Faisaliat- فیصلیات

بت شکن

Posted in Computing, urdu by Shah Faisal on مئی 20, 2007

ذرا رکیے حضور اگر آپکا یہ خیال ہے کہ میں تاریخ کے اوراق پلٹنے لگا ہوں تو یہ بلاگ مت پڑہیے۔ مایوسی ہو گی۔ میں تو آنے والے کل کی بات کرنا چاہتا ہوں بلکہ آج ابھی اور اس وقت کی جب میں اپنے کمپیوٹر پر یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔

یہ کہانی اسوقت شروع ہوئی جب میرا گزشتہ کمپیوٹر مکمل طور پر جواب دے گیا اور مجھے مجبوراً ایک نئے کمپیوٹر کی تلاش کرنا پڑی۔ سارا دن برلن کی خاک چھاننے کے بعد بھی انگریزی کمپیوٹر نہ ملا تو مجبوراً جرمن کلیدی تختے(Keyboard) اور ونڈوز وسٹا (Windows Vista) کے جرمن ورژن سے مزین کمپیوٹر اٹھائے گھر لوٹا۔ اور اس کے بعد وہی ہوا یعنی زبانِ یارِ من جرمن۔۔۔ تنگ آ کر پتا کروایا تو معلوم ہوا کہ ونڈوز وِسٹا علیحدہ سے خریدنا پڑے گی جس کی قیمت 100 سے 300 یورو ہو سکتی ہے۔ چونکہ جیب خالی ہو چکی تھی، مجبوراً اپنے نئے نویلے کمپیوٹر کی یاداشت پر جھاڑو پھیرا اور پاکستان سے لائی ہوئی ونڈوز ایکس پی (Windows XP) کی مسروقہ (یعنی چربہ/ Pirated) سی ڈی کو استعمال کر کےونڈوز ایکس پی نظام نصب کر لیا۔

اس سب سے گزرتے ہوئے ایک طرف رقم کے ضائع ہونے کا افسوس تھا تو دوسری جانب ضمیر کی خلش تھی اور سب سے زیادہ تکلیف دہ تو ونڈوز نظام کی مالک کمپنی مائکروسافٹ (Microsoft) کے ہاتھوں اپنی غلامی کا شدید احساس تھا۔۔۔ خوشقسمتی سے چند ہی دن پہلے کچھ آزاد مصدر آپریٹنگ سسٹمز (Open source operating systems) کا علم ہوا تھا اور چند گھنٹے اس کا تجرباتی استعمال بھی کیا تھا۔ ان آزاد مصدر نظاموں میں سے بیشتر بالکل مفت ہیں اور انہی میں سے ایک بہت مشہور نظام اوبنٹو (Ubuntu) نامی بھی ہے۔ آپ کہیں گے یہ بھلا کیسا نام ہوا؟ دراصل اوبنٹو ایک افریقی زبان کا لفظ ہے جس کا ترجمہ شائد مکمل تو ممکن نہ ہو لیکن اردو میں آپ اسے ’جانبِ انسانیت‘ کہہ لیں۔ اور افریقی نام ہی کیوں؟ تو جناب وہ اس لیے کہ اوبنٹو کی جنم بھومی افریقہ ہی ہے۔ یہ ان بیشتر حیرانگیوں میں سے ایک تھی جنکا سامنا مجھے اس نظام کو استعمال کر کے ہوا۔ افریقہ کہ جس کا نام سنتے ہی لق و دق صحرا اور بھوک و افلاس کا شکار انسان ذہن میں آتے ہیں۔۔۔

بس جناب چند (ہزار) گھنٹوں کی محنت کے بعد میں اسے استعمال کرنے کے قابل ہو گیا ہوں اور گوروں (اور کالوں کو بھی) دعائیں دے رہا ہوں کہ جنہوں نے مل کر ایک ایسے شخص کو چاروں شانے چت کر دیا ہے کہ جسکی دولت کا تخمینہ 56 ارب ڈالر سے کچھ زیادہ ہی کا ہے اور جو اس دنیا کے تیس بتیس غریب ممالک کی مشترکہ دولت سے بھی زیادہ پیسے والا ہے۔ اب آپ ہی بتائیےکہ اس نظام کو بت شکن نہ کہوں تو کیا کہوں؟

