Faisaliat- فیصلیات

میرا انٹرویو

Posted in urdu by Shah Faisal on فروری 4, 2008

صاحبو پاکستانی سپیکٹیٹر نامی بلاگ نے ایک اچھا سلسلہ بلاگر حضرات اور دوسرے لکھاریوں سے انٹرویولینے کا، شروع کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں ناچیز کا انٹرویو بھی حال ہی میں شائع ہوا ہے جسے آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ اسکا اُردو ترجمہ اپنے اردو پڑھنے والے قارئین کیلئے مندرجہ ذیل ہے:
ایک مختصر تعارف:
میری بنیادی تعلیم کا زیادہ حصہ ڈیرہ اسمٰعیل خان کے ایک عیسائی مشنری سکول اور پھر کیڈٹ کالج کوہاٹ میں مکمل ہوا۔2001 میں زرعی یونیورسٹی پشاور سے دیہی ترقی میں ماسٹرز کیا اور پھر اگلے پانچ برس بالترتیب خوشحالی بنک، بنک الفلاح اور آئی یو سی این میں ملازمت کرتے گزرے۔ 2005 میں یورپ کیلئے رختِ سفر باندھا جہاں گینٹ یونیورسٹی، بلجئیم، ہمبولٹ یونیورسٹی برلن، جرمنی اور نِترا یونیورسٹی سلوواکیہ سے دیہی ترقی میں بین الاقوامی ماسٹرز کیا۔ستمبر 2007 میں وطن واپسی ہوئی اور اب پی ایچ ڈی کی تعلیم کیلئے آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی، کینبرا، آسٹریلیا کا ارادہ ہے۔ شادی شدہ ہوں اور بچے نہیں ہیں۔
آپکی وجہ ء بلاگنگ؟
بلاگنگ کی دنیا سے میرا تعارف اردو پوائنٹ کی ویبسائٹ پر ہوا۔ انہوں نے میرا تعارفی بلاگ چھاپا جسکے بعد مزید لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ کچھ عرصے بعد میں نے اردو بلاگر قدیر احمد رانا کی مدد سے ورڈ پریس پر اپنا اردو بلاگ شروع کیا جس پر آپ اسوقت یہ تحریر پڑھ رہے ہیں۔
آپکے بلاگ کی کوئی خاص بات جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہو؟
میرا خیال ہے کہ اس سوال کا جواب تو قارئین ہی بہتر طور پر دے سکتے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ میرے بلاگ میں کچھ بھی ایسا ہے لیکن ایک خصوصیت، جو یقیناً کئی دوسرے بلاگز میں بھی ہے، یہ ہے کہ میں بہت محدود موضوعات پر لکھتا ہوں۔
اگر آپ سے آپکی کامیابی کی کوئی ایک وجہ پوچھی جائے تو وہ کیا ہو گی؟
یہ سوال غیر متعلقہ ہے کیونکہ میں ابھی کامیاب ہوا ہی نہیں۔ ویسے میرا نہیں خیال کہ صرف ایک خصوصیت، خواہ کوئی بھی ہو، انسان کو کامیابی دلا سکتی ہے۔ اپنے مقصد پر کامل ایمان، سخت محنت، توجہ، اولوالعزمی وغیرہ ان بہت سے عوامل میں سے چند ایک ہیں، جو کامیابی کیلئے ضروری ہیں۔
آپکی زندگی کا خوشگوار اور سوگوار ترین لمحہ؟
آہ، سچ پوچھیں تو مجھے نہیں معلوم۔ نہیں ایسا نہیں کہ ایسے لمحات میری زندگی میں آئے نہیں لیکن ایسی یادوں کی گٹھڑی اٹھائے پھرنے کی نسبت میں آگے بڑھ جانے پر یقین رکھتا ہوں۔ ویسے یہ بھی تو دیکھیں کہ ماضی کا ہر اداس لمحہ مستقبل میں ایک خوشی لاتا ہے،کیونکہ وہ ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ دیکھا؟ بات اتنی سادہ نہیں، سو رہنے دیں۔
اردوبلاگز میں بہت طاقت ہے۔ آپکے خیال میں یہ پاکستانی انٹرنیٹ دنیا پر کب چھائیں گے؟
