۔ لکھنے کا مسئلہ اکثر کچھ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، خصوصا اسوقت جب بہت سے لوگوں مثلاً بلال اور اداروں مثلاً کرلپ نے اسکے بہت آسان حل نکال چھوڑے ہیں۔ پڑھنے کا معاملہ میرے نزدیک زیادہ سنجیدہ ہے اور لوگوں کو اردو پڑھنے پر راغب کرنے کیلئے content یا مواد (یعنی اچھے معیار، مقدار اور ہمہ گیر/ موضوعاتی مواد کا ہونا) بہت ضروری ہے۔ یہ مواد وکیپیڈیا کے خزانے کا اردو ترجمہ کر کے تخلیق کیا جا سکتا ہے۔ یہ مواد انفرادی یا اجتماعی بلاگ لکھ کر بھی بنایا جا سکتا ہے ۔ یہ کام اردو یا دیگر زبان کی کتابوں کو مروجہ اصولوں کے مطابق ڈیجیٹل حالت (یعنی یونی کوڈ) میں لانے کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ کام حکومت اور غیر حکومتی اداروں کو اس بات پر راضی یا مجبور کر کے بھی کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹس کا بیشتر یا کم از کم کچھ حصہ اردو میں رکھیں۔ یہ مواد یوٹیوب پر اردو زبان میں روزمرہ ٹیکنالوجی مثلاً کمپیوٹر، موبائل فون، بینکنگ وغیرہ سے متعلق اسباق یا ٹیوٹوریلز بنا کر بھی تخلیق کیا جا سکتا ہے۔ یہ اردو سے متعلق مختلف حکومتی اداروں کو اپنے دائرے میں لانے اور انھیں زیادہ پیداواری، زیادہ ذمہ دار اور زیادہ جوابدہ بنا کر بھی کیا جا سکتا ہے۔ ویب ٹو مثلاً یو ٹیوب، فلکر، فیس بُک، ٹویٹر وغیرہ کا بہتر استعمال بہت ضروری اور فائدہ مند ہے۔ میں آنلائن سوشل نیٹورکنگ کا بہت زیادہ دلدادہ نہیں لیکن بہرحال لنکڈ اِن، فلکر، گوگل بز، یوٹیوب وغیرہ استعمال کرتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ لوگوں تک یہ بات پہنچ سکے کہ کمپیوٹر پر اردو لکھنا پڑھنا کوئی انہونی بات نہیں۔ آپ بھی ایسا کر سکتے ہیں اور جو کر رہے ہیں اسے زیادہ بہتر بنا سکتے ہیں۔ میرے ناقص خیال میں ان سب باتوں میں سے ہر ایک پر کچھ نہ کچھ کام ہو رہا ہے اور صرف اس میں منظم طریقے سے بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
2. منصوبہ سازی:
پلاننگ کا کردار نہایت اہم ہے۔ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں؟ اردو کی ترویج۔ لیکن یہ دو دنوں میں ہونے والا کام تو ہے نہیں، شائد چند نسلیں لگیں اس کام میں۔ تو اس مقصد کو مقصدِ اعلیٰ بناتے ہوئے چھوٹے چھوٹے سنگ میل ترتیب دیں اور ان تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ ہر منصوبے یا پراجیکٹ کی ایک شروعات ہوتی ہے، ایک یا چند گنے چنے مقاصد، ان کو پورا کرنے کے لیے ذرائع، اور خاتمے کا ایک وقت۔ میں پراجیکٹ مینجمنٹ پڑھ بلکہ تھوڑا بہت پڑھا بھی چکا ہوں اور لاگ فریم سے بھی واقفیت ہے۔ چند ایک پراجیکٹس ، دفتری بھی اور ذاتی/ رضاکارانہ بھی، بنانے اور چلانے میں شامل بھی رہا ہوں اسلیے اس کی اہمیت سے واقف ہوں۔ اس ضمن میں “ک” کو ذہن میں رکھیں: یعنی:
الف) کون۔۔۔
ب) کس وقت۔۔۔
ج) کس جگہ۔۔۔۔
د) کس طریقے سے۔۔۔۔
ہ) کیا۔۔۔۔۔
کرے گا؟
یہ سوال یا مجموعہ سوالات آپکو خود بخود مجبو ر کر دیتا ہے کہ آپ منصوبہ سازی کریں۔ یعنی اس بات کا فیصلہ کریں کہ کس مقصد کے حصول کیلئے کیا کرنا ہے اور اسکو کرنے کیلئے ذمہ داروں کا تعین کریں۔ انکو وقت اور دیگر ذرائع مہیا کریں اور جوابدہی کا ایک نظام بنائیں۔
3. پیسہ، پیسہ، پیسہ
جی ہاں خود بھی پیسہ کمائیں اور اپنے منصوبے کیلئے بھی پیسے کا بندوبست کریں۔ ہمارے محلے کی چار صف کی چھوٹی سی مسجد سے لے کر بین الاقوامی ادارے، یہاں تک کہ سرکارے ادارے بھی، کسی نہ کسی سطح پر فنڈ ریزنگ کرتے یا چندہ مانگتے ہیں۔ میں چندے کے خلاف نہیں لیکن میری ناقص رائے میں، کام ہی ایسا کرنا چاہیئے جس کی طلب ہو۔ پیسہ خود بخود جھولی میں آ گرتا ہے۔ مثلاً لوگ فلسفے پڑھنے سے زیادہ ایک موبائل فون کا ریویو پڑھنا چاہیں گے۔ اردو کی ترویج کیلئے بھی ایسا ہی بندوبست ہونا چاہیئے۔ ویبسائٹس پر اشتہارات، سرکاری، نیم سرکاری، اداروں یا نجی کاروباروں کےلئے اردو ویبسائیٹس بنانے کا کام، پبلشرز کے لئے یونی کوڈ میں مواد کی منتقلی، کچھ ذرائع ہو سکتے ہیں۔ کچھ پیسہ محدود پیمانے پر آئی ٹی سے متعلق ٹریننگ وغیرہ دے کر بھی کمایا جا سکتا ہے تو (بہت ہی چھوٹے پیمانے کے) اداروں کی کمپیوٹرائزیشن بھی شاید ایک سلسلہ بن سکے۔
