Faisaliat- فیصلیات

من کہ ایک مڈل کلاسیا

Posted in Life, urdu by Shah Faisal on جنوری 15, 2013

صاحب گئے برسوں میں ایک فلسفی بنام ڈیکارٹ، کے گزرے ہیں۔ موصوف فرماتے ہیں کہ میری سوچ ہی میرے وجود کا ثبوت ہے۔ اگر میں اسی بات کو ایک مختلف انداز میں دیکھوں تو یوں کہوں کہ میری سوچ ہی میرا وجود ہے، میری شناخت ہے۔ یعنی میں وہی ہوں جو میں سوچتا ہوں۔ صاحب یہ سوچ بڑی طاقتور چیز ہے۔ یہ ناممکنات کو ممکنات میں تبدیل کر دیتی ہے لیکن عموماً ممکنات کو ناممکنات میں۔ افسوس کہ ہمارا تعلیمی نظام عموماً موخر الذکر بات پر ہی سارا زور لگاتا ہے۔ میری ناقص رائے میں اس میں کسی قدر قصور سائنسی طریقے کا بھی ہے جو پاپر صاحب کے خیال کہ سائنسی طریقے میں ہر مفروضہ جھٹلائے جانے کے قابل ہونا چاہیے، کے گرد گھومتا ہے۔ اب مجھ جیسے نیم خواندہ حضرات اس کا مطلب کچھ یوں لیتے ہیں کہ چونکہ کسی چیز کے ہونے کا کوئی ثبوت ہم پیش نہیں کر سکتے، وہ چیز وجود ہی نہیں رکھتی۔ حالانکہ یہ سائنسی طریقہ کار نہیں۔ اس کے برعکس بہت سے اعلیٰ پائے کے سائنسدان کچھ یوں کہتے ہیں کہ ہم مروجہ سائنسی طریقہ کار اور آلات کی حدود میں رہتے ہوئے، مثال کے طور پر، خدا کے وجود کا انکار یا اقرار نہیں کر سکتے۔ یعنی آج کی سائنس میں اگر کوئی بات مسلمہ (یعنی تسلیم شدہ) حقیقت ہے تو ضروری نہیں کہ وہ آئندہ بھی ایسی ہی رہے۔ گلیلیو، نیوٹن، آئن سٹائن سمیت بیشمار سائنسدانوں کی تھیوریز غلط یا محدود ثابت ہو چکی ہیں یا ہونے کو ہیں۔ دوسری جانب بہت سی سائنسی ایجادات یا دریافتیں بھی اتفاقات یا حادثات کی مرہون منت ہیں۔بات بہرحال دوسری طرف نکل گئی سو ان علمی باتوں کو پھر کسی وقت پر اٹھا رکھتے ہیں۔

اسوقت تو مجھے ایک عامیانہ سا اعتراف کر لینے دیجئے کہ میں ایک مڈل کلاسیا ہوں۔ نہیں یہ نہیں کہ یہ کوئی خامی ہے، یا خوبی۔ بس ایک صفت ہے بلکہ ہمہ صفت۔ یا یہ کہوں کہ مڈل کلاسیا ہونا ایک ذہنی کیفیت ہے، جیسا کہ اوپر ڈیکارٹ کے ذکر میں عرض کیا۔ کچھ لوگ پیدائشی مڈل کلاسیے نہیں ہوتے اور چند خوش یا بدنصیب (منحصر اس پر کہ آپ اسے کس طرح دیکھتے ہیں) اس کیفیت سے باہر بھی نکل جاتے ہیں۔ میں شاید نسل در نسل مڈل کلاسیا ہوں۔ بہرحال آخر ایسا کیا ہے جو مجھے ایک مڈل کلاسیا بناتا ہے؟

سوچوں تو تین معاملات یعنی ریاست، سیاست اور معیشت میں میری سوچ، میرا کردار مجھے مڈل کلاسیا بناتا ہے۔عموماً یہ کردار ہوتا ہے ریاست کے تھانیدار کا، سیاست کے ٹھیکدار کا اور معیشت کے جمعدار کا۔ مثلاً پہلے ریاست کو ہی لے لیجئے۔ ہر چھوٹی یا بڑی، اچھی یا بُری، باضابطہ یا بے ضابطہ ریاست (یعنی سٹیٹ) ایک حاکم رکھتی ہے اور ہر حاکم ایک حکومت (گورنمنٹ) کے بل بوتے پر ہی ایک ریاست یا سٹیٹ چلا پاتا ہے۔ حاکم سے حکومت چھن جائے تو نہ صرف وہ حاکم نہیں رہتا بلکہ ریاست کا وجود بھی ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے- ایسے میں یہ عین ممکن ہے کہ حاکم اپنی ریاست سمیت، دوسری ریاست کا محکوم ہو جائے (جس سے شائد سب سے زیادہ نقصان حاکم اور پھر مجھ مڈل کلاسیے کا ہوتا ہے)- اس تمہید سے مراد یہ کہ حکومت اور نظامِ حکومت یا گورننس کا کسی بھی ریاست میں بہت اہم کردار ہوتا ہے اور یہ کردار کوئی اور نہیں میں یعنی مڈل کلاس ہی ادا کرتا ہوں، یعنی تھوڑا حاکم، تھوڑا محکوم، یہاں میں حکومت کا تھانیدار ہوں۔ اب یہ شاید حکومت کی خواہش اور محکومی کا خوف ہے جو مجھ سے ہر حاکم کی محکومی کراتا ہے، نوکری کراتا ہے، چاکری کراتا ہے۔ میرے نزدیک تعلیم کے حصول کا مقصد ایک اچھی نوکری ہے، ایک ڈگری کا ٹھپہ چاہئے، علم چاہے نہ ملے۔ کچھ لڑکیوں کے والدین انھیں صرف اس وجہ سے میڈیکل ڈاکٹر بناتے ہیں کہ اچھا رشتہ مل جائے گا۔ عموماً ایسی لڑکیاں شادی کے بعد گھر گر ہستی سنبھالتی ہیں اور پریکٹس نہیں کرتیں۔ اگر کہا جائے کہ یہ تو ان کے بلکہ سارے ٹیکس گزار طبقے کے ساتھ زیادتی ہے تو جواب ملتا ہے کہ جی ہم کھاتے پیتے لوگ ہیں، ہمارے ہاں لڑکی کے نوکری کرنے کا رواج نہیں۔ یعنی ڈاکٹر بننے کا  رواج تو ہے، ڈاکٹری کرنے کا نہیں۔ میں بھی ایک ایسی لڑکی جیسا ہی ہوں۔ تعلیم کا مقصد ڈگری کا استعمال ہے، علم کا استعمال نہیں۔ تعلیم کے ساتھ ہی جڑا شعبہ تربیت کا بھی ہے، یہ دراصل تربیت ہی ہے جو عملی زندگی میں کام آتی ہے۔ تربیت سے میری مراد کوئی فنی یا تکنیکی تربیت نہیں، نوکر (یا نوکر پیشہ) بننے کی تربیت ہے جو سکول کالج میں خوب ملتی ہے۔ سوال (یا کم از کم غلط وقت پر غلط سوال) نہ کرنے کی تربیت، معلومات کو بے چوں چراں حقائق مان لینے کی تربیت، حالات کو ‏Given‏ یا “بس ایسا ہی ہے” تسلیم کرنے کی تربیت، وغیرہ وغیرہ۔‏