وقت لگے گا، اچھا خاصا وقت۔ جب ہم اردو بلاگ کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم کچھ حدود متعین کر رہے ہوتے ہیں، مثلاً کمپیوٹر اور انٹرنیٹ تک رسائی، اردو کمپیوٹنگ کی سمجھ بوجھ اور اردو بلاگ لکھنے کا پکا عزم وغیرہ۔ ان سب کے علاوہ ضرورت بہت سے قارئین کی جو اردو بلاگز پڑھنا اور ان پر اپنا ردِعمل ظاہر کرنے پر تیار ہوں۔ چنانچہ اردو بلاگنگ کا مستقبل مشروط ہے اور ظاہر ہے کہ ان عوامل کے پورا ہونے میں کافی وقت لگے گا۔
اگر آپکو دنیا دیکھنے کا موقع ملے تو آپکی پہلی تین ترجیحات کیا ہونگی؟
مغربی یورپ کا بیشتر حصہ میں دیکھ چکا ہوں اور آسٹریلیا بھی انشاہ اللہ جلد ہی دیکھ لونگا۔ باقی دنیا میں مجھے وسطی ایشیائی ریاستیں دیکھنے کا شوق ہے۔ اسکے علاوہ یہ بھی جی چاہتا ہے کہ بلوچستان کی بذریعہ سڑک تسخیر کا جو سلسلہ 2005 میں منقطع ہو گیا تھا، اسے پھر سے شروع کروں۔ لاطینی امریکی ممالک بھی جانا چاہونگا، جہاں میرے بہت سے دوست ہیں۔ مختصراً، مجھے سڑک یا ریل کے ذریعے ویرانے اور دیہی علاقے گھومنے کا شوق ہے۔
آپکی پسندیدہ کتاب کونسی اور کیوں ہے؟
اگر آپ میرے پسندیدہ مصنف کا پوچھتے تو جواب یقیناً آسان ہوتا۔ میں انگریزی ادب نہیں پڑھتا چنانچہ میری ساری پسندیدہ کتب اور مصنف اردو کے ہیں۔ ممتاز مفتی اور شفیق الرحمان پسندیدہ مصنف ہیں۔ اگر آپ اب بھی کسی کتاب کا نام جاننا چاہتے ہیں تو وہ شائد ممتاز مفتی کی “تلاش” ہے۔
آپ (پہلی ملاقات میں) کسی شخص میں کونسی بات مطالعہ کرتے ہیں؟
سچ بتاؤں تو کچھ بھی نہیں۔ ہاں اگر ضرورت پڑ جائے تو آنکھوں کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔
کیا آپکے خیال میں پاکستانی سیاستدان معاشرتی نیٹ ورکس (social networks) یا ٹُوِٹر (twitter) جیسی چیزوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
کیا آپکی مراد انٹرنیٹ پر موجود معاشرتی نیٹ ورکنگ ویبسائٹس سے ہے؟ میرا نہیں خیال کہ پاکستانی سیاستدان ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ایسے نیٹ ورکس کی عوامی پہنچ بہت محدود ہے اور اسی لیے عوامی رائے پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی۔ میرے خیال میں فی الحال یہ پاکستانی عوام تک اپنی بات پہنچانے کا بہت اچھا ذریعہ ثابت نہیں ہو سکتے۔ ہاں، اگر لوگوں کی پہنچ انٹرنیٹ اور کمپیوٹر تک ہوتی تو بات مختلف ہوتی۔
پاکستان میں کن بلاگز کا مستقبل زیادہ تابناک ہے، اردو یا انگریزی؟
یہ اس پر منحصر ہے کہ آپ مستقبل کی تعریف کیسے کرتے ہیں۔ اگر آپ لگ بھگ اگلی دہائی کی بات کر رہے ہیں تو انگریزی بلاگز اردو کی نسبت زیادہ مقبول ہوں گے۔ ایسا ہونے کی وجوہات میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں۔ اگرچہ میں خود ایک اردو بلاگر ہوں لیکن میرے خیال میں اردو بلاگز کے مقبولِ عام ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔ بلکہ دوسرے جدید سائنسی (ہائی ٹیک) میدانوں میں خود اردو کے مقبول ہونے میں بھی ابھی وقت ہے۔ کسی بھی زبان کی ترقی اسکے بولنے والی قوم کی ترقی سے مشروط ہوتی ہے اور جب تک اردو ہماری جامعات، کالجوں، دفاتر اور کاروبار میں عام نہ ہو جائے، اردو بلاگنگ بھی بہت زیادہ کامیاب نہیں ہو گی۔
