Faisaliat- فیصلیات

ہم اور وہ ۔۔۔ منجی کِتھّے پاواں؟؟؟

Posted in Politics, urdu by Shah Faisal on فروری 7, 2007

دوستو میں کنفیوز ہوں، بہت سخت کنفیوز۔ ارے میں نے بڑی محنت، بڑی لگن سے اپنے آپ کو اس دنیا میں پوزیشن (position) کیا تھا۔ ہم کون ہیں؟ ہم کیا ہیں؟ وہ کون ہیں؟ ان سب باتوں کے جواب مجھے فَرفَر یاد تھے بلکہ رَٹے ہوۓ تھے۔ لیکن میں اتنا خوش قسمت نہیں ہوں شا‍‌‎‪‭‬‮‫‏يد۔

ہم اکٹھے بیٹھے تھے۔ "تم پاکستانی ہو؟” اُس نے پوچھا۔ ایں؟ ہاں ہوں تو سہی! "میں پاکستان جا چُکا ہوں، اچھا ملک ہے۔ میرے کچھ دوست بھی بن گۓ ہیں وہاں۔” مارکو بولا۔ یہ سن کر میں فوراً ہی اس لمبے تڑنگے جرمن کی طرف متوجہ ہو گیا۔ اسکا بھی مجھے حیران کرنے کا پورا پروگرام تھا شايد۔”دراصل میں فوج میں تھااور افغانستان جا چکا ہوں”۔ یہ سن کر میں نے مزید غور سے اُسکی طرف دیکھا۔ شايد اسکی آنکھوں میں خون ہو۔۔۔ یا اور کوئی خاص بات جس کو دیکھ کر میں کہہ سکوں کہ یہ قاتل ہے، مسلمانوں کا دشمن۔ بدقسمتی سے مجھے ایسا کچھ دکھائی نہیں دیا۔ شايد اسلۓ بھی کہہ بقول اُس کے وہ وہاں بارودی سرنگیں صاف کرنے گیا تھا۔ وہ بولتا رہا اپنے بارے میں، اپنے گھر کے بارے میں، عام سی باتیں، عام سے لہجے میں، جیسے ہم سب کرتے ہیں۔ اور میں سوچ رہا تھا "اگر اس شخص سے میری ملاقات محاذ پر ہوتی آمنے سامنے۔۔۔ تو بات کتنی مختلف ہوتی؟” اور آج ہم ساتھ ساتھ بیٹھے تھے۔ وہ شرمندگی بھرے لہجے میں کہہ رہا تھا ” وہ لوگ پاگل ہیں، ایسا نہیں ہونا چاہیۓ تھا، انہیں سزا ملنی چاہیۓ”۔ اُسکا اشارہ اُن جرمن فوجیوں کی طرف تھا جنکی تصاویر میڈیا میں چَھپی تھیں، اِنسانی کھوپڑیوں کے ساتھ۔۔۔

پھر چند دن بعد مجھے ایک اور جھٹکا لگا۔ پراکاش جنوبی بھارت سے ہے اور ہمارے گروپ کے چند لائق ترین ارکان میں سے ایک۔ ایک دن یونہی کارگل کی بات چل نکلی۔ کہنے لگا "پاکستان تو ہار گیا تھا”۔ میں غصے سے بھر گیا۔ ہونہہ۔۔۔ ایک سات کا تناسب تھا، اتنا جانی نقصان ہوا بھارت کا کہ دہائی دینے امریکا پہنچ گئے وہ لوگ۔ پھر مجھے خیال آیا یقیناً یہ سب پراکاش نے اپنے ملکی اخبارات میں پڑھا ہو گا یا پھر اپنے نیتاؤں سے سُنا ہو گا۔ اسکا کیا قصور؟ اور یہی تو نرمان اروڑہ کے ساتھ بھی ہوا ہو گا۔ نرمان سُچا پنجابی ہے۔ بڑا ملنسار، خوش اخلاق۔ اُسنے ایک شام منائی بھارت کے نام۔ بھانت بھانت کے لوگ آۓ۔ قسمت کا مارا میں بھی چلا گیا۔ اُسنے بھارت کے بارے میں بہت کچھ بتایا۔ خطے کی تاریخ بتاتے بتاتے بولا ” یہ سرزمین ہمیشہ سے حملہ آوروں کی پسندیدہ رہی ہے۔ مسلمان بھی آئے، غزنوی تو سونے کے لالچ میں کئی مرتبہ آیا”۔ یہ سُن کر میرا دل چاہا کہ کھڑا ہوں جاؤں اور زور زور سے چلاؤں "ارے یہ بکواس کر رہا ہے، وہ بُت شکن تھا، لُٹیرا نہیں”۔ لیکن ایسا کچھ نہ ہوا بلکہ میرے اندر ایک جھماکا سا ہوا۔ ارے یہ کیا؟ اتنا فرق، اتنا تضاد۔۔۔ سوچ میں، تاریخ میں، نقطۂ نظر میں؟ پھر مجھے خیال آیا اِسکا بھی کیا قصور ہے، اس نے اپنی درسی کتابوں میں یہی کچھ پڑھا ہو گا۔ میری تاریخ بھی تو مطالعۂ پاکستان کی کتابوں سے شروع ہو کر اُنہی پر ختم ہو جاتی ہے!!!