ریاست کے بعد آتے ہیں سیاست کی جانب، جو دراصل ریاست کا ہی ایک جزو ہے۔ لیکن سیاست سے میری مراد حکومتی معاملات نہیں، روزمرہ کی سیاست ہے۔ معاشرے کی سیاست، سماج کی سیاست، مذہب کی سیاست۔ یہاں میں سماج کا ٹھیکیدار ہوں۔ میری لُغت اقدار، اخلاقیات، روایات اور ایسے ہزاروں دیگر الفاظ سے بھری پڑی ہے۔ امیر دماغ سے سوچتا ہے، غریب پیٹ سے۔ اب میں چونکہ امیر ہوں نہ غریب، اس لئے دل سے سوچتا ہوں۔ مذہب، قوم، وطن، معاشرت سب کا درد رکھتا ہوں۔ ملک سے باہر ہوں تو ملک کے لوگوں کا غم ستائے جاتا ہے، ملک کے اندر ہوں تو بڑھتی ہوئی فحاشی اور بے حیائی پر دل خون کے آنسو روتا ہے یعنی انہی لوگوں کی ہجو کرتا ہوں۔ حیرت کی بات یہ کہ ملک کے باہر ہوں تو یہ تفکر خاصا بدل جاتا ہے۔ یعنی ملک سے باہر آس پاس فحاشی نظر نہیں آتی اور ملک کے اندر رہوں تو ملک کے لوگوں کا نہیں، اپنا غم ستاتا ہے۔ قومیت کا سبق مجھے سکول، کالج، یونیورسٹی بلکہ میڈیا تک میں گھول گھول کر پڑھایا جاتا ہے۔ یہ الگ بات کہ جرنیلوں کے اپنے بچے باہر پڑھتے اور رہتے ہیں اور قوم کے بچے قومی غیرت کے نام پر جنگ کا ایندھن بنتے ہیں۔ میڈیا کے برزجمہر دبئی میں بیٹھ کر اپنا قومی فریضہ پرائم ٹائم سیاسی ٹاک شوز اور بریکنگ نیوز کی صورت پُورا کرتے ہیں۔ سیاستدان اور بیوروکریٹ گرمیوں کی چھٹیاں اپنے بچوں کے پاس یورپ، امریکہ، آسٹریلیا میں گزارتے ہیں اور “طبیعت زیادہ خراب ہونے کی صورت میں” مستقل وہیں منتقل ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف آپ کسی غریب سے “پاکستانیت” کی تعریف پوچھیں تو وہ آپ کا منہ دیکھنے لگے گا۔

بات ہے سیاست کی تو میں سیاسی لیڈر کا جھنڈا بردار بھی ہوں۔ غریب سے آپ کسی کے حق میں نعرہ لگوا لیجئے، کسی کو ووٹ دلوا دیجئے، وہ سیاسی ضمیر کا تردد پال ہی نہیں سکتا۔ صرف پیٹ بھرنا چاہئے، چاہے ایک وقت کے لئے ہی سہی۔ دوسری جانب سیٹھ یعنی سرمایہ دار بھی “اصولی سیاست” کا تکلف نہیں کرتا، ہر پارٹی کو چندہ دیتا ہے، ہر لیڈر سے یاری رکھتا ہے، بس اسکے کاروبار پر زد نہ پڑے، اسکے سرمائے میں اضافے کا انتظام ہوتے رہنا چاہئے۔ یہ میں مڈل کلاسیا ہی ہوں جو فیس بُک، ٹوئٹر اور اسی قبیل کے دیگر سوشل میڈیا فورمز میں اپنے لیڈر کی جنگ لڑتا ہوں، بے تیغ، بلا معاوضہ۔ جب میرے اپنے ہی بنائے ہوئے بُت پاش پاش ہوتے ہیں تو سب سے بدزن ہو جاتا ہوں، سیاست کو گندا کام کہہ کر کنارہ کش ہو جاتا ہوں۔ سیاست دان مزید شیر ہو جاتے ہیں، غریب کا ووٹ مزید ارزاں ہو جاتا ہے۔

ریاست اور سیاست کے بعد بات آتی ہے معیشت کی۔ یہاں میں سیٹھ یعنی سرمایہ دار کاجمعدار ہوں، یعنی سیٹھ کا مال بیچتا ہوں اور یوں اسکے لئے مزید مال جمع کرتا ہوں۔ اگر قسمت اچھی ہو تو سیٹھ مجھے منشی رکھ لیتا ہے۔ میں ملکی یا غیر ملکی یونیورسٹیوں سے بزنس کی مہنگی ڈگریاں خرید لاتا ہوں اور ایف اے، بی اے پاس سیٹھ کی چاکری کرتا ہوں۔ تنخواہ چند ہزار یا چند لاکھ لیتا ہوں لیکن حساب کتاب کروڑوں اور اربوں کا رکھتا ہوں۔ سال کے آخر میں بونس، کسی تیسرے درجے کے سیاحتی مقام مثلاً دبئی یا تھائی لینڈ کا ٹکٹ اور کمپنی کی مہیا کردہ گاڑی میری مڈل کلاسیت کو چھپا دیتی ہے۔ چاہے کچھ وقت کے لئے ہی سہی، اپنے کالے رنگ پر چونے کا لیپ کر کے بگلوں میں جا ملتا ہوں۔ لیکن ہمیشہ قسمت یاوری نہیں کرتی۔ ایسے میں میں صرف صارف یا کنزیومر کا کردار ہی ادا کرتا ہوں۔ سیٹھ اپنے پیسے کے بل بوتے پر مجھے خوبصورت دنیا کے خواب دکھاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ڈیزائنر برانڈ کے کپڑے اور میک اپ مجھے جارج کلونی (یا ہیوگ جیکمین, وغیرہ وغیرہ) بنا دکھائیں گے اور میری بیگم کیتھرین زیٹا جونز (یا ڈریو بیری مور، وغیرہ وغیرہ) لگنے لگے گی۔

صاحب مجھے مڈل کلاسیا ہونے میں شرمندگی نہیں۔ یہ دنیا کا قانون نہیں تو کم از کم نظام ضرور ہے ہے۔ میں البتہ خوش ہوں کہ کم از کم مجھے اپنی بہت سی متضاد سوچوں اور باہم متصادم افعال کی وجہ تو معلوم ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

ایمزون پر موجود کتابیں پڑھیئے۔۔ بالکل مفت

Posted in urdu by Shah Faisal on اگست 16, 2012

صاحبو اگر آپ بھی بندہ ناچیز کی طرح مفت خورے یا کنجوس ہیں تو یہ خبر آپکے اچھی ہے، گرچہ شائد نئی نہ ہو۔