پاکستانی بلاگرز اپنے بلاگز سے معاشی فوائد کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟
میرے خیال میں یہ خیال بُرا، انتہائی بُرا ہے۔ میرے نزدیک بلاگنگ ایک معاشرتی ذمہ داری ہے نہ کہ آمدن کا ایک ذریعہ۔ اگر کوئی بھی چند آسان روپے کمانے کے چکر میں ہے تو اسے بلاگنگ سے دور ہی رہنا چاہیے۔ میں نے بلاگرز کو اپنے بلاگز پر گوگل کے اشتہارات دیتے اور پھر معیار پر توجہ کرنے کی بجائے فضولیات لکھتے دیکھا ہے اور وہ بھی بہت زیادہ اور بڑی باقاعدگی سے۔ انکی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ انکی ویبسائٹ پر آئیں اور یوں وہ ہر ماہ چند ڈالر کما لیں۔ جہاں ایک فضول بات لکھنے میں چند لمحے لگتے ہیں، وہاں قاری کو یہ سب پڑھنے میں یقیناً کچھ منٹ تو لگتے ہی ہیں۔ کُل ملا کر لوگوں کے ہزاروں لاکھوں منٹ ایسی بکواس کو پڑھنے میں ضائع ہو جاتے ہیں۔ آخرکار لوگ کام کی بات پڑھنا بھی چھوڑ دیتے ہیں اور یوں سنجیدہ بلاگرز بھی لوگوں کی توجہ نہ پا کر لکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔
کیا آپکے خیال میں پاکستانی بلاگرز کچھ خودنمائی یا خودپسندی کا شکار ہیں اور اپنی ذات کے خول سے باہر ہی نہیں نکلتے؟ کیا یہ بلاگنگ کا مشرقی طور ہے یا خود انھیں بھی نہیں پتہ کہ یہ کیا ہے؟
معاف فرمائیے مگر مجھے نہیں معلوم کہ بلاگنگ کا مشرقی سٹائل کیا ہے۔ ہاں اتنا میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ایسے بلاگرز کو بھی دیکھا ہے جنکے خیال میں ہم انھیں اسلئے پڑھتے ہیں کیونکہ اہم انکی عظمت کے متعلق جاننا چاہتے ہیں۔ وہ ساری توجہ اپنے اوپر ہی مرکوز رکھتے ہیں اور خوشی خوشی اپنی کہانیوں کے ہیرو بنے رہتے ہیں۔ یقیناً اپنی ذات پر اتنی زیادہ توجہ ٹھیک رویہ نہیں۔ اسکی دوسری انتہا پر وہ لوگ ہیں جنکی توجہ کسی بھی چیز پر نہیں ہوتی اور وہ یوں ہی ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔
کیا یہ سچ ہے کہ کامیاب بلاگرز کے پاس بہت زیادہ فارغ وقت ہوتا ہے؟
اگر آپ لوگوں کے پڑھنے کو کچھ سنجیدہ مواد مہیا کر رہے ہیں تو بلاگنگ کرنے میں وقت تو یقیناً لگتا ہے۔ مثال کے طور پر مجھے ایک بلاگ لکھنے میں اوسطاً پانچ گھنٹے لگتے ہیں۔ یہ ان بیشمار گھنٹوں کی سوچ کے علاوہ ہے جو روزمرہ کے معمولات کے دوران میرا ذہن سوچتا رہتا ہے۔ اسکے باوجود میں اپنے بلاگ کو ایک کامیاب بلاگ نہیں کہونگا، کیونکہ کامیابی کی معروضی تعریف یہ ہے کہ ایک دن میں کتنے لوگ آپکی سائٹ پر تشریف لاتے ہیں۔ مزے کی بات یہ کہ شائد ایسے بلاگز جنہیں ہر روز درجنوں لوگ دیکھتے ہوں، شائد آپکا کم وقت لیں گرچہ یوٹیوب ویڈیوز یا فلِکر پر موجود تصاویر کے ربط دینے یا اخبارات میں چھپنے والے مواد کو من و عن چھاپ دینے میں بھی کچھ وقت تو لگتا ہی ہے، خصوصاً اس صورت میں جب آپ ہر روز ہی ایسا کچھ کر رہے ہوں۔
کارپوریٹ یا کاروباری بلاگز کے متعلق آپکا کیا خیال ہے اور ان کے بنیادی فوائد اور نقصانات کیا ہیں؟
