Faisaliat- فیصلیات

دہشت کے سیب

Posted in Life, Politics, urdu by Shah Faisal on دسمبر 21, 2007

عجیب بے تُکا سا عنوان ہے! اسکا بھلا کیا مطلب ہوا؟ دہشت گردی ہوتا، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہوتا یا زیادہ سے زیادہ دہشت کا پھل ہوتا۔۔۔۔ خیر آگے چلتے ہیں۔

صاحبو علمِ معاشیات یا اکنامکس سے میرا پہلا واسطہ اسوقت پڑا جب میں یونیوورسٹی میں زراعت پڑھ رہا تھا۔ اسوقت مجھے یہ سائنس ایک آنکھ نہیں بھائی تھی اور میں یہ بھی سمجھنے سے قاصر تھا کہ آخر اسکا زراعت جیسے مضمون کیساتھ کیا تعلق ہے۔ اس ضمن میں ایک سچا لطیفہ بھی یاد آ گیا سو گوش گزار کیے دیتا ہوں۔ اسی معاشیات کا امتحان تھا، ہم سب سر جھکائے Demand اور Supply کے معمے حل کر رہے تھے کہ مجھے اپنے پیچھے بیٹھے دوست کی سرگوشی سنائی دی "اوئے سنو، یہ فلاں نمبر سوال وہی سیب والا ہے نا؟” چند لمحے تو مجھے سجھنے میں لگے کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے، لیکن جب سجھ آئی تو جی چاہا کہ زور زور سے قہقہے لگاؤں۔ وہ تو خیریت رہی کہ اپنی اس خواہش پر میں نے فوراً قابو پا لیا۔ معاملہ کچھ یوں تھا کہ ہم نے معاشیات کا ایک قانون پڑھا تھاDiminishing Marginal Utility کے نام سے۔۔ لبِ لباب اسکا کچھ یوں ہے کہ جب آپ کوئی کام اپنی کسی خواہش کو پورا کرنے کیلئے کرتے ہیں تو اس کام میں آپکی خواہش کو پورا کرنے کی صلاحیت کو utility یا افادیت کہا جاتا ہے۔ کسی بھی کام یا چیز میں یہ صلاحیت محدود ہوتی ہے اور اس کام کوبار بار کرنے سے بتدریج اسکی افادیت کم ہوتی جاتی ہے۔ یہ قانون سمجھاتے وقت استاد حضور نے ایک سیب کی مثال دی تھی کہ ایک محدود وقت میں کھانے پر پہلا سیب آپکو خاصا لذیذ لگے گا، بہ زبانِ معاشیات اسکی افادیت بہ درجہ اتم ہو گی۔ اسی وقت دوسرا سیب کھائیے تو وہ پہلے سے شائد کچھ کم لذیذ لگے اور تیسرا اس سے بھی کم۔ ایک موقع پر سیب کے نام سے ہی آپ کو قے ہونے لگے گی گویا اس عمل کی افادیت منفی ہو چکی ہو گی۔ یہی سیب تھا جسکی بابت میرا دوست استفسار کر رہا تھا۔

دوستو، اس وقت بیوقوفانہ حد تک سادہ نظر آنے والے اس معاشیاتی قانون سے زندگی میں بار بار واسطہ پڑیگا، اسکا اندازہ مجھے ہرگز نہیں تھا۔ اسی قانون کو سامنے رکھ کر مجھے دینِ اسلام کی یہ بات سمجھ آئی کہ کیوں اسلام میں مقدار کی نہیں معیار کی اہمیت ہے اور کیسے ایک شاہ کے صدقہ کیے ہزاروں اونٹوں سے ایک فقیر کا صدقہ کیا گیا دودھ کا آدھا پیالہ افضل ہے۔