ہر معاشر ے کی طرح پاکستان میں بھی تقریباً ہر کام کرنے کے لئے رضاکار مل جاتے ہیں۔ لیکن ایسا سمجھنا کہ رضاکارانہ کام کروانے سے پیسے یا وقت کی بچت ہوتی ہے، بہت ہی بڑی غلطی ہے۔ اکنامکس میں ایک پوری سوچ transaction costs کے متعلق موجود ہے۔ شوقین حضرات یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ ان بابا جی بہ نام رونلڈ کوس، کو نوبیل انعام غالباً اسی سوال کا جواب ڈھونڈنے پر ملا کہ لوگ کب مل کر کام کرتے ہیں (یعنی ایک فرم کی شکل میں) اور کب وہ انفرادی طور پر کام کریں گے۔ جواب یہ تھا کہ جہاں خرچہ کم آئگا یا فائدہ زیادہ ہو گا، وہ راستہ اپنایا جائے گا۔ مثلاً میں پھیری لگا کر سبزی بیچتا ہوں تو گدھا گاڑی اپنی لے لوں یا روزانہ کرائے پر حاصل کروں؟ دفتر کے باہر گارڈ اپنا رکھوں یا کسی کمپنی سے کرائے پر حاصل کروں، وغیرہ۔ بات اتنی سادہ نہیں لیکن کچھ ایسی ہی ہے
بہرحال کہنے کا مقصد یہ تھا کہ رضاکارانہ کام کرانے کے اپنے جھنجھٹ ہوتے ہیں اور بہت ہوتے ہیں اسلیے بسا اوقات پیسے دے کر کام کروانا زیادہ سستا پڑتا ہے۔ اسی طرح کام کرنے والے کو بھی دیکھنا چاہیے کہ مفت کام کرنے کی حد کہاں ختم ہوتی ہے اور اپنی خدمات کا معاوضہ لینے کی کہاں شروع۔
4. عربی کا اونٹ بنیں:
بنے بنائے پلیٹ فارم استعمال کریں۔ وہاں جائیں جہاں لوگ آپکو دیکھ، سن سکیں۔ چاہے یہ کوئی ملاقات ہو، چاہے کوئی بلاگ ایگریگیٹڑ ہو، چاہے بی بی سی اردو یا دوسری مشہور اردو یا انگریزی ویبسائٹ ہو۔ لوگوں کو بتائیں کہ آپ بطور اردو بلاگر اور بطور بلاگستان کے ایک ممبر کے، اپنا وجود رکھتے ہیں۔ بہت عرصہ پہلے عواب نے مہمان لکھاریوں کو مدعو کیا تھا لیکن میرے اس سوال پر کہ کیا وہ اردو پوسٹ بھی قبول کریگا، خاموش ہو گیا تھا۔ اب اگر وہ آپکو دعوت دے رہا ہے تو وہاں اور دیگر جگہوں پر بطور مہمان لکھاری ضرور لکھیں۔
5. پہیے کو دوبارہ ایجاد کرنے کا فائدہ نہیں:
جو ہو چکا ہے اس کو لے کر آگے بڑھیں۔ اس میں کوئی شرمندگی نہیں ہونی چاہیے کہ ہم کسی اور زبان میں تخلیق کی گئی ٹیکنالوجی بلکہ اصطلاحات کو بھی، اردوا رہے ہیں یا جوں کا توں ترجمہ کر رہے ہیں۔ یہ ترقی کی پہلی سیڑھی ہی ہے۔ مروجہ اصولوں کی پاسداری البتہ ضروری ہے۔ مثلاً کسی کے اچھے کام پر اسکا شکریہ ادا کریں اور اسکے کام کو اپنا کام کہہ کر دوسروں سے داد مت سمیٹیں۔
6. مناسب تشہیر:
میرے ایک استاد کے مطابق ایک ہاتھ سے کام کرنا، دوسرے سے ڈھول بجانا چاہیے۔ ابھی چند دن پہلے کراچی میں بلاگر حضرات مل بیٹھے۔ میرے بس میں ہوتا تو بطور ایک اردو بلاگر کے (چاہے جیسا بھی ہوں، آدھا پونا ہی سہی)، ضرور حاضری دیتا۔ میری عاجزانہ گذارش ہے کہ ایسے مواقع کبھی ضائع مت کریں۔ خوب تیار ہو کر جائیں، یعنی بلاگستان کی تازہ ترین صورتحال سے لیس ہو کر، ایک آدھ پریزینٹیشن بنا کر، جائیں۔ اسلام آباد میں بلاگر ملاقات اچھی تجویز ہے، اردو بلاگر تو خاص طور پر ملیں اور اس ضمن میں میٹرو بلاگز کا پلیٹ فارم استعمال کریں۔ مجھے یقین ہے زیادہ لوگ بلاگستان بارے جانیں گے اور آئیں گے۔ تصاویر بنائیں، ویڈیو بنائیں، رپوتاژ لکھیں اور اخبارات کو بھیج دیں۔ کوئی نہ کوئی تو چھاپے گا ہی۔ لیکن یہاں بھی سنجیدہ تیاری کریں مثلاً ملاقات کا ایجنڈا طے کریں۔ صرف گپ شپ ہو تو ایک دو مرتبہ کے بعد لوگ آنا چھوڑ دینگے۔