پھر اُنہی دنوں ایک اور جنگ چِھڑ گئی۔ حزبُ اﷲ نے مار مار کر اسرائیلی فوج کا دھڑن تختہ کر دیا۔ اِس بار کی جنگ مختلف تھی، عرب بہتر ہتھیاروں کے مالک تھے، اُنکے گرینیڈ اسرائیلی ٹینکوں کو چیر کر نہ رکھ دیتے تو حالات کافی مختلف ہوتے۔ خیر اُنہی دنوں ایک کہانی چَھپی، اٹھارہ انیس سالہ ایک نوجوان محاذ پر بھیجا گیا۔ جاتے جاتے ماں کو کہہ گیا "امی وعدہ کریں کہ واپس آؤں گا تو آپ مجھے Playstation (ویڈیو گیم) دِلا دیں گی”۔ وہ کبھی واپس نہ آیا، محاذ پر کام آ گیا۔ یہ پڑھ کر مجھے افسوس تو ہوا لیکن سَچی بات ہے کہ اتنا نہیں۔ وہ اسرائیلی تھا، ایک یہودی۔ اور یہودی مسلمانوں کے دشمن ہوتے ہیں، سازشی، دھوکہ باز۔۔۔

نہیں نہیں ایسا نہیں کہ میں نے جواب نہ ڈھونڈے ہوں۔ کچھ جواب ملے بھی تھے، بہت آسان۔۔۔۔ ارے بھئ سیدھی سیدھی بات ہے۔ ہم مسلمان، وہ کافر۔ ہم پاکستانی، وہ بدیشی، ہماری چمڑی کالی، اُنکی گوری۔ چلو جی گَل مُکی مٹی پاؤ، میں نے سوچا۔ پھر ایک مسئلہ ہو گیا۔ ایک دن میں نے انٹر نیٹ پر زمین کو دیکھا۔ آپ بھی کہیں گے کہ ارے بدھو، اِسکے لئے اتنے جتن کیوں؟ نظر جھکاؤ ہر طرف زمین ہی زمین۔ دیکھنا ہے تو چاند کو دیکھو، وہ قریب سے کیسا لگتا ہے، وہاں کے دن وہاں کی راتیں کیسی ہیں؟ لیکن خیر میں نے اِس کا اُلٹ کیا، یعنی زمین کو خلا سے دیکھا۔ ایک کُرہ سا تھا، گول مٹول۔ کوئی کونا نہیں، کوئی قطبِ شمالی یا جنوبی نہیں۔ اور ویسا تو بالکل بھی نہیں جیسا میرے قدموں تلے نظر آتا ہے۔ میں حیران رہ گیا۔ ارے اتنا فرق، صرف جگہ کے بدلنے سے؟؟؟ پھر اشتیاق بڑھا، میں ” زُوم اِن” (zoom in) کر کے قریب گیا، اب پانی نظر آیا، ہر طرف نیل ہی نیل۔۔۔ اور قریب جانے پر سبزہ، پھر یہ سبزہ میدانوں میں بدل گیا، پہاڑ اُبھر آئے، صحرا بِچھ گئے، درخت، فصلیں، فصلوں تلے مٹی، اور اب تو سائنسدانوں نے مٹی کو بھی اقسام در اقسام تقسیم کر دیا ہے۔ یہ تقسیم کہاں تک جاتی ہے؟ اور کہاں تک جائے گی؟ ہم سب انسان، ٹھیک؟ مسلمان اور کافر، ٹھیک؟ شیعہ اور سُنی، ٹھیک؟ سبز پگڑیوں والے اور سفید پگڑیوں والے اور ٹوپیوں والے اور ننگے سروں والے، ٹھیک؟ اور تو اور صوادی اور ضوادی، ٹھیک؟ ایں؟ نہیں؟ ارے کیوں نہیں صاحبو، الحمد شریف میں ” ضالّین” اور ” دوالین” پڑھنے والے ایک کیسے ہو سکتے ہیں؟؟؟

تو صاحبو، اب میں کنفیوز ہوں کہ اپنی منجی کِتھّے پاواں؟ پردے اُٹھے ہیں، روشنی ہوئی ہے لیکن میرا حال تو چمگادڑ والا ہے، روشنی میں اندھا پن۔۔۔ شائد میں چمگادڑ ہوں، شائد ہم سب چمگادڑ ہیں۔ اندھیروں میں دیکھنے والے اور روشنی سے ڈرنے والے۔ اسی لئے تو جانتے بوجھتے ساری ساری عمر اندھیروں میں گزار دیتے ہیں۔

بس بہت ہو گیا۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ زمین کو چاند سے دیکھوں گا، جذباتی ہوئے بغیر۔ کم از کم کوشش ضرور کرونگا۔ ” اُن” کا جوتا پہن کر دیکھونگا کہ کیسا لگتا ہے۔ ہاں ہاں معلوم ہے، مسئلہ تو ہو گا۔ اگر ذرے پر منفی یا مثبت چارج نہ ہو تو درمیان میں لٹکتا رہتا ہے، نہ اِس طرف نہ اُس طرف۔ شائد اِسی لئے ہم سب اپنے آپ پر چارج کی چادر چڑھائے پھرتے ہیں۔ خیر میں اپنی منجی اِتھّے ہی پاواں گا، دیکھوں تو کیا ہوتا ہے؟ صاحبو دعا کرنا!!!