خیر بات ہو رہی تھی اس قانون کی ہماری آج کی زندگی میں اہمیت کی۔ حضور آپ خود سیانے ہیں، باقی چیزوں کا حساب آپ خود لگا لیں کہ اس قانون کا اطلاق کہاں کہاں ہوتا ہے، مثلاً ایک شخص کی پاس پہلے ایک گاڑی ہے تو وہ اس کیلئے کتنی مفید اور نتیجتاً اسے کتنی عزیز ہو گی، جب دو ہوں تو افادیت کتنی ہو گی اور دونوں کتنی عزیز ہوں گی اور اگر بہت سی ہوں تو کیا صورتحال ہو گی۔ عقلمند خواتین غالباً اسی قانون کو مدِ نظر رکھ کر شوہروں کو دوسری شادی نہیں کرنے دیتیں۔قصہ مختصر ذرا سوچیے تو وہ کونسا ایسا شعبہ ہائے زندگی ہے کہ جہاں یہ اصول کارفرما نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ علمِ معاشیات ہمارے رویوں کا کتنا وسیع طور پر احاطہ کرتا ہے۔ ہاں البتہ میرے نزدیک ایک عمل ایسا ہے کہ جہاں یہ اصول پوری طرح ناکام ہو جاتا ہے اور جہاں ہماری عام زندگی میں حد درجہ کار آمد علمِ معاشیات بھی بے بس نظر آتا ہے۔

ابھی علمِ معاشیات کے جس قانون کا میں نے آپ سے ذکر کیا ہے، یہ عام طور پر نو کلاسیکی اکنامکس کے زمرے میں آتا ہے کہ جس کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ نظام کا بیشتر حصہ استوار ہوا اور دنیا کی بہت سی معیشتوں نے اس نظام کو اپنایا، مثلاً سارا شمالی امریکہ، مغربی یورپ، جاپان اور آسٹریلیا وغیرہ۔ اسکے بر عکس دنیا کا کچھ حصہ اس نظام کو نہیں مانتا جسے عرفِ عام میں سوشلسٹ ممالک کہا جاتا ہے۔ ان میں (سابقہ) سویت یونین اور دیگر مشرقی یورپی ممالک، چین، شمالی کوریا اور کچھ لاطینی امریکی ممالک مثلاً کیوبا وغیرہ شامل ہیں۔ چونکہ سوشلزم کا نظام اپنے اندر خاصی کشش رکھتا تھا اس لیے سرمایہ دار ممالک کہ جنکا سرغنہ امریکا تھا، کی پوری کوشش تھی کہ اس نظام کو پھیلنے سے روکا جائے اور یوں دنیا بھر کی دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ممکن ہو سکے، کہ جسکی سوشلزم میں کوئی صورت نہیں تھی۔ اس کشمکش کو سرد جنگ کا نام دیا گیا۔

سویت یونین کی افغانستان پر چڑھائی گویا بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹنے کے مترادف تھی، امریکا نے افغانوں کی حریت اور پاکستانی عسکری دماغوں کی ذہانت کا پورا فائدہ اٹھایا اور نتیجتاً سویت روس کا شیرازہ بکھر گیا۔سرد جنگ تمام ہوئی، آہنی پردے کے ورے موجود بیشمار مشرقی یورپی ممالک مثلاً مشرقی جرمنی، پولینڈ، یوگوسلاویہ، چیکوسلوواکیہ، اور خود روس نے سرمایہ دارانہ نظام اپنانے کا اعلان کیا اور یوں امریکی اور اسکے ہمنوا ممالک کے تاجروں کیلئے نئی منڈیاں کھل گئیں۔جہاں اس سارے معرکے سے بیشمار تجارتی فوائد حاصل ہوئے، وہیں ایک اور مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ اب جبکہ کوئی دشمن ہی نہیں رہا تھا تو وہ اسلحہ ساز فیکٹریاں کہاں جائیں جو اربوں ڈالر مالیت کی تھیں، وہ ہزاروں کارکن کیا کریں جنکا واحد ہنر اسلحہ بنانا تھااور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنی عوام کہ جن کے پیسوں سے یہ سب ہو رہا تھا، سے کس منہ سے ٹیکس وصول کیے جائیں؟
ویسے تو جنگیں ہمیشہ سے ہی کم وقت میں زیادہ منافع کمانے کا ایک ذریعہ رہی ہیں لیکن دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی وغیرہ میں اسلحہ سازی ایک بہت منافع بخش اور بہت بڑی صنعت میں تبدیل ہو چکی تھی۔ سرمایہ دارانہ نظام جہاں آزاد منڈیوں کی بات کرتا ہے وہیں ان منڈیوں میں ریاستی عمل دخل کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ جہاں دولت کا لامحدود ارتکاز ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے وہیں نو کلاسیکی معاشیات اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ معیشت کا بہترین نظم صرف اسی صورت ممکن ہے جب ہر انسان اپنی فطری خواہش یعنی افادیت کے بہ درجہ اتم حصول کی کوشش کریگا۔ سادہ الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ ایک آزاد (یعنی ریاستی عمل دخل سے پاک) منڈی میں تاجر اور خریدار آپس میں اپنی اپنی عقل و فہم اور معلومات کے مطابق سودا کرتے ہیں اور دونوں کی کوشش ہوتی ہے کہ انہیں اس سودے سے اپنی خواہش (یعنی منافع یا بچت) کو ممکنہ حد تک پورا کرنے کا موقع ملے۔