7. اردو بلاگر حضرات کی تنظیم سازی۔
مشکل کام ہے، بہتر ہے کہ ہوم ورک کر لیں۔ مثلاً آئین کی تیاری، اغراض و مقاصد کا تعین، عہدوں کا تعین اور پھر چناؤ، ملکی قوانین کے مطابق اسکی رجسٹریشن، بنک اکاؤنٹ، فنڈز کے حصول کیلئے فیس اور چندہ وغیرہ وغیرہ۔ یہ کافی لمبا کام ہے لیکن نا ممکن نہیں۔ فی الحال میرے پاس تو اگلے سال کے اوائل تک بالکل وقت نہں لیکن اگر اگر کوئی دوست یہ بھاری پتھر اٹھانا چاہیں تو میں بعد میں ساتھ دے سکونگا، انشااللہ۔
میں اس تحریر کی طوالت اور انداز کیلئے معذرت خواہ ہوں۔ چاہتا تھا کہ بیشتر پہلوؤں کا ذکر ہو جائے ۔ اور یقیناً میرا مقصد ڈکٹیشن دینا بھی نہیں، اگر کسی کو کوئی بات بُری لگی ہو تو کہہ دیجیئے۔ میں ذاتی طور پر معافی مانگ لونگا۔ آپکی تجاویز کا انتظار رہیگا۔ اگر آپ اس پوسٹ کو اپنے بلاگ یا دیگر جگہوں پر لگانا چاہیں تو میری جانب سے اجازت ہے، مروجہ رواج کے مطابق۔ باقی آپ خود سمجھدار ہیں ۔
نوکیا کی شادی
صاحبو یہ خبر شاید اتنی دلچسپ تو نہیں ہے لیکن ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس نے کچھ بھونچال ضرور پیدا کیا ہے۔ اب خبریں تو کئی طرح کی ہوتی ہیں، ایک وہ جو شام تک باسی اور void ہو جاتی ہیں، دوسری وہ جنکے اثرات بہت عرصے تک رہتے ہیں، یہ خبریں وقت کا دھارا تبدیل کر دیتی ہیں اور مستقبل کا رخ متعین کرتی ہیں۔ بہت نہیں تو کچھ کچھ ایسی ہی ایک خبر وہ تھی جب نوکیا نے اس بات کا اعلان کیا کہ آنے والے دنوں میں انکے سمارٹ فون مائکروسوفٹ کے ونڈوز موبائل سیون نظام سے لیس ہوں گے۔ اس خبر نے کچھ کو حٰیران کیا اور کچھ کو پریشان۔۔۔کیوں؟ کچھ نظر ماضی پر ڈالتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ نوکیا کچھ عرصے پہلے تک موبائل فون کی دنیا کا بے تاج بادشاہ تھا۔ میری ناقص رائے میں اسکی ایک وجہ تو کچھ عوامل مثلاً اسکی مناسب قیمتیں، آسان استعمال اور بہترین ہارڈ ویر تھے لیکن دوسری طرف ایک بہت ہی اہم بات اسکا اپنا پلیٹ فارم سیمبین تھے۔ آپکو یاد ہو گا کہ اُن دنوں کچھ فون مثلاً سونی ایریکسن وغیرہ مستعار لیے سیمبین پر چلتے تھے، کچھ لینکس پر مثلاً موٹورولا کے کچھ ماڈل، کچھ ونڈوز پر (مثلاً ایچ ٹی سی) اور کچھ تو جاوا استعمال کرتے تھے۔ کچھ بڑے کھلاڑی اپنا اپنا پلیٹ فارم استعمال کرتے تھے (مثلاً پام اور بلیک بیری)۔ وقت بدل گیا اور موبائل فونز سے لوگوں کی توقعات بھی۔ بات جہاں تھی بلیک بیری، موٹورولا، ایل جی وغیرہ وغیرہ کی تو نوکیا اچھا مقابلہ کرتا رہا (گرچہ میرے خیال میں سمارٹ فونز ہمیشہ سے ہی اسکا میدان نہیں رہے ہیں، لے دے کر ای سیریز ہی کچھ جگہ بنا پائی کہ جسکا اپنے زمانے کے حساب سے شاید دنیا کا بہترین فون ای نوے تو بہت سے لوگوں کو یاد ہو گا ہی اور تازہ ترین اضافہ ای سات ہے) لیکن جب ایپل کے آئی فون کا ظہور ہوا تو بڑے بڑے برج الٹ گئے۔ ایپل سے شہہ پا کر گوگل نے بھی اس میدان میں قسمت آزمائی کی اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ایپل کو کسی کے ڈراؤنے خواب آتے ہونگے تو وہ گوگل کے انڈرائڈ نظام کے ہوں گے۔
انڈرائڈ نے کئی مردہ (یا نیم مردہ) گھوڑوں میں جان ڈال دی جن میں موٹورولا قابل ذکر ہے جبکہ ایچ ٹی سی، سیم سنگ، ایل جی وغیرہ کو بھی کافی فائدہ ہوا جنھیں ایک آزاد مصدر پلیٹ فارم انڈرائڈ کی شکل میں میسر آ گیا۔جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو نوکیا کہاں تھا؟ میرا خیال ہے نوکیا ایک طرف تو اپنے ماضی میں رہ رہا تھا اور سیمبین کو لمبی ریس کا گھوڑا سمجھ رہا تھااور دوسری طرف کچھ نیم دلانہ تجربات بہ صورت مائمو کے کر رہا تھا ( کہ جس پر نوکیا کا صرف ایک فون این 900 چلتا ہے، بشمول کچھ پرانی انٹرنیٹ ٹیبلیٹس کے)۔ انہی تجربات میں ایک تجربہ سیمبین کو آزاد مصدر قرار دینا بھی تھا۔ نوکیا کو یہ امید تھی کہ اسطرح ڈولیپرز دوڑے چلے آئیں گے اور نوکیا کی بلے بلے ہو جائے گی۔ دوسری جانب نوکیا آنے والے کچھ سمارٹ فونز کو میگو پر چلانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔ ایک خواب جو اب شائد کبھی پورا نہ ہو سکے۔