ویسے تو کاپی رائٹ سے باہر کتابیں آپکو بہت سی سائیٹس پر مل جائیں گی لیکن عموماً یہ سب کتابیں نہایت پرانی ہوتی ہیں اور ان میں سے بہت سی شاید زمانہ حال کے حوالے سے اپنی افادیت اگر بالکل ختم نہیں تو کم از کم کافی کم ضرور کر چکی ہوتی ہیں۔
ایسے میں کیا ہی بات ہے جب ایمزون جو دنیا میں کتابوں کی شاید سب سے بڑی دکان ہے، پر موجود نت نئی کتانیں آپکو بالکل مفت مل جائیں۔ دھیان رہے کہ میں برقی کتابوں یعنی ای بکس کی بات کر رہا ہوں۔ انکو آپ ای بک ریڈر مثلاً ایمزون کنڈل یا ایمزون کی جانب سے مہیا کردہ کسی بھی طریقے (ونڈوز، میک، آئی او ایس، انڈرائڈ، ونڈوز فون، کسی بھی ویب براؤز وغیرہ) پر آرام سے پڑھ سکتے ہیں۔ اس کے لئے صرف یہ ضروری ہے کہ آپکا ایمزون میں اکاؤنٹ ہونا چاہئے۔ ایک (خاصی) بُری خبر البتہ یہ ہے کہ ایمزون اپنی برقی کتب پاکستان کے کسی پتے پر بنائے گئے کسی اکاؤنٹ پر نہیں بھیجتا۔

ویسے تو کئی ویب سائیٹس آپکو ایمزون پر چھپنے والی مفت کتابوں کے بارے میں بتائیں گی لیکن دو ویبسائیٹس جو مجھے کار آمد لگی ہیں وہ ڈیلی فری ای بکس اور ون ہنڈرڈ فری بکس ہیں۔ ان میں سے اول الذکر کا ایک ونڈوز فون ایپ بھی موجود ہے جس سے مجھے اسکے استعمال میں کافی آسانی ہوتی ہے کہ کہیں بھی بیٹھے بٹھائے میں مفت کتابیں خرید سکتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ اینڈرائڈ اور او آئی ایس میں بھی یقنا ایسی ایپس موجود ہوں گی جو ان یا ان جیسی ویبسائیٹس کےلئے مخصوص ہونگی۔ اگر نہ بھی ہوں تو آر ایس ایس فیڈز تو ہیں ہی جس کے ذریعے آپ ان پر موجود نئے مواد کو باآسانی دیکھ سکتے ہیں۔
اگر آپکی نظر میں بھی ایسی کوئی سائیٹس ہیں تو ضرور بتائیے۔

ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن

Posted in urdu by Shah Faisal on جون 14, 2012

صاحبو مجھے نہیں معلوم کہ ملک ریاض اچھا شخص ہے یا بُرا، مجھے بہرحال پسند ہے۔ بادی النظری میں تو اس کا کرپٹ نہ ہونا محال لگتا ہے کہ پاکستان میں چھوٹا سا کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا، یہ تو چند برسوں میں ارب یا شاید کھرب پتی بن گیا۔ وہ بھی کسی ہائی ٹیک، سلیکون ویلی قسم کے کاروبار میں نہیں بلکہ پراپرٹی کے بزنس میں جو پاکستان کے شاید غیر شفاف ترین (غلیظ ترین کہنا شاید کسی کے ساتھ ناانصافی ہو) کاموں میں سے ایک ہے۔ لیکن پھر بھی اسکی تعریف نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ آج بھی اپنے ماضی کا ذکر فخر سے کرتا ہے۔ زیادہ سخت الفاظ میں کہوں تو اس نے اپنا باپ نہیں بدلا۔ کسی بادشاہ کی کہانی پڑھی تھی کہ ایک صندوق میں اپنی غربت کے دور کا لباس رکھ چھوڑا تھا جسے روز نکال کر دیکھتا تھا۔ پاکستان کے طاقتور ترین طبقات میں سے دو یعنی فوج اور بیوروکریسی میں اکثریت مڈل کلاس کی ہے، لیکن افسوس کہ اس بادشاہ کے برعکس، یہ سب اپنا اصل لباس اتار کر جلا دیتے ہیں، کچھ کاکول یا لاہور جا کر، کچھ کسی اونچے خاندان میں شادی کے بعد، کچھ سیکرٹری بن کر، کچھ بریگیڈئر یا جنرل کا ستارہ لگا کر۔ غرض یہ کہ کچھ جلد، کچھ دیر سے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ملک ریاض ان لوگوں کی قیمت لگا لیتا ہے، خرید لیتا ہے، جیب میں رکھتا ہے۔ اپنی اصل کو یاد رکھنے والے کو، اپنے پرانے کپڑوں کو سنبھال کر رکھنے والے کو، اپنے باپ کو نہ بدلنے والے کو خریدنا آسان نہیں ہو گا۔

میں نے بحریہ ٹاؤن کا نام پہلی مرتبہ غالبا 2004 میں ایک ساتھی سے سنا جس کے ساتھ میں بنک الفلاح میں ملازمت کرتا تھا۔ وہ بڑی خوشی سے مجھے بتایا کرتا کہ اسکا بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ ہے۔ میں چونکہ اس قسم کے معاملات یعنی زمین، جائداد وغیرہ میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتا تھا اسلئے زیادہ جاننے کی کوشش نہ کرتا۔ پھر ایک دوست نے بتایا کہ اسکے دفتر کے ایک ساتھی کو، جسکی تعلیم غالبا٘ ٹاؤن پلاننگ میں تھی، ملک ریاض نے ملازمت دی ہے۔ یوں ملک ریاض کا نام سننا شروع ہوا اور یہ بات اچھی لگی کہ کوئی پراپرٹی ڈویلپر ایسا بھی ہے جو ٹاؤن پلاننگ کر کے “کالونیاں” بناتا ہے۔ یہ کالونی کی اصطلاح کم از کم میرے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں بہت عام تھی (شاید اب بھی ہو) جہاں عموما٘ شہر کی آبادی بڑھنے پر شہر کے آس پاس کی زمین کو رہائشی علاقے میں تبدیل کر لیا جاتا۔ یہ کام عموما٘ رئیل اسٹیٹ ایجنٹ (یا پاکستانی لحاظ سے زیادہ موزوں اصطلاح “پراپرٹی ڈیلر”) کرتے تھے۔ یہ زرعی زمین عام طور پر سستے داموں لی جاتی، زیادہ سے زیادہ ڈویلپمنٹ یہ کی جاتی کہ چونے کی لکیروں سے پلاٹوں کی حد بندی کر لی جاتی، ایک آدھ پختہ سڑک بنا لی جاتی یا چند ایک بجلی کے کھمبے لگا لئے جاتے۔