اسی منطق کیوجہ سے اسلحہ سازی سمیت دیگر تمام منافع بخش صنعتیں مثلاً ادویہ سازی، معدنیات، رسل و رسائل اور توانائی وغیرہ حکومتوں کی گرفت سے نکل کر پرائیویٹ ہاتھوں میں جا پہنچیں اورتاوقت تاجر بتدریج ہر صنعت مثلاً تحقیق، تعلیم، صحت، پینے کا پانی وغیرہ بھی اپنا رہے ہیں۔ نوے کی دہائی میں عالمی بنک، آئی ایم ایف اور اسی قبیل کے دیگر اداروں نے تیسری دنیا میں بھی زبردستی کئی شعبوں کو سرکاری تحویل سے نکال کر تاجروں کے حوالہ کر دیا تھا۔ یقیناً آپ نے پرائویٹائزیشن، ڈاؤن سائزنگ اور اسی طرح کے کئی الفاظ اُس دور میں سنے ہوں گے اور یہ سلسہ اب بھی جاری ہے۔

صاحبو آپ کسی دوست کے گھر میں پانی مفت پینا پسند کرینگے، لاہور کے ریلوے سٹیشن پر شائد دس روپے کی پانی کی بوتل خرید لیں لیکن اگر آپ چولستان کے صحرا میں ہیں اور کئی دن کے پیاسے تو شائد پانی کے چند گھونٹوں کے بدلے آپ اپنی ساری دولت لُٹا دیں۔ یہ وہ وقت ہے جہاں علمِ معاشیات ہماری مدد کرتا ہے۔ چیز وہی ہے یعنی پانی لیکن مختلف مواقع پر اسکی افادیت مختلف ہے۔ کچھ ایسا ہی امریکی اور یورپی عوام کے ساتھ ہوا۔ یہ اقوام affluent nations کہلاتی ہیں۔ یہاں خوراک اور زندگی کی دیگر بنیادی اشیاء نسبتاً سستے داموں ملتی ہیں۔ ان چیزوں پر ایک عام امریکی یا یورپی کی رقم کا بہت کم حصہ خرچ ہوتا ہے۔ پھر بات آتی ہے عیاشی کی۔ شباب تو تقریباً مفت ہے، البتہ شراب پر کافی پیسہ لگ جاتا ہے۔ رہی بات گاڑی، گھر، الیکٹرانکس کی اشیا وغیرہ کی تو ہر شخص کبھی کبھار ہی خریدتا ہے، روز روز نہیں۔ ایسے میں تاجر کمائے تو کیسے؟
انسان جبلی طور پر تو حیوان ہی ہے اور دو بنیادی جذبے ہر انسان میں ہوتے ہیں۔ یہ ہیں خوف اور لالچ۔ اگر ایسا نہیں تو ذرا سوچیے کہ اللہ میاں نے جنت اور دوزخ دونوں کیوں بنائے؟ ایک طرف pull factor کام کرتا ہے تو دوسری طرف push factor یعنی اگر کسی کیلئے جنت کے لالچ تو کسی کیلئے دوزخ کا خوف مقدم ہے۔ ذرا واپس چل کر شروع میں بیان کردہ سیب کی مثال لیتے ہیں۔ آپ پہلا، دوسرا اور شائد تیسرا سیب خرید کر کھا لیں لیکن چوتھا اگر کوئی مفت بھی دے تو آپ نہ لیں۔ لیکن ایک لمحے کلئے غور کیجیئے کہ اگر سیبوں سے آپ کا پیٹ اور دل دونوں بھرے ہوں اور ایسے میں کوئی آپکو زبردستی سیب کھلانا شروع کر دے اور ایسا نہ کرنے کے پیسے مانگے تو آپ کیا کرینگے؟ یقیناً جان بچانے کیلئے آپ اسے پیسے دیں گے۔ بس یہی بات اہم ہے، یہیں پر اوپر بیان کردہ قانون فیل ہو جاتا ہے۔ گاڑیوں، گھروں، شراب، شباب سے پیٹ بھر جانے کے بعد لالچ تو رہا نہیں، سو خوف کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اب دہشت کے مارےامریکی عوام جان بچانے کیلئے دھڑا دھڑ ٹیکس دے رہے ہیں، اپنی شخصی آزادی کہ جس کیلئے امریکہ ضرب المثل تھا، کی قربانی دے رہے ہیں اور دیگر بہت سے ایسے کام کر رہے ہیں یا قبول کر رہے ہیں جو وہ بصورتِ دیگر ہرگز ہرگز نہ کرتے۔اب ان کے دیے گئے ٹیکسوں پر جنگیں پنپ رہی ہیں اور اسلحہ ساز کارخانے دن دگنا رات چگنا منافع کما رہے ہیں۔ہماری بدقسمتی کہ دشمن چننے کی قرعہ اندازی میں مسلمان قوم کا نام نکل آیا اور ہم تقریباً گھر بیٹھے بیٹھے بن گئے زیرو سے ہیرو۔۔۔ نہیں، ولن!

Advertisements

11 Responses

Subscribe to comments with RSS.

  1. محمد شاکر عزیز said, on دسمبر 22, 2007 at 3:44 صبح

    واہ کیا یاد دلا دیا آپ نے۔ بی کام یں یہ سب کچھ پڑھا تھا مثال پانی کے گلاس والی تھی سیب کی بجائے۔ آپ کی باتیں کافی حد تک درست ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کو پنپنے کے لیے کوئی قوم چاہیے ہوتی ہے جس کی بلی چڑھائی جاسکے چناچہ مسلمان ان کے ہتھے چڑھ چکے ہیں۔

  2. Shoiab Safdar said, on دسمبر 22, 2007 at 5:13 صبح

    اچھا لکھا! یعنی امریکی عوام خوف میں مبتلا ہو کر سیب نیہ کھانے کے پیسے دے رہے ہیں!!!

  3. نعمان said, on دسمبر 23, 2007 at 1:13 شام

    بہت اچھا لکھا ہے اور سمجھانے کا انداز بھی بہت اچھا ہے۔

  4. waqar ali roghani said, on دسمبر 23, 2007 at 7:02 شام

    you write very well and now im thinking to adopt linex shut ‘windows’. Da Kudai Zalima domra kho ba dey yao message zama pa blog prehoday way kana cha ta hum dalta yee. laka da sajid ba darta za hum manana owayam che zamoog Pekhawar ta de izat war ba khalay de! Agar pashto samaj nahee aaye to ka dain Urdu main lik loonga ! ma salam