ماضی کا بیان کچھ لمبا ہو گیا لیکن بہرحال اسلیے ضروری تھا کہ نوکیا کے حالیہ فیصلے کو اسی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ نوکیا کی ایک اور غلطی ہی لگتی ہے۔ اس فیصلے سےجہاں میگو پراجیکٹ میں نوکیا کا ساجھے دار انٹل (جو غالباً اپنا بھی ایک فون مارکیٹ میں لانے کا ارادہ رکھتا تھا) خوش نہیں (گرچہ انٹل نے اس پراجیکٹ کو جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے) وہیں خود نوکیا کے اپنے ڈویلیپرز میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی اور انھوں نے اسکا اظہار بھی کیا۔ گرچہ نوکیا نے انھیں کچھ مفت فون دے کر خوش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن یہ کچھ ایسی پائدار کوشش یقینا نہیں ہے۔ انہی ڈولیپرز کو سیم سنگ نے بھی گود لینے کی کوشش کی ہے لیکن سیمبین کا مستقبل اب تقریباً نوشتہ دیوار ہے، آخر بچھے کچھے پندرہ کروڑ فون سیٹ بکنے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے؟
کہنے والے کہتے ہیں کہ نوکیا بلیک بیری بنانے والی کمپنی رم کے ساتھ ساجھے داری کرنا چاہتا تھا لیکن رم نے انکار کر دیا۔ اسی طرح بہت سے لوگوں کی طرح میری بھی خواہش تھی کہ نوکیا انڈرائڈ کو اپنا لے لیکن نوکیا اور گوگل دونوں اپنی جگہ سے ہٹنے کیلئے تیار نہیں تھے (ایک بڑی وجہ غالباً گوگل میپس بہ مقابلہ نوکیا اوی میپس تھا) اسلئے یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔ بہرحال اس نئے رشتے کی ایک وجہ تو یقیناً یہ صاحب ہیں جو مائکروسوفٹ چھوڑ کر نوکیا جا بیٹھے تھے (اور ممکن ہے کہ سازشی نظریوں میں یقین رکھنے والے انھیں مائکروسوفٹ کی جانب سے نوکیا میں داخل کیا گیا ٹروجن کا گھوڑا سمجھیں گرچہ وہ اس کا ظاہر ہے انکار کرتے ہیں) لیکن حیرت تو یہ ہے کہ اس رشتے پر دونوں خوش ہیں۔ میرے خیال میں یہ کچھ ایسا ہی ہے جہاں امیر لیکن بوڑھا مرد پینتیس سالہ کنواری سے نکاح کرتا ہے۔ دونوں ہی اسے زندگی کا بہترین فیصلہ کہتے ہیں لیکن اس فیصلے کے پیچھے دراصل زمینی حقائق کا ادراک اور نتیجتہً ڈھیر سارے کمپرومائز ہوتے ہیں۔ جہاں نوکیا اپنے سن رسیدہ آپریٹنگ نظام سیمبین کے سبب پریشان تھا، وہیں مائکروسوفٹ کا موبائل سیون پلیٹ فارم استعمال کرنے والی کمپنیاں مثلاً ایچ ٹی سی اور سیم سنگ اینڈرائڈ پر منتقل ہوتے جا رہے تھے۔
اب دیکھتے ہیں کہ بات کہاں تک جاتی ہے۔ میری ناقص رائے میں یہ اتحاد کچھ عرصہ تو چلے گا کہ دونوں کو اسکی ضرورت ہے لیکن اس میں نقصان نوکیا کا زیادہ ہو گا۔ مائکروسوفٹ تو شاید موبائل سیون بنانے کا خرچ نکال لے لیکن اگر اسکے بعد آگے چلنے سے انکار کر دے تو نوکیا کیا کر لے گا۔سیمبین مردہ ہو چکا ہو گا اور اسکےبچے کچھے ڈویلیپرز بھی شاید کوئی اور نوکری تلاش کر چکے ہونگے۔
ہمیں اچھا لگے یا بُرا لیکن مستقبل آزاد مصدر کا ہی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گوگل کی گرفت بھی انڈرائڈ پر کمزور ہوتی جائے گی۔ یہی دیکھ لیجیے کہ صرف چند ہی برسوں میں اندڑائڈ مارکیٹ (جہاں صرف گوگل کے منظور کردہ اپلیکیشنز ہی دستیاب ہیں) کے متبادل بھی کئی منڈیاں کھل گئی ہیں اور جن پر یقیناً گوگل کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ جیسا کہ ڈیبین لینکس کے بطن سے ابنٹو (جو آج اپنی علحیدہ اور بہت مضبوط شناخت رکھتی ہے) اور کئی دوسری لینکس اقسام نے جنم لیا، مستقبل میں انڈرائڈ کے بھی دیگر فورکس دستیاب ہو سکتے ہیں۔ یہ بہرحال میری ناقص رائے ہے، آپ کے خیالات جاننے کا انتظار رہیگا۔
رُودادِ فیس بُک
صاحبو پرانی بات ہے مجھے ایک ڈائری بنانے کا شوق چڑھا جس میں دوستوں کی تفصیلات مثلاً نام، پتہ، نمبر وغیرہ تو درج ہوتے ہی تھے لیکن ایک انٹرویو کی شکل میں لی گئی دیگر معلومات مثلاً پسندیدہ کھانے، فلم، کتابیں، شہر، وغیرہ وغیرہ کا مختصر احوال بھی درج ہوتا تھا۔ یہ غالباً نوے کی دہائی کے آغاز کی بات ہے جب ابھی انٹر نیٹ شروع ہی ہوا تھا۔ انٹر نیٹ کی معلومات تو بس اتنی ہی تھیں جتنی ایک دوست نے امریکہ سے واپسی پر دی تھیں جس کو میری محدود عقل نے ریڈیو یا ٹی وی چینلز کے برابر سمجھا جہاں ٹی وی یا ریڈیو کی بجائے کمپیوٹر استعمال ہوتا تھا (اگرچہ میرے خیال میں یہ تقابل کچھ ایسا غلط بھی نہیں تھا)۔ کمپیوٹر پر البتہ 85ء کے لگ بھگ سے طبع آزمائی کر رکھا تھی، جب یہ امریکنوں کی مہربانی سے والد صاحب کے دفتر کی زینت بنا تھا۔
خیر بات دوسری جانب نکل گئی کہ ذکر تو فیس بُک کا مطلوب تھا۔ جب اس بارے میں سنا تو مجھے اپنی وہ بھولی بسری ڈائری یاد آ گئی اور دوستوں سے رابطے کے شوق میں فیس بُک کھاتہ بھی بنا ڈالا۔فیس بک کے جوہر کھلے تو احساس ہوا کہ ان سب برسوں میں ٹیکنالوجی بہت بدل گئی ہے اور فیس بُک کے استعمال تو بےشمار ہیں اور ہو سکتے ہیں۔ گرچہ زیادہ استعمال ان کا نہیں کیا کہ دوست احباب جن مقاصد کے لیے اسے استعمال کر رہے تھے وہ نہایت عمومی قسم کے تھے۔ مثلاً تصاویر شیئر کرنے کیلیے جسکے لیے میں پہلے ہی یاہو کی سروس فِلکر اور گوگل کا پکاسا ویب البم استعمال کر رہا تھا۔ یہ بھی کہ اپنے بعض دوستوں کی طرح مجھے بھی انٹرنیٹ پر اپنے وجود کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے (یعنی شہرت کا لالچ یا حرص تو ہے)۔ اب اس مقصد کیلئے (گرچہ صرف اسی وجہ سے نہیں) میرا بلاگ پہلے ہی انٹر نیٹ پر موجود تھا۔ ہر عام انسان کی طرح خود کو گوگل کر کے دیکھا تو بعض دوسری ویبسائٹس مثلاً گزشتہ یا حالیہ تعلیمی اداروں کی سائٹس وغیرہ پر بھی خود کو موجود پایا۔ اس لیے بہت سے لوگوں کے برعکس کہ جو ایسے مشاغل نہیں رکھتے، فیس بُک کی دو منٹ میں (اور بس دو ہی منٹ کیلئے) شہرت فراہم کرنے کی خاصیت نے بھی کچھ زیادہ مشغول نہیں کیا (اسی بارے ایک سیانے کی پیش گوئی یہاں دیکھئے)۔ بلکہ ایک وقت تو یہ آیا کہ روابط کے عمومی سٹیٹس اپڈیٹس کو دیکھ دیکھ کر جی مزید بیزار ہونے لگا۔ وقت کا ضیاع (یا فارسی میں کہوں تو زیاں) الگ سے تھا۔ اجنبیوں کو بطور دوست شامل نہ کرنے کی عادت کا نتیجہ بھی یہ کہ فیس بُک کے روابط بھی روز ملنے والے دوستوں، واقف کاروں، یاگزشتہ ہم جماعتوں وغیرہ پر مشتمل تھے۔
ان باتوں نے تو خیر اتنا ہی اثر کیا کہ فیس بُک کی دیوانگی طاری نہ ہوئی۔ لیکن اس سے زیادہ اہم کچھ اور عوامل تھے۔ ایک یہ کہ بجائے اسکے کہ دوست مل کر اچھا وقت گزاریں، ایک مقابلے، مسابقت کی فضا کا احساس ہونے لگا کہ جہاں آپ دوسروں کی خوشی یا غم بانٹے کی بجائے دوسرے سے برتر نظر آنے یا دوسرے کو حسد میں مبتلا کرنے کی کوشش زیادہ کرتے ہیں (اور اس کوشش میں خود ہی حسد کا شکار ہوتے ہیں)۔
ابھی حال ہی میں ممتاز امریکی جامعہ سٹینفورڈ میں کی گئی ایک تحقیق شائع ہوئی (اصل مقالہ یہاں اور آسان زبان میں یہاں) تو پتہ چلا کہ میں اکیلا ہی اس مرض میں مبتلا نہیں تھا بلکہ شاید فیس بک کے بہت سے استعمال کنندہ اس یاس میں مبتلا ہیں کہ دوسرے انکی نسبت اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ گویا ایک rat race ہے جہاں آپ اور آپکے دوست ایک دوسرے سے زیادہ خوش نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسی کوشش میں بجائے خوش ہونے مجموعی طور پر سبھی حسرت، یاس، افسردگی، حسد، وغیرہ جیسے منفی احساسات کا شکار ہوتے ہیں۔ ایک دوسری تحقیق کہتی ہے کہ جتنے زیادہ دوست، اتنی زیادہ ٹینشن۔ یعنی آپ اپنا پبلک امیج بنانے کے چکر میں خود کو غیر ضروری دباؤ کا شکار کر لیتے ہیں۔ باقی قباحتیں مثلاً ڈیٹا چوری ہونا، ذاتی زندگی کا منظر عام پر آنا اور طلاق ہونے میں فیس بُک کا بڑھتا ہوا کردار (گرچہ بقول غیر مصدقہ اور غیر سائنسی ذرائع)، وغیرہ اپنی جگہ پر ہیں، گرچہ مجھے ان سے بوجوہ کچھ زیادہ خوف محسوس نہیں ہوا۔
ان حالات میں جب فیس بُک پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈرائنگز والا معاملہ چلا تو میں بھی بہت سے دوستوں کی طرح تذبذب کا شکار تھا کہ چلا جاؤں یا نظر انداز کر دوں۔ پھر کسی کا لکھا یہ پڑھا کہ ایک جگہ اگر آپکو یا آپکے والدین کو گالی دی جا رہی ہو تو کیا آپ جانا پسند کرینگے؟ بات دل کو لگی اور فیس بُک کا کھاتہ بند کر دیا۔ وجہ میں لکھ دیا کہ جب آپ مسلمانوں کے احساسات و جذبات کا خیال رکھنے لگیں گے، میں بھی واپس آ جاؤنگا۔
میں مذہبی آدمی نہیں ہوں۔ اسلام کے بنیادی رُکن مثلاً نماز، روزہ، وغیرہ میں بھی بہت کوتاہی ہو جاتی ہے۔ نہ ہی میرے جانے سے فیس بُک بند ہو گئی یا اسے کوئی فرق پڑا ہے۔ ہاں البتہ مجھے ضرور فرق پڑا ہے۔ وہی وقت اب شاید، شاید کسی بہتر کام پر خرچ ہو جائے۔ نہ بھی ہو تو اس مسابقت کے احساس سے تو جان چھوٹ ہی گئی ہے کسی حد تک۔ اسی لیے تو آج تک ٹویٹر کا اکاؤنٹ نہیں بنایا۔ میرا کوئی کاروبار وغیرہ بھی نہیں کہ فیس بُک سے کوئی مالی فائدہ حاصل ہو رہا ہو۔ بات رہی سستی شہرت کے لالچ کی تو وہ بلاگ، فلکر، گوگل پر بھنبنانا، وغیرہ سے پورا ہو ہی جاتا ہے۔
آپ سے دعا کی البتہ ضرور درخواست کرتا ہوں کہ شہرت کے کسی معمولی سے معمولی حرص سے بھی جان چھوٹ جائے اور دوسرے کی پلیٹ میں دیکھنے کی عادت یا جبلت بھی مکمل طور پر ختم ہو جائے۔ آمین ثم آمین۔
سائیکلون یاسی۔۔۔ دعا کریں
صاحبو آپ نے آسٹریلیا کی ریاست کوئینزلینڈ میں آنے والے حالیہ سیلاب کے بارے میں تو سنا ہو گا جس میں دوسرے شہروں کے علاوہ صدر مقام اور خوبصورت شہر برسبین بھی زیر آب آ گیا تھا۔ یہ ابھی چند دن پرانی بات ہی ہے لیکن آج کی رات کوئینزلینڈ کو ایک اور آزمائش کا سامنا ہے جسکا نام ہے سائکلون یاسی (اس طوفان کے بارے میں تکنیکی معلومات دیکھیے یہاں)۔
یہ سائکلون کچھ ہی وقت میں کینز اور دوسرے ساحلی شہروں سے ٹکرانے والا ہے۔ کیٹگری 5 کا یہ سائکلون امریکا میں آنے والے قطرینا جتنا طاقتور تصور کیا جا رہا ہے اور 1974 میں آنے والے ساکلون ٹریسی سے کہ جس نے ڈارون کو تباہ و برباد کر دیا تھا، زیادہ طاقتور ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ آسٹریلیا میں ایک صدی میں آنے والا طاقتور ترین طوفان ہے۔ ایک سرے سے دوسر سرے تک اسکا سائز 1000 کلومیٹر ہے جبکہ اسکا وسط یا آنکھ 35 کلومیٹر قطر کی ہے۔ 300 سے 450 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کی ہوائیں اپنے راستے میں آنے والی پر چیز کو تہس نہس کر دیں گی۔فوج اور پولیس نے لوگوں کو گھر گھر جا کر اس بارے مطلع کیا ہے اور بہت سے لوگ سکولوں، شاپنگ سینٹرز اور دیگر محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔ دو اقساط میں آنے والے طوفان کی ہر قسط تقریباً دس گھنٹے طویل ہو گی۔ لمحہ بہ لمحہ خبریں یہاں پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
میں اس مقام سے ہزاروں ڈھائی ہزار کلومیٹر دور ہوں لیکن آپ لوگوں سے دعا کی گزارش ہے کہ اللہ تبارک تعالی سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، آمین ثم آمین۔
اپڈیٹ:
تقریباً 24 گھنٹے بعد اور زمین پر 900 کلومیٹر سفر کے بعد یہ طوفان ماؤنٹ عیسیٰ کے علاقے میں دم توڑ رہا ہے۔ سب سے زیادہ متاثر کینز کے شمال میں دو قصبے ٹلی اور مشن بیچ ہوئے ہیں۔ تقریباً دو لاکھ گھر اسوقت بغیر بجلی کے ہیں۔ کئی علاقوں میں سیلاب آیا ہوا ہے اور ایک تہائی گھر تباہ ہو گئے ہیں۔ بجلی کے کھمبے، گھر، دکانیں، کیلے کے باغات اور گنے کے کھیت سب برباد ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ابھی مزید بارشیں ہونا ہیں اور ان گرمیوں میں شاید کچھ مزید طوفان بھی آئیں۔ کیٹگری 5 کے طوفان مستقبل میں زیادہ آنے کا خدشہ ہے کہ ماحولیاتی آلودگی اپنا خراج وصول کر رہی ہے۔ ایک محقق کے مطابق لوگوں کو ساحلی علاقے چھوڑ کر بلند مقامات پر منتقل ہونا پڑیگا اور ہر وہ جگہ جو طوفانوں کے راستے میں آتی ہے، ہمیشہ کیلیے چھوڑنا پڑیگی۔
اس افسوس کن صورتحال کے کچھ مثبت پہلو بھی ہیں۔ فی الحال کہیں سے بھی جانی نقصان یا کسی کے شدید زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ پے در پے طوفانوں نے اس قوم کو جینے کا ڈھنگ سکھایا ہے اور جن علاقوں میں طوفان آیا ہے، وہاں پہلے سے ہی بلڈنگ کوڈز کے مطابق تعمیرات کی جا رہی تھیں جسکی وجہ سے اتنے شدید جھکڑ چلنے کے باوجود بیشتر علاقوں کی بیشتر عمارتیں سلامت رہیں۔ سیاستدان، مقامی انتظامیہ، پولیس، فوج اور رضاکاروں نے جس طرز عمل کا مظاہرہ کیا وہ متاثر کن ہے۔ یقیناً بہتر طرز حکمرانی ہی ایسے حادثات سے نمٹنے کی صلاحیت دیتی ہے۔
ان سب دوستوں کا شکریہ جنھوں نے دعائیں کیں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اللہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ایسے حادثات سے نمٹنے کی صلاحیت عطا کرے۔ آمین ثم آمین۔
خداحافظ سمبین، ہیلو انڈرائڈ
نہیں سرکار ایسی بات نہیں کہ میں کوئی جواز تلاش کر رہا ہوں لیکن حقیقت یہی ہے کہ میرا نوکیا اب خاصا ضعیف ہو گیا تھا۔ اب ایک پُرانی لت آزاد مصدر سوفٹ ویر استعمال کرنے کی بھی ہے (گرچہ آجکل زیادہ وقت ونڈوز 7 پر گزرتا ہے جس بارے پھر کبھی) اور دیرینہ خواہش یہی تھی کہ موبائل پر بھی ایسا ممکن ہو سکے۔
نوکیا نے کئی قلابازیاں بہ صورت مائمو، میگو اور سیمبین تھری کے کھائیں سو نوکیا سے تو جی اوب ہی گیا تھا، گرچہ کافی قریب میں نوکیا این 900 لینے کے بھی آ گیا تھا، لیکن بوجوہ نوکیا کے یتیم کردہ مائمو اور ریزسٹیو ٹچ سکرین کے (اور قیمت بھی جو کمبخت کم ہونے میں ہی نہیں آ رہی تھی)، نہ لیا۔ دوسری جانب نہ جانے کیوں آئی فون زنانیوں کا فون لگتا ہے۔ بلیک بیری کا مستقبل بھی خاصا بلیک ہی نظر آتا ہے اسلیے تان انڈرائڈ پر ہی آ کر ٹوٹی۔ اب وہ زمانہ تو یقیناً نہیں کہ انڈرائڈ ایچ ٹی سی جیسے مہنگے فون سیٹس پر ہی چل پائے سو دائیں بائیں نظریں دوڑائیں تو جہاں ایک جانب ایچ ٹی سی اور ہواوے کے کچھ سیٹ نظر آئے دوسری جانب کسی زمانے میں امریکہ کی نمبر ایک موبائل کمپنی موٹورولا پر نظر پڑی۔ کبھی بیگم نے موٹورولا کا ایک سیٹ ریزر سیریز کا لیا تھا جو اچھا ہی تھا، پھر ایک دوست کے پاس لینکس پر چلنے والا ایک سیٹ تھا کہ موٹورولا کافی برسوں سے موبائل فون لینکس پر ہی چلاتی آئی ہے۔
بہر حال تلاش ایک ایسے سیٹ کی تھی کہ اینڈرائڈ پر چلتا ہو، سکرین کچھ بڑی ہو (مثلاً 3 انچ یا زیادہ) اور مکمل کی پیڈ بھی موجود ہو۔ ان شرائط کے ساتھ تقریباً تمام فون بہ آسانی میرے بجٹ کی چار دیواری پھلانگ جاتے تھے۔ خیر کرتے کراتے تان مشہور زمانہ سیٹ بہ نام ڈرائڈ (امریکہ) / مائل سٹون (بقیہ دنیا) پر آ کر ٹوٹی ہے۔ اس فون کی مکمل تفصیلات تو آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں لیکن مختصراً یہ کہ موٹورولا کے سب سے زیادہ بکنے والے سیٹس میں سے ایک ہے (اور غالباً اسی سیٹ کی وجہ سے موٹورولا نے برسوں بعد منافع کمایا ہے)، جسکی سکرین گرچہ آئی فون فور جتنی اچھی تو نہیں لیکن تھری جی ایس وغیرہ کو مات دیتی ہے۔ پراسسر موجودہ وقت کا تیز رفتار ترین نہیں لیکن اینڈرائڈ کے موجودہ ورژن آسانی سے چلاتا ہے۔ میرے پاس اینڈرائڈ 1۔2 ہے اور انتظار ہے 2۔2 کا جس پر فلیش سپورٹ تو ہے ہی لیکن اسے سے زیادہ یہ کہ اپلیکیشنز میموری کارڈ پر بھی نصب کی جا سکتی ہیں۔ رفتار بھی زیادہ ہے۔

اسوقت میں جو چندایک اپلیکیشنز (یا مختصراً ایپس) استعمال کر رہا ہوں، وہ یہ ہیں (جو تقریباً سبھی اینڈرائڈ مارکیٹ سے لی ہیں اور سب کی سب مفت ہیں):
ای میل، کیلنڈر اور کانٹیکٹس/ روابط: بلٹ ان کلائنٹ برائے جی میل اور مائکروسوفٹ ایکسچینج (یعنی جامعہ کے ای میل کھاتے کیلیے)۔ بہترین ہے اور کوئی مسئلہ تا حال نہیں ہوا۔ گوگل کی سب ایپس یہاں ہیں، گوگل گاگل بھی مزے کی چیز ہے۔
سکائپ: سکائپ والوں کا کلائنٹ
گوگل، ایم ایس ان، یاہو چیٹ: کبھی کبھار فرنگ (وڈیو چیٹ کے قابل ہے، ٹینگو کی طرح)، آج کل آئی ایم پلس، ای بڈی وغیرہ آزما رہا ہوں۔
نقشے اور نیویگیشن: گوگل میپس، مفت ہیں اور زبردست بھی، وائس گائڈڈ نیویگیشن بھی ہے اور سٹریٹ ویو بھی، لیٹیچیوڈ بھی استعمال کر رہا ہوں جس سے دوستوں کو میری اور مجھے انکی لوکیشن معلوم ہوتی رہتی ہے۔
اوقات نماز، ہجری کیلنڈر اور قبلے کے رخ کیلیے پریر ٹائم پرو، اور قرآن مجید کیلیے گائڈڈ ویز والوں کا آئی قرآن۔ پکسزر والوں کا حلال ای کوڈ اشیائے خوردونوش کے اجزا کے بارے میں بتاتا ہے جن سے غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کا واسطہ روز ہی پڑتا ہے۔
پکاسا اور فلکر تصاویر دیکھنے کیلیے جسٹ پکچرز۔ مت پوچھیے کتنا اچھا ہے۔ موبائل میں موجود تصاویر تو دکھاتا ہی ہے۔
کتب بینی: ایمازان والوں کا کنڈل فار ڈرائڈ اور ایلڈیکو۔ دونوں میں کافی مفت کتابیں ہیں۔
گھڑی، کیلنڈر، موسم کے حال کیلیے فینسی وجٹ، ظاہر ہے مفت والا۔
وقت گزاری کیلیے مشہور زمانہ گیم اینگری برڈز۔
سستی بین الاقوامی فون کالز کیلیے پینی ٹیل کی سروس اور سی سپ سمپل کا اطلاقیہ۔
فائل ایکسپلورر ای ایس والوں کا ہے۔ اسکے علاوہ نوٹس کیلیے یولی کا نوٹس، آواز کی ریکارڈنگ کیلیے توکاشیکی کا وائس ریکارڈر، انٹرنیٹ کی رفتار چیک کرنے کیلیے اوکلا کا سپیڈ ٹیسٹ وغیرہ شامل ہیں۔
ایسا نہیں کہ راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ کسی بھی اینڈرائڈ فون کیلیے ڈیٹا پلان ہونا لازمی ہے ورنہ آپ اسکے پورے فائدے کبھی حاصل نہیں کر سکتے (چاہے وہ کسی بھی کمپنی کا ہو کہ کھیل اب آپریٹنگ سسٹم کا چلے گا، ہارڈ ویر کا نہیں)۔ مثلاً گوگل کی میپ سروس کافی ڈیٹا ہڑپتی ہے ۔ اسی طرح کیمرے کا کوئی خاص مزہ نہیں حالانکہ پانچ میگا پکسل ہے اور فلیش بھی موجود ہے۔ یہی کیمرہ البتہ ویڈیو بہتر بناتا ہے جس سے میرا خیال ہے کہ یہ سوفٹویر کی کمزوری ہے۔ ہارڈ ویر کی بات کریں تو موٹورولا کا اچھا ہے لیکن شائد نوکیا جتنا نہیں۔ فون کی پشت پر ربڑ کی تہہ کا لیپ ہے جس سے فون آپ کے ہاتھ سے پھسلتا نہیں اور اسکا شیشہ خراش سے محفوظ ہے، کتنا؟ یہ ویڈیو دیکھیے یا پھر یہ والی۔ البتہ سکرین کے کونوں پر(جہاں کالا رنگ تھا) ہلکی خراشیں ابھی سے پڑنا شروع ہو گئی تھیں، جسکےلیے ایک کور لیا ہے۔ سب سے بڑی کمزوری جسکو اسی فون کے نئے ماڈل میں دور بھی کیا گیا ہے وہ اسکا کی بورڈ ہے۔ انتہائی واہیات ہے لیکن بہر حال نہ ہونے سے بہتر ہے۔ مزے کی بات کہ اس تقابل میں پرانا ماڈل نئے سے کئی لحاظ سے بہتر لگتا ہے (گرچہ نئے ماڈل کی خوبیاں زیادہ ہیں)۔
بہ حیثیت مجموعی میں کافی خوش ہوں اور اپنے پرانے فون کے مقابلے میں تو دن رات کا فرق نظر آتا ہے گرچہ یہ تقابل جائز نہیں ہے۔ لیکن دوسر ی طرف نوکیا بھی تو ابھی تک سیمبین پر اٹکا ہوا ہے۔ بہر حال گوگل نے آئی فون کے مقابلے کے لیے انڈرائڈ کا جو جن پیدا کیا تھا وہ اب بوتل سے باہر آ گیا ہے۔ آپکا کیا خیال ہے؟

14 comments