پھر یہی زمین کئی گنا قیمت پر بیچ دی جاتی۔ باقی شہری ضروریات (یا سہولیات) یعنی پانی، بجلی، گیس، بجلی، گلیاں، نکاسی آب وغیرہ کی فراہمی کا دار و مدار کالونی کے نئے مکینوں کے زور بازو پر یا سیاسی روابط پر ہوتا۔ مجھے یقین تو نہیں لیکن قرین قیاس یہی ہے کہ چند ایک شہروں بلکہ علاقوں کو چھوڑ کر سارے پاکستان میں رہائشی سکیموں کا چلن یہی ہو گا، خصوصا٘ وہ جو نجی شعبہ ڈویلپ کرتا ہے۔ اب اس بات میں تو شک نہیں کہ اسلام آباد اور دیگر شہروں کے چند علاقے جہاں رہائشی سہولیات کو کوئی تصور موجود ہے، عام آدمی کی پہنچ سے کتنے باہر ہیں اور ہر شخص فوج میں افسر بھی نہیں کہ دوران ملازمت یا ریٹائرمنٹ کے بعد کسی چھاؤنی یا چھاؤنی نما علاقے (یعنی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائیٹیز وغیرہ) میں رہ سکے۔ ویسے تو ایک مہذب معاشے میں پائی جانے والی دیگر عمومی سہولیات بھی پاکستانی مڈل اور لوئر کلاس کی پہنچ سے باہر ہی ہیں، لیکن اس بحث کو پھر کسی وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں اور فی الوقت صرف ہاؤسنگ کی بات کرتے ہیں۔

ایسے ماحول میں جب ملک ریاض نے مڈل کلاس کو شہری سہولیات دینی شروع کیں تو یہ بات ہر کسی کے لئے باعث حیرت تھی۔ میں بحریہ ٹاؤن غالبا 2009 میں صرف ایک مرتبہ گیا ہوں جب ایک دوست وہاں پلاٹ لینا چاہ رہا تھا اور دفتری کاروائی وغیرہ کرنا تھی۔ یورپ، شمالی امریکہ، آسٹریلیا میں رہتے ہوئے جن مناظر کے آپ عادی ہو جاتے ہیں یعنی صفائی، روڈ سائنز، پارک، سبزہ، گھروں کے باہر کچرے کے ڈبے، وہ وہاں بھی نظر آئے۔ جو لوگ پاکستان میں رہتے ہیں اور جنکا اسلام آباد کے چنیدہ سیکٹرز یا ملک کے دیگر شہروں میں موجود کینٹونمنٹ یا چھاؤنی کے علاقوں میں جانا کم کم ہی ہوتا ہے، انکے لئے یقینا٘ بحریہ ٹاؤن حیران کن اور متاثر کن ہے۔ یہ غالبا٘ 2004 ہی کا ذکر ہے، اپنی بنک کی ملازمت کے دوران وہ منظر بھی دیکھا کہ پلاٹ لینا تو دور کی بات، ایسی ہی ایک سکیم (غالبا٘ بحریہ یا کوئی ڈی ایچ اے وغیرہ) کے صرف درخواست فارم ہی کی قلت تھی اور لوگ بلیک میں خرید رہے تھے کہ درخواست جمع کرا سکیں۔

ایسا کیوں ہے؟ سچی بات جو بہت تلخ بھی ہے، یہی ہے کہ پاکستان میں عام آدمی کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔ نہیں ہم سب ایک دوسرے کو انسان بھی سمجھتے ہیں اور شاید کچھ عزت بھی کرتے ہوں۔ لیکن اس سے فرق نہیں پڑتا۔ جن کے ہمیں انسان سمجھنے سے فرق پڑتا ہے، وہ ایسا نہیں سوچتے، سمجھتے۔ ایسے میں ملک ریاض نے اگر عام آدمی کو انسان سمجھا اور ایک وعدہ پورا کیا تو یہ یقینا٘ قابل تعریف ہے۔ جہاں پورے پیسے دے کر بھی آپکو علاج، تعلیم، خوراک، پانی اور ایسی ہی بہت سی بنیادی سہولیات کے نام پر حکومت اور نجی شعبہ دونوں دھوکہ دیتے ہوں، وہاں ملک ریاض ایک علامت بن گئی ہے۔ مڈل کلاس لوگوں نے اپنی خون پسینے کی کمائی سے اس پر اعتبار کیا ہے۔ اس لحاظ سے وہ ان سیاستدانوں سے ہزار گنا بہتر ہے، جن پر مڈل کلاس اپنے مفت کا ووٹ تک ضائع نہیں کرتی، پیسہ خرچ کرنا تو دور کی بات ہے۔

اس لحاظ سے تو گالی کسی اور کے لئے بنتی ہے، گالی تو سیاستدانوں، فوجی جرنیلوں، کرپٹ افسر شاہی اور خود ہمارے لئے بنتی ہے۔ ملک ریاض تو ایک بہت گہری برائی کی صرف ظاہری علامت ہے۔ ملک ریاض تو ایک کاروباری ہے جو پیسے کو دو سے چار کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ اس نے اس ملک کے، اس معاشرے کے مروجہ اصولوں کے مطابق کاروبار کیا ہے۔ اس نے تو ہم سب کو ہماری اشرافیہ کا اصل چہرہ دکھایا ہے اور اس لحاظ سے ہمارا محسن ہے۔ بجائے اسکے کہ ہم اسکی کاروباری ذہانت کی داد دیتے، اس سے فائدہ اٹھاتے، ہم جل رہے ہیں، بھن رہے ہیں اور اسے گالیاں دے رہے ہیں۔

میرا بس چلتا تو ملک ریاض اور اسکے کاروبار پر یونیورسٹیوں میں کورس کرواتا، ریسرچ کرواتا۔ تا کہ ہماری نوجوان نسل کو علم ہوتا کہ جس ملک میں رہتے ہیں، اس میں پیسہ کیسے بنایا جاتا ہے، اسکے ادارے کیا کیا کام کرتے ہیں اور اس معاشرے میں کس ڈگری اور کس ہنر کی کتنی ویلیو ہے۔ صرف منفی نہیں، مثبت پہلو بھی ہیں۔ جو کام وہ کر سکتا ہے، وہ حکومت کیوں نہیں کر سکتی؟ ایک عام آدمی کو اتنی قیمت میں اس معیار کا گھر کیوں نہیں دے سکتی؟ وہ شہری سہولیات کیوں نہیں دے سکتی جو بحریہ ٹاؤن میں ہیں؟

کیا میں بحریہ میں گھر خریدوں گا؟ میں نہیں جانتا۔ مجھے نہیں معلوم بحریہ کا مستقبل کیا ہے۔ ملک ریاض جو سہولیات دے رہا ہے، وہ اسکے بعد بھی جاری رہیں گی یا نہیں؟ سڑکوں کی مرمت، پارکوں کی دیکھ بھال، کچرے کو ٹھکانے لگانا یا بلا تعطل بجلی کی فراہمی، یہ سب کب تک جاری رہے گا؟ دس سال، تینتیس سال یا ننانوے سال؟ اور ویسے بھی میری دلچسپی بلکہ شاید آپ کی بھی، تو اس بات میں ہے کہ یہ سب سہولیات ایک عام علاقے میں ایک عام شہری کو کب ملیں گی؟ پاکستان میں ایک عام انسان کو انسان کب سمجھا جائے گا؟ پاکستان تو کب کا آزاد ہو گیا، پاکستانی کب آزاد ہو گا؟