Advertisements

تاک دھنا دھن تاک

Posted in Humor, Politics, urdu by Shah Faisal on فروری 5, 2007

صاحبو چند سال پہلے مجھ پر ایک عجیب انکشاف ہوا۔ ۔۔ ہم سب ناچ رہے ہیں، اندھادھند اُلٹا سیدھا بے ہنگم ناچ۔ کچھ اچھا ناچ رہے ہیں کچھ بُرا اور کچھ بہت ہی بُرا۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ ارے۔۔۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اسی حیرت کے عالم میں میں ناچتے ناچتے رک گیا۔ ناچ دیکھنے کیلئے سب کو ناچتا دیکھنے کیلئے۔ خیریت؟ کیا ہوا؟ طبیعت تو ٹھیک ہے؟ کچھ نے تو یوں پُوچھا گویا کہہ رہے ہوں ”دماغ تو ٹھیک ہے؟“ کسی چہرے پر حیرت، کسی پر ہمدردی اور بہت سی طنزیہ مسکراہٹیں۔ اپنے پرائے سبھی نے پوچھا۔ ”کچھ نہیں ذرا تھک گیا تھا“ میں نے بہانہ بنایا اور اٹھ کر پھر ناچنا شروع کر دیا۔ میرے آس پاس والوں کے چہروں پر اطمینان دوڑ گیا۔
پھر پچھلے سال میں کلاس میں بیٹھا تھا۔ پروفیسر صاحب نے ایک تھیوری پڑھائی “The Treadmill of Technological Advance” لُبِ لُباب اُس کا یہ تھا کہ جو کسان زراعت کی نئی تکنیک نہیں اپناتے وہ جلد ہی اس کھیل سے باہر ہو جاتے ہیں گویا جو زیادہ تیز دوڑے گا وہی باقی رہے گا۔ میں نے سوچا یہ تھیوری تو ہم سب کی زندگیوں پر لاگو ہوتی ہے۔ جو زمانے کے ساتھ نہ دوڑا وہ کچلا گیا، لوگوں کے پیروں تلے روندا گیا۔ اُٹھ میرے بھائی ناچ۔ ناچ ورنہ مارا جائے گا۔
ایک کہانی ہے بڑی پرانی۔ آپ نے بھی سنی یا پڑھی ہو گی۔ طفننِ طبع کے لئے دہرائے دیتا ہوں۔ ٹھگوں کا ایک ٹولہ بادشاہ سلامت کے دربار میں حاضر ہوا۔ ”حضور ہم آپ کے لئے ایک خاص لباس تیار کرنا چاہتے ہیں جواس سے پہلے نہ کسی نے دیکھا نہ سنا“۔ بادشاہ بڑے اچھے ذوقِ لطیف کا مالک تھا۔ پیرس ، اٹلی، ہالی وڈ کے سب ڈیزائنرز اُ س کے درباری تھے۔ سو فوراً تیار ہو گیا۔ ”حضور اس کام کے لئے ہمیں آٹھ دس عدد صندوق چاہیئں۔ نہیں نہیں، خالی نہیں، سونے چاندی ہیرے موتیوں وغیرہ کے بھرے ہوئے۔ اور اگرآپکا کریڈٹ کارڈ بھی مل جائے تو رنگ ذرا چوکھا آئے گا۔ لباس آپکو نیو ایر نائٹ پر پہنایا جائے گا“۔ بادشاہ نے سب کچھ من و عن تسلیم کر لیا۔ خیر مقررہ شام ٹھگ دربار میں حاضر ہوئے بمعہ ایک بھاری بھرکم صندوق کے۔”حضور ایک بات عرض کرناہم بھول گئے تھے کہ یہ لباس بے وقوفوں کو ہرگز دکھائی نہیں دے گا“۔ ٹھگوں کی یہ بات سُن کر بادشاہ سلامت اپنے تخت پر پہلو بدل کر رہ گئے لیکن بولے کچھ نہیں۔ ٹھگوں نے یونہی صندوق میں جہاں تہاں ہاتھ چلائے اور پھر بادشاہ سلامت کو گویا کوئی پوشاک پہنا دی۔آپ حضور نے ایک نظر درباریوں پر ڈالی جو ہکا بکا کھڑے تھے اور پھر کڑک کر وزیرِ اعظم (پرائم منسٹر نہیں) سے پوچھا ”کیسا ہے؟“ پہلے تو وزیر کے منہ سے نکلتا تھا ”جی کیا؟“ لیکن آخر وزیر تھا فوراً بولا ”حضور کا اس سے بہتر لباس تو میں نے آج تک نہیں دیکھا“۔ پھر کیا تھا ہر طرف سے مبارک سلامت کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ شاہی سواری محل سے نکلی۔ دو رویہ کھڑی عوام نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں(بادشاہ پر) بڑی بوڑھیوں نے بلائیں لیں (بادشاہ کی) اور شاعروں نے قصیدے پڑھے (اوہو بھئی ظاہر ہے بادشاہ کے) ۔ آخر ایک بچہ ہجوم سے نکل کر بادشاہ سلامت کے پاس آیا اور معصومیت سے پوچھا ”انکل آپ ننگے کیوں ہیں؟“
صاحبو یہی حال ہمارا تمہارا ہے۔ سب ناچ رہے ہیں لیکن اکثر تو جانتے ہی نہیں کہ ہم ناچ رہے ہیں۔ جو جانتے ہیں وہ مانتے نہیں اور جو مانتے ہیں وہ پوچھتے نہیں ”انکل ہم ناچ کیوں رہے ہیں؟“۔ بس سب ناچے جا رہے ہیں۔ کسی کو پیٹ نچا رہا ہے تو کسی کو سٹیٹس ، کسی کو کرسی تو کسی کو فیشن۔ سب کے سب تا ک دھنا دھن تاک ۔ اور اگر کوئی نہ ناچے تو؟ نہیں بھائی ہم سب عقلمند ہیں۔ بادشاہ حضور ننگے نہیں ہیں۔ جو ناچے وہ سکندر، جو نہ ناچے وہ بندر۔۔۔۔

(یہ بلاگ ماضی میں اُردو پواءنٹ کی ساءٹ پر چھَپ چکا ہے)

 