آزادی کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفہوم صحیح معنوں میں وہی بتا سکتا ہے جو ایک عرصہ غلام رہا ہو۔ کچھ ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا۔ مالی فائدہ تو خیر معمولی بات ہے، اصل آزادی تو اوبنٹو استعمال کرنے کے بعد محسوس ہوتی ہے۔ ایک عام سے کمپیوٹر سے اتنے کام لیے جا سکتے ہیں، یہ علم آپکو اسکے استعمال کے بعد ہی ہو گا۔ اور ان سب باتوں سے بالاتر وہ فلسفہ ء انسانیت ہے جو اس نظام کو ترتیب دینے والے لوگوں کا ہے۔ یہ چند سر پھرے نہیں بلکہ دنیا بھر میں بلا شبہ لاکھوں کی تعداد میں پھیلےلینکس پروگرامرز ہیں جن میں زیادہ تر شوقیہ ہیں۔ ایک نصب العین نے ان سب کو رنگ، نسل، زبان کی قید سے آزاد کر دیا ہے اور یہ نصب العین متعین کرنے والے کا نام ہے لائینس توروالڈز۔

ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ لائینس صاحب نے 1990 کے اوائل میں اپنے زمانہ ء طالبعلمی میں لینکس (Linux) نامی نظام کی بنیاد ڈالی۔ یہ کارنامہ شائد یونہی زمانے کی گرد میں گم ہو جاتا اگر لائینس نے اس کے استعمال کے حقوق استعمال کنندگان کو بخش نہ دیے ہوتے۔ بعد میں لینکس کی بنیاد پر کئی نظام کھڑے ہوئے جن میں سے ریڈہیٹ لینکس، فیڈورا، سوسی وغیرہ نسبتاً زیادہ معروف ہیں گرچہ عام گھریلو صارفین ان سب سے بوجوہ دور ہی رہے۔ لیکن پھر ایک مردِِ مجاہد اور پیدا ہوا جسکا نام ہے مارک شٹل ورتھ۔ ان جنوب افریقی صاحب نے آزاد مصدر نظاموں کو گھریلو صارفین تک پہنچانے کا بیڑہ اٹھایا اور یوں اوبنٹو پیدا ہوئی۔ مارک شٹل ورتھ کے وعدے کے مطابق غالباً 2004 سے اب تک اوبنٹو کو ہر چھ ماہ بعد تازہ دم کر دیا جاتا ہے تا کہ یہ تیزی سے بدلتے عصری تقاضوں کا سامنا کر سکے۔ اوبنٹو کے بھی کچھ بھائی بہن موجود ہیں مثلاً کوبنٹو (جو ظاہری ہیت میں نسبتاً ونڈوز کے قریب ہے)، ژوبنٹو (جو پرانے کمپیوٹروں پر کہ جن پر ونڈوز گھسٹ گھسٹ کر چلے، دوڑتی ہے اور یوں آپکا پرانا کمپیوٹر جوان ہو جاتا ہے)، اور ایڈوبنٹو (جو بالخصوص بچوں، سکولوں اور تعلیمی مقاصد کیلئے بنایا گیا ہے) شامل ہیں۔

اب آتے ہیں اسکے استعمال کی طرف۔ تو جناب کونسا ایسا کام ہے جو آپ اسمیں نہ کر سکیں؟ چاہے کوئی تحریر لکھنی ہو یا رکھنا ہو مالی کھاتوں کا حساب، برقی مراسلہ (یعنی ای میل) لکھنا ہو یا کرنا ہو انٹرنیٹ کی سیر، موسیقی سننی ہو یا مشغلہ ہو فلم بینی، یہ سب کام آپ اوبنٹو میں کر سکتے ہیں ایک پیسہ خرچ کیے بغیر۔ اور ان میں سے ہر کام کے لئے ہزاروں کی تعداد میں سافٹویر موجود ہیں جو آپ انٹرنیٹ کے ذریعے چند لمحوں میں حاصل کر سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ یہ نظام انتہائی محفوظ بھی ہے اور آپ کو نت نئے وائرس اور دیگر بیماریوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ اور ہاں چند مخصوص انتظامات کے ذریعے آپ ونڈوز میں چلنے والے پروگرام بھی اوبنٹو میں چلا سکتے ہیں، بلکہ دل کرے تو پورا ونڈوز کا نظام ہی چلا لیں۔ میں نے خود ونڈوز کا انٹرنیٹ ایکسپلورر (Internet Explorer) اوبنٹو میں چلا کر دیکھا ہے۔

