یارو یہ سارا جھنجھٹ قدیر میاں کا پھیلایا ہوا ہے۔ نہ جانے آپ جناب کے دماغ میں کیا سمائی کہ بیٹھے بٹھائے ایک عدد بلاگ یہ لکھ مارا کہ مجھے فلاں فلاں باتوں سے نفرت ہے۔ باقی تو مجھے بھول گیا صرف ایک چیز یاد رہ گئی اور وہ تھی قدیر کی جرابیں جن سے انہیں نفرت ہے۔ میاں قدیر خدا جھوٹ نہ بلوائے محبت تو ہمیں بھی آپکی جرابوں سے ہرگز نہیں خصوصاً یہ جاننے کے بعد کہ آپکو نہانے سے بھی الرجی ہے۔ خیر بات یہں تک رہتی مگر آپ نے جناب بدتمیز صاحب کو بھی اس بحث میں گھسیٹ لیا۔ ارے نہیں صاحب یہ بدتمیز صاحب واقعی بدتمیز نہیں صرف تخلص کرتے ہیں یا شائد لقب ہی ہو، عرفیت بھی ہو سکتی ہے۔ خیر اب یہ سلسلہ جو چلا تو بدتمیز صاحب نے اچھے اچھوں کو مجبور کر دیا کہ وہ سرِبازار یہ بتائیں کہ اُنھیں کیا ناپسند ہے یا کون ناپسند ہے۔ اس ریلے میں جہاں افتخار اجمل انکل، راشد کامران، خاور کھوکھر اور متعدد دوسرے بلاگر صاحبان کہ جنکے نام اسوقت ذہن میں نہیں رہے اور جسکے لئے معذرت ، بہہ گئے وہیں ناچیز بھی تھا۔ اب بدتمیز نے زندگی میں پہلی مرتبہ کوئی فرمائش کی ہے تو پوری تو کرنا پڑے گی۔ ہاں زیادہ سوچ ساچ کر نہیں لکھونگا بس جو فی الوقت ذہن میں باتیں آئیں گی وہی عرض کر دونگا۔

ہاں تو جناب مجھے جو باتیں ناپسند ہیں (یا شائد نفرت بھی ہو) وہ کچھ یوں ہیں، بلا کسی خاص ترتیب کے:

1۔ اپنی غیبت کی عادت: آہ صاحب یقین کریں کس مشکل سے میں یہ کہہ پایا ہوں۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ مجھے کسی کے پیٹھ پیچھے باتیں کر کے بڑا مزا آتا ہے۔ اور ہمیشہ ایسا کرنے کے بعد میں پچھتاتا بھی ہوں اور روزِ قیامت سے ڈر بھی بڑا لگتا ہے لیکن

؎ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

دعا کریں کہ چھوٹ جائے۔

2۔ اپنی وقت ضائع کرنے کی عادت: جو کام پانچ منٹ میں ہو سکتا ہے وہ شائد میں ایک گھنٹے میں کرتا ہوں، خصوصاً اگر وہ کام کمپیوٹر پر ہو اور انٹرنیٹ بھی مہیا ہو۔ اپنے سارے امتحانی پرچے میں آخری دن جمع کراتا ہوں، اس سے پہلے دل ہی نہیں چاہتا کام کرنے کو۔

3۔ رات کو دیر سے سونے کی عادت: کبھی کبھی تو سورج طلوع ہونے کے بعد سوتا ہوں۔ کوشش کر رہا ہوں کہ یہ عادت بھی چھوٹ جائے، فی الحال تو مشکل ہی نظر آ رہا ہے۔

4۔اپنی جلدبازی کی عادت: کئی مرتبہ نقصان بھی اٹھایا مگر ہنوز یہ عادت بھی قائم ہے۔

5۔ دوسروں کے متعلق جلدی اور اکثر غلط رائے قائم کرنے کی عادت: اب زندگی گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ بہتری آ رہی ہے۔

6۔ اپنی فضول خرچی کی عادت: اس بارے میں تو آپ بیگم سے ہی پوچھیں۔

7۔ دماغ کی جگہ دل سے سوچنے کی عادت: نتیجہ ہوتا ہے غلط فیصلے لیکن اللہ کے کرم سے آج تک کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔

8۔ غصہ کی عادت: جینیاتی ہے، لیکن جاننے والے بتائیں گے کہ اسپر کچھ کچھ قابو پا لیا ہے۔

9۔ بےسوچے سمجھے بولنے کی عادت: دراصل میں باتونی بھی ہوں اور پھر نتیجتاً کچھ اُلٹا سیدھا بھی بک دیا کرتا ہوں۔ کچھ اندازہ تو آپکو میرے بلاگ پڑھ کر بھی ہو گیا ہو گا۔

10۔ کام چوری کی عادت: جب تک انتہائی مجبوری نہ ہو، کوئی کام نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ پینے کا پانی بھی بیگم کو کہہ کر منگواتا ہوں، وہ آس پاس نہ ہوں تو پیاس بھی برداشت کر لیتا ہوں، خصوصاً اگر کمپیوٹر سامنے دھرا ہو۔

ویسے تو اور بھی بہت بُری بُری باتیں ہیں مجھ میں لیکن چونکہ صرف دس عدد لکھنے کی فرمائش تھی اسلئے یہ سلسلہ منقطع کرتا ہوں۔ ہاں آپ شائد وہ باتیں بھی پوچھنا چاہیں جو مجھے اوروں میں بُری لگتی ہیں۔ اب کیا صاحب اپنے اندر ہی اتنی برائیاں جمع ہیں کہ اوروں کے متعلق کچھ کہنا زیبا نہیں دیتا۔ ہاں چند باتیں مختصراً کہے دیتا ہوں:

1۔ اپنی صفائی پیش کرنا خصوصاً اگر میرا قصور نہ ہو۔

2۔ انسانوں کی یہ فطرت کہ وہ اپنی زندگی اوروں کی دیکھا دیکھی گزارتے ہیں، بعض اوقات یہ رویہ بھیڑ چال بھی کہلاتا ہے۔

3۔ صرف اپنے آپ کو صحیح اور بہترین سمجھنا۔ یہ بات ہماری قوم میں خصوصاً بہت زیادہ ہے۔ اسپر میں نے ایک بلاگ بھی لکھا تھا۔

4۔ ہر بات کا الزام اپنے حکمرانوں کو دینا اور یوں کر کہ اپنی ذمہ داری سے مبرا ہو جانا۔ اسپر بھی انشااللہ کبھی تفصیلاً لکھونگا۔

اور بھی کچھ باتیں ہیں لیکن فی الحال اتنا ہی کافی ہے۔ امید ہے بدتمیز صاحب خوش ہو گئے ہونگے۔ یار ایسی مشکل مشکل باتیں نہ کروایا کرو، ساڈی وی کوئی عزت ہے، میرا مطلب ہے۔۔۔تھی!!!