زمانہ خراب ہے۔۔۔

Posted in Humor, urdu by Shah Faisal on فروری 5, 2007

صاحبو ایک وقت تھا جب لوگ ڈائری لکھتے تو یوں گویا گناہ کر رہے ہوں، یعنی چھپ چھپ کر۔ پھر وقت گزرا اقدار بدلیں اور extroverts غالب آگئے۔ یعنی ہر کام کھلم کھلا ، چاہے اچھا ہو یا برا۔ ویسے بھی اب تو یار لوگ کہتے ہیں کہ اچھائی اور برائی subjective ہیں یعنی کچھ بھی بذاتِ خود اچھا یا برا نہیں ہے۔ ہم لوگ اپنی سمجھ، ماحول اور معاشرے کے مطابق اچھائی یا برائی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ لادین یعنی سیکولر معاشروں میں تو یہ بات شائد ٹھیک بھی ہے۔ اسی لیے میرے خیال میں یہ معاشرے بڑے ”غریب“ ہیں۔ جو بات ہمارے ہاں کا مولوی فوراً بتا دیتا ہے، یہاں اسی بات کا فیصلہ کرتے برسوں لگ جاتے ہیں۔ کئی سیاسی پارٹیں، کئی ریسرچیں اور کئی لابسٹ ادارے لاکھوں روپے خرچ کر کے اپنی بات کو صحیح منواتے ہیں۔ اور ہمارے ہاں؟ مولوی صاحب نے کہہ دیا سو کہہ دیا۔ ہے کوئی مائی کا لال جو سامنے آئے اور چیلنج کرے۔ خیر میں بھی حلقہء اسلام سے خارج کیے جانے کا رسک نہیں لوں گا اس لیے یہ نہیں کہوں گا کہ یہ سب غلط ہے۔ بھائی میں نے پاکستان واپس بھی آنا ہے آخر۔
بہرحال بات ڈائری لکھنے کی ہو رہی تھی۔ دوستو اب جب سبھی لوگ ورچول ڈائری یعنی بلاگ لکھ ہی رہے ہیں تو میں کیوں پیچھے رہوں اور خواہ مخواہ کا نکو بنوں، سو میں نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ میں بھی بلاگ لکھوں گا۔ کچھ غیرت تو بیگم نے دلائی ہے کہ کبھی کچھ کر بھی لیا کرو اور کچھ ویسے ہی اردو سے کافی دن کی دوری ہو رہی تھی۔ اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں اردو کا بہت بڑا فین ہوں۔ دراصل مجھے کوئی اور زبان آتی بھی نہیں، بس انگریزی، سرائیکی اور پشتو میں کام چلا لیتا ہوں۔ یہاں برلن میں تو ویسے بھی اپنا آپ گونگا لگتا ہے۔ ہر غیرتمند قوم کی طرح یہاں بھی لوگ صرف اپنی بولی یعنی جرمن بولتے ہیں جو مجھے آتی نہیں سو زیادہ کام اشارے کنایوں سے چلتا ہے۔ ویسے یہ اشارے شریفانہ ہوتے ہیں (نوٹ برائے ریکارڈ )۔
ہاں تو دوستو ہر شریف آدمی کی طرح یہ میرا پہلا بلاگ ہے (لیکن آخری ہرگز نہیں)۔ اب یہ کتنے دن چلے گا، اسکا فیصلہ تو وقت کرے گا یا پھر آپ۔ حکومت ِ پاکستان البتہ فی ا لحال بے بس ہے کیونکہ یہاں جرمنی میں صحافی ”غائب “ نہیں ہوتے۔ شاید ہوتے بھی ہوں لیکن اخباروں میں میں نے کہیں نہیں پڑھا (ویسے انکے اخبار جرمن زبان میں چھپتے ہیں)۔ ویسے تو یہ بڑی نا مناسب بات ہو گی کہ میں اپنے سارے اچھے اور برے خیالات اس ”عریاں‘ ‘ ڈائری کے ذریعے آپ تک پہنچاؤں لیکن کیا کیجئے کہ
… زمانہ خراب ہے
امید ہے آپ سے ملاقات رہے گی۔ میرے پاس کہنے کو کیا ہے، اس کا ذکر آنے والے دنوں میں کروں گا، فی ا لحال کچھ سسپنس رہنے دیں۔۔۔

(یہ بلاگ ماضی میں اُردو پواءنٹ کی ساءیٹ پر چھَپ چکا ہے)