باتیں کچھ اُردو کی۔۔۔

Posted in Computing, urdu by Shah Faisal on جون 21, 2011

صاحبو بلاگستان میں بات چلی ہے اردو کی ترقی کی ۔ میری اس تحریر کی وجہ بھی ابو شامل صاحب ہی ہیں (یعنی دعاؤں یا بددعاؤں کا رخ ادھر ہی رکھیے) ۔ نہیں ایسا نہیں کہ یہ پہلی مرتبہ ہے اور نہ ہی آخری مرتبہ ہو گی انشااللہ۔ اب بڑھاپے کا ایک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جذبہ مر جاتا ہے، یا کم از کم دھیما ضرور پڑ جاتا ہے۔ میں نے کچھ لوگوں کو اس بارے خاصا پر جوش دیکھا تو اپنے بڑھاپے کا احساس ہونے لگا۔ ایک فائدہ البتہ یہ کہ توانائیوں کی جگہ تجربہ لے لیتا ہے۔ بجائے طاقت صرف کرنے کے آپ اپنی ترجیحات کو ذہن میں رکھتے ہیں، مطلوبہ نتائج کو تولتے ہیں اور ممکنہ لائحہ عمل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ سب ایک ترتیب سے نہیں ایک دائرے میں ہوتا ہے اور بسا اوقات ترجیحات ممکنات کے تابع ہوتی ہیں اور مطلوبہ نتائج کی بجائے متوقع نتائج کی بنا پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ جوانی میں ایسا نہیں ہوتا۔ یا یوں کہہ لیجیے بڑی حد تک نہیں ہوتا۔

دوستوں نے ایک بات کی کمپیوٹر پر اردو کو لکھنے، پڑھنے، دیکھنے کے مسائل کی۔ یہ بات بھی طے پائی کہ ان سب مراحل کو آسان بنایا جائے تا کہ نوواردوں کو ان مسائل سے پریشانی نہ ہو اور وہ گھبرا کر پلٹ نہ جائیں۔ جب فدوی نے بلاگنگ شروع کی تھی تو چند دوستوں نے جن میں قدیر، نعمان، مکی وغیرہ ( اور یقیناً اور دوست بھی کہ جنکے نام میں بھول رہا ہوں اور جن سے معافی کا خواستگار ہوں) قابل ذکر ہیں، تکنیکی مدد دی تھی۔ بعد کے عرصے میں بلال کا کام ہمیشہ بہت مددگار ثابت ہوا۔ میری طرح ٹیکنالوجی سے نابلد دوسرے حضرات کی مدد کرنے یقیناً لوگ سامنے آئے ہونگے لیکن یہ انفرادی حیثیت میں ہی ہوتا رہا۔ اس ضمن میں، میں لیکن بہرحال چند گزارشات گوش گزار کرنا چاہتا ہوں جو یقیناً پہلے بھی کئی مرتبہ کئی دوست کہہ چکے ہیں لیکن یہاں دہرانے میں میں مضائقہ نہیں، کم از کم میری دانست میں نہیں۔

پہلے تو ایک مختصر سا reality check۔ گرچہ تلخ ہی سہی لیکن حقیقت یہی ہے کہ اردو کا انگریزی سے مقابلہ کوئی نہیں ہے۔ بیرون ملک چھوڑیں خود پاکستان میں بھی یہ صرف رابطے کی زبان (اور کم ہی لوگوں کی مادری زبان) ہے۔ گرچہ صورتحال تبدیل ہو رہی ہے کہ مثلاً والدین کے ساتھ سرائیکی بولنے کے باوجود میں اور میرے بہن بھائی اپنے بچوں سے اردو ہی میں بات کرتے ہیں۔ میرے صاحبزادے تو کچھ درمیان کی چیز ہی سیکھ رہے تھے کہ اردو انگریزی دونوں کانوں میں پڑ رہی تھیں۔ خیر اب منے میاں پاکستان میں ہیں اور امید ہے کہ بہت جلد اپنی “اصل” پر آ جائیں گے، یعنی اردو، سرائیکی اور شاید کچھ پشتو کی بھی، سُدھ بدھ ہو جائیگی۔

سو جناب اردو کا مقدمہ صرف انٹرنیٹ پر غیر موجودگی نہیں بلکہ پاکستان میں بھی ایک اقلیتی زبان کے طور پر ہے۔ دفتری زبان انگریزی ہی ہے اور اگلے کئی برس صورتحال تبدیل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی کہ پاکستان کے معاشرے میں انگریزی ایک زبان نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی، ایک طبقہ اور اس طبقے کا ایک ہتھیار ہے۔ دل کے کچھ پھپھولے یہاں پھوڑے تھے، یہ بھی دیکھ لیں۔ اس سے عام عوام کو بےخبر اور اختیار سے دور رکھنے کا کام لیا جاتا ہے۔ سو مسئلہ تکنیکی نہیں سیاسی اور سماجی ہے۔ بہرحال بات نکلے گی تو بڑی دور تلک جائے گی۔ فی الوقت میں آپکے منہ کا مزہ خراب نہیں کرنا چاہتا۔ کچھ نہ کچھ مقابلہ تو کیا ہی جا سکتا ہے اور اسی سلسلے میں چند پریشان خیالات کو یہاں اکھٹا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

1. مواد کی تیاری:
ہم مانیں یا نہیں لیکن بہت سے لوگ اپنے کمپیوٹروں پر اردو لکھنے سے پہلے اردو پڑھنا چاہیں گے۔ لکھنے کا مسئلہ اکثر کچھ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، خصوصا اسوقت جب بہت سے لوگوں مثلاً بلال اور اداروں مثلاً کرلپ نے اسکے بہت آسان حل نکال چھوڑے ہیں۔ پڑھنے کا معاملہ میرے نزدیک زیادہ سنجیدہ ہے اور لوگوں کو اردو پڑھنے پر راغب کرنے کیلئے content یا مواد (یعنی اچھے معیار، مقدار اور ہمہ گیر/ موضوعاتی مواد کا ہونا) بہت ضروری ہے۔ یہ مواد وکیپیڈیا کے خزانے کا اردو ترجمہ کر کے تخلیق کیا جا سکتا ہے۔ یہ مواد انفرادی یا اجتماعی بلاگ لکھ کر بھی بنایا جا سکتا ہے ۔ یہ کام اردو یا دیگر زبان کی کتابوں کو مروجہ اصولوں کے مطابق ڈیجیٹل حالت (یعنی یونی کوڈ) میں لانے کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ کام حکومت اور غیر حکومتی اداروں کو اس بات پر راضی یا مجبور کر کے بھی کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹس کا بیشتر یا کم از کم کچھ حصہ اردو میں رکھیں۔ یہ مواد یوٹیوب پر اردو زبان میں روزمرہ ٹیکنالوجی مثلاً کمپیوٹر، موبائل فون، بینکنگ وغیرہ سے متعلق اسباق یا ٹیوٹوریلز بنا کر بھی تخلیق کیا جا سکتا ہے۔ یہ اردو سے متعلق مختلف حکومتی اداروں کو اپنے دائرے میں لانے اور انھیں زیادہ پیداواری، زیادہ ذمہ دار اور زیادہ جوابدہ بنا کر بھی کیا جا سکتا ہے۔ ویب ٹو مثلاً یو ٹیوب، فلکر، فیس بُک، ٹویٹر وغیرہ کا بہتر استعمال بہت ضروری اور فائدہ مند ہے۔ میں آنلائن سوشل نیٹورکنگ کا بہت زیادہ دلدادہ نہیں لیکن بہرحال لنکڈ اِن، فلکر، گوگل بز، یوٹیوب وغیرہ استعمال کرتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ لوگوں تک یہ بات پہنچ سکے کہ کمپیوٹر پر اردو لکھنا پڑھنا کوئی انہونی بات نہیں۔ آپ بھی ایسا کر سکتے ہیں اور جو کر رہے ہیں اسے زیادہ بہتر بنا سکتے ہیں۔ میرے ناقص خیال میں ان سب باتوں میں سے ہر ایک پر کچھ نہ کچھ کام ہو رہا ہے اور صرف اس میں منظم طریقے سے بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

2. منصوبہ سازی:
پلاننگ کا کردار نہایت اہم ہے۔ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں؟ اردو کی ترویج۔ لیکن یہ دو دنوں میں ہونے والا کام تو ہے نہیں، شائد چند نسلیں لگیں اس کام میں۔ تو اس مقصد کو مقصدِ اعلیٰ بناتے ہوئے چھوٹے چھوٹے سنگ میل ترتیب دیں اور ان تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ ہر منصوبے یا پراجیکٹ کی ایک شروعات ہوتی ہے، ایک یا چند گنے چنے مقاصد، ان کو پورا کرنے کے لیے ذرائع، اور خاتمے کا ایک وقت۔ میں پراجیکٹ مینجمنٹ پڑھ بلکہ تھوڑا بہت پڑھا بھی چکا ہوں اور لاگ فریم سے بھی واقفیت ہے۔ چند ایک پراجیکٹس ، دفتری بھی اور ذاتی/ رضاکارانہ بھی، بنانے اور چلانے میں شامل بھی رہا ہوں اسلیے اس کی اہمیت سے واقف ہوں۔ اس ضمن میں “ک” کو ذہن میں رکھیں: یعنی:

الف) کون۔۔۔
ب) کس وقت۔۔۔
ج) کس جگہ۔۔۔۔
د) کس طریقے سے۔۔۔۔
ہ) کیا۔۔۔۔۔

کرے گا؟

یہ سوال یا مجموعہ سوالات آپکو خود بخود مجبو ر کر دیتا ہے کہ آپ منصوبہ سازی کریں۔ یعنی اس بات کا فیصلہ کریں کہ کس مقصد کے حصول کیلئے کیا کرنا ہے اور اسکو کرنے کیلئے ذمہ داروں کا تعین کریں۔ انکو وقت اور دیگر ذرائع مہیا کریں اور جوابدہی کا ایک نظام بنائیں۔

3. پیسہ، پیسہ، پیسہ
جی ہاں خود بھی پیسہ کمائیں اور اپنے منصوبے کیلئے بھی پیسے کا بندوبست کریں۔ ہمارے محلے کی چار صف کی چھوٹی سی مسجد سے لے کر بین الاقوامی ادارے، یہاں تک کہ سرکارے ادارے بھی، کسی نہ کسی سطح پر فنڈ ریزنگ کرتے یا چندہ مانگتے ہیں۔ میں چندے کے خلاف نہیں لیکن میری ناقص رائے میں، کام ہی ایسا کرنا چاہیئے جس کی طلب ہو۔ پیسہ خود بخود جھولی میں آ گرتا ہے۔ مثلاً لوگ فلسفے پڑھنے سے زیادہ ایک موبائل فون کا ریویو پڑھنا چاہیں گے۔ اردو کی ترویج کیلئے بھی ایسا ہی بندوبست ہونا چاہیئے۔ ویبسائٹس پر اشتہارات، سرکاری، نیم سرکاری، اداروں یا نجی کاروباروں کےلئے اردو ویبسائیٹس بنانے کا کام، پبلشرز کے لئے یونی کوڈ میں مواد کی منتقلی، کچھ ذرائع ہو سکتے ہیں۔ کچھ پیسہ محدود پیمانے پر آئی ٹی سے متعلق ٹریننگ وغیرہ دے کر بھی کمایا جا سکتا ہے تو (بہت ہی چھوٹے پیمانے کے) اداروں کی کمپیوٹرائزیشن بھی شاید ایک سلسلہ بن سکے۔

ہر معاشر ے کی طرح پاکستان میں بھی تقریباً ہر کام کرنے کے لئے رضاکار مل جاتے ہیں۔ لیکن ایسا سمجھنا کہ رضاکارانہ کام کروانے سے پیسے یا وقت کی بچت ہوتی ہے، بہت ہی بڑی غلطی ہے۔ اکنامکس میں ایک پوری سوچ transaction costs کے متعلق موجود ہے۔ شوقین حضرات یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ ان بابا جی بہ نام رونلڈ کوس، کو نوبیل انعام غالباً اسی سوال کا جواب ڈھونڈنے پر ملا کہ لوگ کب مل کر کام کرتے ہیں (یعنی ایک فرم کی شکل میں) اور کب وہ انفرادی طور پر کام کریں گے۔ جواب یہ تھا کہ جہاں خرچہ کم آئگا یا فائدہ زیادہ ہو گا، وہ راستہ اپنایا جائے گا۔ مثلاً میں پھیری لگا کر سبزی بیچتا ہوں تو گدھا گاڑی اپنی لے لوں یا روزانہ کرائے پر حاصل کروں؟ دفتر کے باہر گارڈ اپنا رکھوں یا کسی کمپنی سے کرائے پر حاصل کروں، وغیرہ۔ بات اتنی سادہ نہیں لیکن کچھ ایسی ہی ہے

بہرحال کہنے کا مقصد یہ تھا کہ رضاکارانہ کام کرانے کے اپنے جھنجھٹ ہوتے ہیں اور بہت ہوتے ہیں اسلیے بسا اوقات پیسے دے کر کام کروانا زیادہ سستا پڑتا ہے۔ اسی طرح کام کرنے والے کو بھی دیکھنا چاہیے کہ مفت کام کرنے کی حد کہاں ختم ہوتی ہے اور اپنی خدمات کا معاوضہ لینے کی کہاں شروع۔