  5. waqar ali roghani said, on دسمبر 23, 2007 at 7:07 شام

    main na mazmoon linex wala para awar tabsara yahan lek mara ! mazrat

  6. Shah Faisal said, on دسمبر 25, 2007 at 4:53 شام

    بہت شکریہ صاحبان
    روغانی ساحب، قسمت میں ہوا تو ضرور ملاقات ہو گی، فی الحال تو میں ڈیرہ میں ہوں۔ جی پشتو تھوڑی بہت بول اور سمجھ لیتا ہوں، آٹھ دس سال پشاور میں رہا ہوں آخر۔۔۔

  7. ساجداقبال said, on دسمبر 27, 2007 at 12:16 شام

    ماشااللہ بڑے اچھے انداز میں آپ نے اپنا مدعا بیان کیا ہے۔

  8. محمد شمیل قریشی said, on دسمبر 27, 2007 at 10:31 شام

    واہ ۔ ایک بہترین تحریر

  9. Altaf Hussain said, on اگست 2, 2008 at 5:53 شام

    Dear Faisal

    I am very happy to know that you are a very good writer and thinker. would u like to tell me the name of your friend? (saib wala sawal hy na)

  10. عدنان مسعود said, on جنوری 23, 2012 at 8:13 صبح

    بہت خوب فیصل صاحب، پہلی مرتبہ آپکی یہ تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ آج کل سوپر فریکنامکس کے نام سے ایک کتاب زیر مطالعہ ہے، اس کا پہلا حصہ بھی بہت خوب تھا۔ ایسا لگتا ہے آپ کی تحریر سے ہی متاثر ہوکر لکھی گئ ہے، ویسے کچھ کنسپریسی تھیوری کا ڈالڈا بھی ملا ہے لیکن مبصر کا مصنف کی راے سے متفق ہونا تو ضروری نہیں۔ اللہ کرے زور قلم اور۔

    • Shah Faisal said, on جنوری 23, 2012 at 3:44 شام

      فریکونامکس میں نے پڑھ رکھی ہے اور گاہے انکا بلاگ بھی نظر سے گزرتا ہے۔ مجھے اس کتاب نے اتنا زیادہ متاثر اسلئے نہیں کیا کہ میں ماسٹرز کے دوران new institutional economics پر کچھ پڑھ چکا تھا۔ ایلینار اوسٹرام جنکو بعد میں نوبیل انعام ملا، برلن میں ہماری جامعہ بھی آئیں اور انکو سننے کا موقعہ ملا۔ اکنامکس کی اس شاخ میں انکا کافی کام ہے۔ اسکے علاوہ ولیمسن اور ڈگلس نارتھ جیسے لوگوں کو پڑھ کر فریکونامکس خاصی بچگانہ لگتی ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ عام لوگوں کے لئے لکھے گئی ہے، طلبا کے لئے نہیں۔
      سازشی نظریے سے متعلق آپکا کہنا بالک درست ہے کہ اس تحریر میں اسکا تڑکا لگا ہے۔ میرے خیال میں مجھے اپنی بات کو مکمل کرنے کیلئے کم از کم کسی ایسی تحقیق کا سہارا ضرور لینا چاہئے جس میں امریکی ایوانوں میں ہونے والی لابی پر کچھ روشنی ڈالی گئی ہو۔ اسکے علاوہ امریکی معیشت کی جنگ اور امن کے دنوں میں کارکردگی کا موازنہ بھی کسی نتیجے پر پہنچنے میں ممد ہو سکتا ہے۔ اسکے لئے ظاہر ہے کہ خاصا وقت چاہئے اور یہی ایک اہم وجہ میری خال خال بلاگنگ کی بھی ہے 🙂
      http://en.wikipedia.org/wiki/New_institutional_economics
      http://en.wikipedia.org/wiki/Elinor_Ostrom
      http://en.wikipedia.org/wiki/Douglass_North
      http://en.wikipedia.org/wiki/Oliver_E._Williamson
      http://en.wikipedia.org/wiki/Incentive


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: