صاحبو آج ہی کینبرا کے کیلوری اسپتال کے زچہ و بچہ وارڈ سے واپسی ہوئی ہے کہ جہاں خاکسار کی ناک کٹ گئی۔محاورتاً نہیں جناب حقیقتاً۔ ذرا دھیرے صاحب پوری بات تو سن لیجئے۔ کافی برس ہونے کو آئے کہ ناک کی بڑھی ہڈی نے جینا عذاب کر رکھا تھا۔ اتنا عرصہ تو جیسے تیسے کر کے گزار دیا لیکن اب گزارہ محال تھا۔ سو آپریشن کی غرض سے جا اسپتال داخل ہوا جہاں یہ مژدہ سننے کو ملا کہ سرجیکل وارڈ کا کوئی بستر خالی نہیں اور مجھے ایک رات زچہ و بچہ وارڈ میں گزارنے پڑے گی۔ کمرے میں میرے ساتھ ایک صاحب اور بھی تھے کہ وہ بھی ناک کا آپریشن کرائے پڑے تھے۔ رات بچوں کی غوں غاں اور پڑوسی کی آہ و بکا سنتے گزری لیکن بہرحال گزر ہی گئی۔
چلو یہ مرحلہ بھی طے ہوا۔ زچہ و بچہ میرا مطلب ہے میں اور میری ناک دونوں خیریت سے ہیں۔ آپکو فکر کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔
“پہلے اور بعد میں” کے رواج کے تحت کچھ تصاویر حاضرِ خدمت ہیں جنکا معیار اسلئے اچھا نہیں کہ موبائل فون سے لی گئی ہیں اور یوں بھی کہ بیگم وہاں تصاویر لینے گئی تھیں کیا؟
چند گھنٹوں پہلے:
چند منٹ پہلے:
آپریشن کے کچھ گھنٹوں بعد:
میری تراشیدہ ناک:
رہے نام اللہ کا!!!




October 26, 2008 at 4:37 am
بڑے بوڑھے تلقین کرتے رہتے ہیں کہ بیٹا کوئی ایسی حرکت نہ کرنا کہ ہماری ناک کٹ جائے! مگر آپ کی کہانی سننے کے بعد معلوم ہوا آپ ناک کٹوانے پر تُلے ہوئے تھے! بہرحال، ناک بچانے کے لئے کئی لوگ تک و دو میں مصروف نظر آتے ہیں، مگر ہمیں خوشی ہے کہ آپ کی ناک خوش اسلوبی سے کٹ گئی ورنہ آپ کے لئے باعث تکلیف رہتی! جبکہ ناک کا کٹ جانا شریف گھرانوں میں کچھ اچھا نہیں سمجھا جاتا ہمیں یقین ہے آپ کے گھر والے آپ کی ناک کٹنے پر پُر سکون ہوں گے!!
October 26, 2008 at 7:35 am
ہم نے بھی دو صاحبان کی ناک کٹتے دیکھی ہے مگر انہوں نے تو ناک کٹنے کے بعد چند دن بہت تکلیف اور عذاب میں گزارے مگر آپ ہیں کہ مسکرا رہے ہیں۔ یہ ماجرا کیا ہے؟
October 26, 2008 at 7:35 am
تحریر کے شروع میں تو بس آپکی اس حرکت کا انتظار رہا جسکی وجہ سے زچہ بچہ وارڈ میں آپکی ناک کٹی۔ آپکی بیگم کے پاس اب ایک کافی سالڈ طعنہ ہے آپکو ساری زندگی زچ کرنے کا جسے آپ زیادہ دیر برداشت بھی نہیں کر سکیں گے
میں سوچ رہا تھا پڑوس کے مریض کی تصویر بھی لگا دی جاتی تو ۔۔۔ کیونکہ آس پاس کوئی جھولا تو نظر آ نہیں رہا
October 26, 2008 at 7:41 am
مزید پڑھنے پر ہی کھلا کہ اصل ماجرا کیا ہے۔
لیکن یہ کیسے آپریشن تھا کہ کوئی پٹی وغیرہ نہیں? مجھے کزن کا بھی ناک کا یہی آپریشن ہوا تھا، وہ تو کچھ دن تک بستر پر ہی پڑا رہا تھا۔ :S
October 26, 2008 at 7:42 am
مجھے کزن کا نہیں۔۔ میرے کزن کا۔۔:(
October 26, 2008 at 2:43 pm
یہ بتائیے کہ آپریشن کامیاب رہا ناں؟ کوئی سیکنڈری آپریشن تو نہیں ہونا؟ اللہ آپکو شفا دے۔
October 26, 2008 at 4:53 pm
بھائی مبارک ہو آپکی ناک کٹ گئی۔
October 27, 2008 at 10:06 am
ناک کٹوانا مبارک ہو.. سوچ رہا ہوں پاکستان جاکر میں بھی ناک کٹوا ہی لوں..
October 27, 2008 at 2:50 pm
شکریہ صاحبان، آپکی دعاؤں اور نیک خواہشات کیلئے۔
جن دوستوں کو یہ حیرت ہے کہ مجھے تکلیف کیوں نہیں ہوئی تو عرض ہے کہ تکلیف تو اچھی خاصی ہوئی تھی لیکن اسکے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا سو جیسے تیسے کر کے برداشت کر لی۔ البتہ کچھ لوگوں کا مسئلہ واقعی خاصا خراب ہوتا ہے، میرے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے بڑا کرم کیا۔
November 9, 2008 at 4:30 pm
Assalamualaikum,
Dear Shah Faisal, Insha’Allah I hope you are doing well. I got your blog’s address from Azhar Naeem and he also informed me that you are in Australia and your blogs tell me that you are in Canberra. I am in Brisbane. Let me know your contact details. My phone is 0431031336. Hope to hear from you soon. Wassalam, Waliuddin.
November 18, 2008 at 11:28 pm
آپریشن سے پہلے والی ناک ذیادہ متاثر کن ہے۔
December 25, 2008 at 4:23 am
آپریشن سے چند منٹ پہلے تو بڑے خوش نظر آرہے ہیں لگتا ہے بیگم صاحبہ نے کچھ زیادہ ہی ٹافیاں وغیرہ کھلائی تھیں
خیر۔ آپریشن بخیر و خوبی ہوا ، اللہ پاک کا شکر ہے ۔
اب کیسے مھسوس کررہے ہیں پہلے سے بہتر یا ۔۔۔۔۔؟؟
January 4, 2009 at 4:46 am
Adaab Shah FAisal Sahab,
BAs bhatakte bhatakte aapke blog tak aa pohonchi…aur yakeen maniye..i enjoyed reading every bit of ur experiance of nose surgery…Allaah aapko sehat ata farmai…but i can’t help writing u have a way with words that put a smile on my face.
keep writing…inshAllaah phir aaungi parhne..:)
“aarzoo”