4. عربی کا اونٹ بنیں:
بنے بنائے پلیٹ فارم استعمال کریں۔ وہاں جائیں جہاں لوگ آپکو دیکھ، سن سکیں۔ چاہے یہ کوئی ملاقات ہو، چاہے کوئی بلاگ ایگریگیٹڑ ہو، چاہے بی بی سی اردو یا دوسری مشہور اردو یا انگریزی ویبسائٹ ہو۔ لوگوں کو بتائیں کہ آپ بطور اردو بلاگر اور بطور بلاگستان کے ایک ممبر کے، اپنا وجود رکھتے ہیں۔ بہت عرصہ پہلے عواب نے مہمان لکھاریوں کو مدعو کیا تھا لیکن میرے اس سوال پر کہ کیا وہ اردو پوسٹ بھی قبول کریگا، خاموش ہو گیا تھا۔ اب اگر وہ آپکو دعوت دے رہا ہے تو وہاں اور دیگر جگہوں پر بطور مہمان لکھاری ضرور لکھیں۔

5. پہیے کو دوبارہ ایجاد کرنے کا فائدہ نہیں:
جو ہو چکا ہے اس کو لے کر آگے بڑھیں۔ اس میں کوئی شرمندگی نہیں ہونی چاہیے کہ ہم کسی اور زبان میں تخلیق کی گئی ٹیکنالوجی بلکہ اصطلاحات کو بھی، اردوا رہے ہیں یا جوں کا توں ترجمہ کر رہے ہیں۔ یہ ترقی کی پہلی سیڑھی ہی ہے۔ مروجہ اصولوں کی پاسداری البتہ ضروری ہے۔ مثلاً کسی کے اچھے کام پر اسکا شکریہ ادا کریں اور اسکے کام کو اپنا کام کہہ کر دوسروں سے داد مت سمیٹیں۔

6. مناسب تشہیر:
میرے ایک استاد کے مطابق ایک ہاتھ سے کام کرنا، دوسرے سے ڈھول بجانا چاہیے۔ ابھی چند دن پہلے کراچی میں بلاگر حضرات مل بیٹھے۔ میرے بس میں ہوتا تو بطور ایک اردو بلاگر کے (چاہے جیسا بھی ہوں، آدھا پونا ہی سہی)، ضرور حاضری دیتا۔ میری عاجزانہ گذارش ہے کہ ایسے مواقع کبھی ضائع مت کریں۔ خوب تیار ہو کر جائیں، یعنی بلاگستان کی تازہ ترین صورتحال سے لیس ہو کر، ایک آدھ پریزینٹیشن بنا کر، جائیں۔ اسلام آباد میں بلاگر ملاقات اچھی تجویز ہے، اردو بلاگر تو خاص طور پر ملیں اور اس ضمن میں میٹرو بلاگز کا پلیٹ فارم استعمال کریں۔ مجھے یقین ہے زیادہ لوگ بلاگستان بارے جانیں گے اور آئیں گے۔ تصاویر بنائیں، ویڈیو بنائیں، رپوتاژ لکھیں اور اخبارات کو بھیج دیں۔ کوئی نہ کوئی تو چھاپے گا ہی۔ لیکن یہاں بھی سنجیدہ تیاری کریں مثلاً ملاقات کا ایجنڈا طے کریں۔ صرف گپ شپ ہو تو ایک دو مرتبہ کے بعد لوگ آنا چھوڑ دینگے۔

7. اردو بلاگر حضرات کی تنظیم سازی۔
مشکل کام ہے، بہتر ہے کہ ہوم ورک کر لیں۔ مثلاً آئین کی تیاری، اغراض و مقاصد کا تعین، عہدوں کا تعین اور پھر چناؤ، ملکی قوانین کے مطابق اسکی رجسٹریشن، بنک اکاؤنٹ، فنڈز کے حصول کیلئے فیس اور چندہ وغیرہ وغیرہ۔ یہ کافی لمبا کام ہے لیکن نا ممکن نہیں۔ فی الحال میرے پاس تو اگلے سال کے اوائل تک بالکل وقت نہں لیکن اگر اگر کوئی دوست یہ بھاری پتھر اٹھانا چاہیں تو میں بعد میں ساتھ دے سکونگا، انشااللہ۔

میں اس تحریر کی طوالت اور انداز کیلئے معذرت خواہ ہوں۔ چاہتا تھا کہ بیشتر پہلوؤں کا ذکر ہو جائے ۔ اور یقیناً میرا مقصد ڈکٹیشن دینا بھی نہیں، اگر کسی کو کوئی بات بُری لگی ہو تو کہہ دیجیئے۔ میں ذاتی طور پر معافی مانگ لونگا۔ آپکی تجاویز کا انتظار رہیگا۔ اگر آپ اس پوسٹ کو اپنے بلاگ یا دیگر جگہوں پر لگانا چاہیں تو میری جانب سے اجازت ہے، مروجہ رواج کے مطابق۔ باقی آپ خود سمجھدار ہیں ۔

نوکیا کی شادی

Posted in Computing, Mobile, Technology, urdu by Shah Faisal on مارچ 12, 2011

صاحبو یہ خبر شاید اتنی دلچسپ تو نہیں ہے لیکن ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس نے کچھ بھونچال ضرور پیدا کیا ہے۔  اب خبریں تو کئی طرح کی ہوتی ہیں، ایک وہ جو شام تک باسی اور void ہو جاتی ہیں، دوسری وہ جنکے اثرات بہت عرصے تک رہتے ہیں، یہ خبریں وقت کا دھارا تبدیل کر دیتی ہیں اور مستقبل کا رخ متعین کرتی ہیں۔ بہت نہیں تو کچھ کچھ ایسی ہی ایک خبر وہ تھی جب نوکیا نے اس بات کا اعلان کیا کہ آنے والے دنوں میں انکے سمارٹ فون مائکروسوفٹ کے ونڈوز موبائل سیون نظام سے  لیس ہوں گے۔ اس خبر نے کچھ کو حٰیران کیا اور کچھ کو پریشان۔۔۔کیوں؟ کچھ نظر ماضی پر ڈالتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ نوکیا کچھ عرصے پہلے تک موبائل فون کی دنیا کا بے تاج بادشاہ تھا۔ میری ناقص رائے میں اسکی ایک وجہ تو کچھ عوامل مثلاً اسکی مناسب قیمتیں، آسان استعمال اور بہترین ہارڈ ویر تھے لیکن دوسری طرف ایک بہت ہی اہم بات اسکا اپنا پلیٹ فارم سیمبین تھے۔ آپکو یاد ہو گا کہ اُن دنوں کچھ فون مثلاً سونی ایریکسن وغیرہ مستعار لیے سیمبین پر چلتے تھے، کچھ لینکس پر مثلاً موٹورولا کے کچھ ماڈل، کچھ ونڈوز پر (مثلاً ایچ ٹی سی) اور کچھ تو جاوا استعمال کرتے تھے۔ کچھ بڑے کھلاڑی اپنا اپنا پلیٹ فارم استعمال کرتے تھے (مثلاً پام اور بلیک بیری)۔ وقت بدل گیا اور موبائل فونز سے لوگوں کی توقعات بھی۔ بات جہاں تھی بلیک بیری، موٹورولا، ایل جی وغیرہ وغیرہ کی تو نوکیا اچھا مقابلہ کرتا رہا (گرچہ میرے خیال میں سمارٹ فونز ہمیشہ سے ہی اسکا میدان نہیں رہے ہیں، لے دے کر ای سیریز ہی کچھ جگہ بنا پائی کہ جسکا اپنے زمانے کے حساب سے شاید دنیا کا بہترین فون ای نوے تو بہت سے لوگوں کو یاد ہو گا ہی اور تازہ ترین اضافہ ای سات ہے) لیکن جب ایپل کے آئی فون کا ظہور ہوا تو بڑے بڑے برج الٹ گئے۔ ایپل سے شہہ پا کر گوگل نے بھی اس میدان میں قسمت آزمائی کی اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ایپل کو کسی کے ڈراؤنے خواب آتے ہونگے تو وہ گوگل کے انڈرائڈ نظام کے ہوں گے۔