اب ناچیز کا ذکر آ ہی گیا ہے تو بتاتا چلوں کہ میں نے کمپیوٹر اور ونڈوز نظام کا باقاعدہ استعمال 90 کی دہائی کے آخری برسوں میں کیا تھا اور ابنٹو پر منتقل ہوتے وقت گھبراہٹ فطری تھی۔ اگر آپ بھی میری طرح ڈرپوک ہیں (یا عقلمند کہہ لیں کہ آجکل دونوں لفظ بطور متبادل استعمال ہوتے ہیں) تو اپنے کمپیوٹر میں موجود کرخت تھالی (اب اس کمبخت ہارڈ ڈسک / Hard Disk کو کیا نام دوں؟) کے دو حصے کیجیئے، ایک حصے میں اوبنٹو نصب کیجیے اور دوسرے میں ونڈوز رہنے دیجیے اور طبیعت اور ضرورت کے مطابق ہر مرتبہ کمپیوٹر چلاتے وقت کسی ایک کا انتخاب کر لیجیے۔ ویسے میرا وعدہ ہے کہ جلد ہی آپ ونڈوز سے اکتا جائیں گے۔

اے لو چند انتہائی ضروری باتیں تو بتانا ہی بھول گیا۔ اوبنٹو ملے گی کہاں؟ تو صاحب اگر آپ تیزرفتار انٹرنیٹ کے مالک ہیں تو اوبنٹو کی ویبسائٹ پر جائیے اور تقریباً 700 میگابائٹ کی فائل ڈائنلوڈ کر لیجیے۔ بہتر ہو گا کہ اس فائل کو سی ڈی پر لکھ لیجیے اور یہیں سے تنصیب کیجیے۔ دوسرا طریقہ بھی بتاتا ہوں۔ ویبسائٹ پر ہی آڈر لکھوائیے اور گھر بیٹھے سی ڈی حاصل کیجیے، ہاں ہاں بھئی مفت۔ ویسے جلد ہی آپ تنصیب کے جھنجھٹ سے بھی آزاد ہو جائیں گے کہ صارفین کے اصرار پر مشہورِ زمانہ کمپیوٹر ساز ادارے مثلاً ڈیل (Dell) اپنے کمپیوٹرز میں پہلے سے ہی اوبنٹو کی تنصیب کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ فرانسیسی پارلیمان نے تو اگلے ماہ سے اوبنٹو کے باقاعدہ استعمال کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔

اے لائنس صاحب، مارک بھیا اور دیگر لائنکسرز: مجھے لینکس تو کیا کسی بھی کمپیوٹر زبان یا نظام کی الف ب بھی نہیں آتی سو اس معاملے میں تو میں تمھاری کوئی مدد نہیں کر سکتا، ہاں جو مجھ پر بیتی وہ اپنے بلاگ کے قارئین تک من و عن پہنچا دی کہ شائد کچھ حق ادا ہو جائے۔ دوستو، تم گواہ رہنا! کیا اس نظام کے استعمال کے بعد بھی مجھے خود یہ کہنا پڑے گا کہ آپ مجھے یا دوسرے پاکستانی بلاگرز (مثلاً اردو ٹیکنالوجی اخبار، نعمان، شاکر، جہانزیب وغیرہ ) جواوبنٹو استعمال کرتے ہیں، کو بلا تکلف لکھ کر مدد لے سکتے ہیں یا پھر لینکس پاکستان یا پھر اردو محفل سے رابطہ کرسکتے ہیں؟

(یہ بلاگ پوسٹ آپ اردو پوائنٹ کی ویبسائٹ پر بھی دیکھ سکتے ہیں جہاں قارئین کی مزید آراء موجود ہیں)

Advertisements