انڈرائڈ نے کئی مردہ (یا نیم مردہ) گھوڑوں میں جان ڈال دی جن میں موٹورولا قابل ذکر ہے جبکہ ایچ ٹی سی، سیم سنگ، ایل جی وغیرہ کو بھی کافی فائدہ ہوا جنھیں ایک آزاد مصدر پلیٹ فارم انڈرائڈ کی شکل میں میسر آ گیا۔جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو نوکیا کہاں تھا؟ میرا خیال ہے نوکیا ایک طرف تو اپنے ماضی میں رہ رہا تھا اور سیمبین کو لمبی ریس کا گھوڑا سمجھ رہا تھااور دوسری طرف کچھ  نیم دلانہ تجربات بہ صورت مائمو کے کر رہا تھا ( کہ جس پر نوکیا کا صرف ایک فون این 900 چلتا ہے، بشمول کچھ پرانی انٹرنیٹ ٹیبلیٹس کے)۔ انہی تجربات میں ایک تجربہ سیمبین کو آزاد مصدر قرار دینا بھی تھا۔ نوکیا کو یہ امید تھی کہ اسطرح ڈولیپرز دوڑے چلے آئیں گے اور نوکیا کی بلے بلے ہو جائے گی۔ دوسری جانب نوکیا آنے والے کچھ سمارٹ فونز کو میگو پر چلانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔ ایک خواب جو اب شائد کبھی پورا نہ ہو سکے۔

ماضی کا بیان کچھ لمبا ہو گیا لیکن بہرحال اسلیے ضروری تھا کہ نوکیا کے حالیہ فیصلے کو اسی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ نوکیا کی ایک اور غلطی ہی لگتی ہے۔ اس فیصلے سےجہاں میگو پراجیکٹ میں نوکیا کا ساجھے دار انٹل (جو غالباً اپنا بھی ایک فون مارکیٹ میں لانے کا ارادہ رکھتا تھا) خوش نہیں (گرچہ انٹل نے اس پراجیکٹ کو جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے) وہیں خود نوکیا کے اپنے ڈویلیپرز میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی اور انھوں نے اسکا اظہار بھی کیا۔ گرچہ نوکیا نے انھیں کچھ مفت فون دے کر خوش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن یہ کچھ ایسی پائدار کوشش یقینا نہیں ہے۔ انہی ڈولیپرز کو سیم سنگ نے بھی گود لینے کی کوشش کی ہے لیکن سیمبین کا مستقبل اب تقریباً نوشتہ دیوار ہے، آخر بچھے کچھے پندرہ کروڑ فون سیٹ بکنے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے؟

کہنے والے کہتے ہیں کہ نوکیا بلیک بیری بنانے والی کمپنی رم کے ساتھ ساجھے داری کرنا چاہتا تھا لیکن رم نے انکار کر دیا۔ اسی طرح بہت سے لوگوں کی طرح میری بھی خواہش تھی کہ نوکیا انڈرائڈ کو اپنا لے لیکن نوکیا اور گوگل دونوں اپنی جگہ سے ہٹنے کیلئے تیار نہیں تھے (ایک بڑی وجہ  غالباً گوگل میپس بہ مقابلہ نوکیا اوی میپس تھا) اسلئے یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔ بہرحال اس نئے رشتے کی ایک وجہ تو یقیناً یہ صاحب ہیں جو مائکروسوفٹ چھوڑ کر نوکیا جا بیٹھے تھے (اور ممکن ہے کہ سازشی نظریوں میں یقین رکھنے والے انھیں مائکروسوفٹ کی جانب سے نوکیا میں داخل کیا گیا ٹروجن کا گھوڑا سمجھیں گرچہ وہ اس کا ظاہر ہے انکار کرتے ہیں) لیکن حیرت تو یہ ہے کہ اس رشتے پر دونوں خوش ہیں۔ میرے خیال میں یہ کچھ ایسا ہی ہے جہاں امیر لیکن بوڑھا مرد پینتیس سالہ کنواری سے نکاح کرتا ہے۔ دونوں ہی اسے زندگی کا بہترین فیصلہ کہتے ہیں لیکن اس فیصلے کے پیچھے دراصل زمینی حقائق کا ادراک اور نتیجتہً ڈھیر سارے کمپرومائز ہوتے ہیں۔ جہاں نوکیا اپنے سن رسیدہ آپریٹنگ نظام سیمبین کے سبب پریشان تھا، وہیں مائکروسوفٹ کا موبائل سیون پلیٹ فارم استعمال کرنے والی کمپنیاں مثلاً ایچ ٹی سی اور سیم سنگ اینڈرائڈ پر منتقل ہوتے جا رہے تھے۔

اب دیکھتے ہیں کہ بات کہاں تک جاتی ہے۔ میری ناقص رائے میں یہ اتحاد کچھ عرصہ تو چلے گا کہ دونوں کو اسکی ضرورت ہے لیکن اس میں نقصان نوکیا کا زیادہ ہو گا۔ مائکروسوفٹ تو شاید موبائل سیون بنانے کا خرچ نکال لے لیکن اگر اسکے بعد آگے چلنے سے انکار کر دے تو نوکیا کیا کر لے گا۔سیمبین مردہ ہو چکا ہو گا اور اسکےبچے کچھے ڈویلیپرز بھی شاید کوئی اور نوکری تلاش کر چکے ہونگے۔

ہمیں اچھا لگے یا بُرا لیکن مستقبل آزاد مصدر کا ہی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گوگل کی گرفت بھی انڈرائڈ پر کمزور ہوتی جائے گی۔ یہی دیکھ لیجیے کہ صرف چند ہی برسوں میں اندڑائڈ مارکیٹ (جہاں صرف گوگل کے منظور کردہ اپلیکیشنز ہی دستیاب ہیں) کے متبادل بھی کئی منڈیاں کھل گئی ہیں اور جن پر یقیناً گوگل کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ جیسا کہ ڈیبین لینکس کے بطن سے ابنٹو (جو آج اپنی علحیدہ اور بہت مضبوط شناخت رکھتی ہے)  اور کئی دوسری لینکس اقسام نے جنم لیا، مستقبل میں انڈرائڈ کے بھی دیگر فورکس دستیاب ہو سکتے ہیں۔ یہ بہرحال میری ناقص رائے ہے، آپ کے خیالات جاننے کا انتظار رہیگا۔