میں پھر یہی کہونگا کہ میرے نزدیک کاروباری بلاگز انتہائی غلط تصور ہے۔ کارباری بلاگز اپنی مصنوعات بیچنے کے ایک طریقے کے علاوہ کچھ نہیں۔ بلاگنگ نام ہے ایک شخص کے اظہارِ رائے کی آزادی کا، جبکہ کاروباری بلاگز میں ایسا کچھ نہیں ہوتا اسلئے کم از کم میرے لیے تو اس تصور کو ہضم کرنا مشکل ہے۔
آپکو یہ بات دکھ دیتی ہے یا آپ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم نے ایک باوردی جرنیل کو اپنا صدر منتخب کر کے نئی تاریخ رقم کی ہے؟
ہیں۔۔۔۔؟ یہ کیا تھا؟ بہرحال میں حیران ہوں کہ یہ بات سوال بننے کے قابل بھی ہے یا کبھی بھی تھی؟ میں نے اس شخص کو ووٹ نہیں دیا اور میرے خیال میں یہی حال سولہ کروڑ پاکستانیوں کی اکثریت کا ہے۔
کیا آپکے خیال میں بلاگز اور انٹرنیٹ پر موجود دیگر مواد پربڑھتی ہوئی توجہ اس بات کی اہم نشانی ہے کہ انٹرنیٹ۔ یہ معاشرتی انٹرنیٹ، ایک اہم معاشرتی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے؟
انٹرنیٹ یا عالمگیر جال (ورلڈ وائڈ ویب) رسل و رسائل کا ایک اہم ذریعہ ہے اور ایسا کوئی بھی ذریعہ معاشرتی طاقت ہی کہلائے گا۔ آخر سیاسی رہنما ریلیاں کیوں منعقد کرتے ہیں، کاروباری ادارے سالانہ عشائیوں پر اخراجات کیوں کرتے ہیں، دفاعی ادارے بڑے کھانوں کا انتظام کیوں کرتے ہیں اور کسی تعلیمی ادارے کے فارغ التحصیل طلبا یا اولڈ بوائز اپنی سالانہ تقریبات کیوں منعقد کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ؟ یہ سب معاشرتی اثاثے (social capital) کی ترقی اور فروغ کے طریقے ہیں اور بس انہی جیسا ایک طریقہ انٹرنیٹ بھی ہے۔ گرچہ پاکستان میں یہ پڑھی لکھی، مڈل کلاس، شہری آبادی میں حال ہی میں ایک نمایاں طاقت کے طور پر ابھرا ہے لیکن فی الحال اسکی اثر انگیزی خاصی محدود ہے۔ اسکی مقبولیت کے اضافے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔
آپکے خیال میں پاکستانی بلاگنگ دنیا فی الوقت کہاں کھڑی ہے؟
میں پاکستانی بلاگنگ دنیا پر تبصرہ کرنے کی قابلیت نہیں رکھتا کیونکہ میں چند ہی پاکستانی بلاگز پڑھتا ہوں۔ لیکن اتنا ضرور کہونگا کہ جدید ٹیکنالوجی تک محدود رسائی کے باوجود پاکستانی بلاگرز نے اچھا خاصا کام کیا ہے۔ البتہ ابھی کافی سنجیدگی سے کام کرنے کی مزید ضرورت ہے۔ میں لینکس آپریٹنگ سسٹم سیکھنے کیلئے اکثر بلاگز سے استفادہ کرتا ہوں لیکن ابھی تک آئی ٹی سے متلعق کوئی اچھا پاکستانی بلاگ میری نظر سے نہیں گزرا۔ ایسا کوئی بلاگ بھی میں نے نہیں دیکھا جو ہماری نوجوان نسل کو اپنا کیریر چننے میں ممد ثابت ہو یا ایسا کوئی بلاگ جو پاکستان کے ممتاز تعلیمی اداروں کے سابقہ طلباء یعنی اولڈ بوائز لکھ رہے ہوں، وغیرہ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی بلاگنگ دنیا اپنے آپ کو عمودی اور افقی طور پر بڑھائے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے ایسے بلاگز ہوں جو بہت ہی مخصوص موضوعات پر لکھے جا رہے ہوں (افقی گہرائی) اور یہ موضوعات بہت مختلف النوع ہوں (یعنی عمودی پھیلاؤ)۔ پاکستانی بلاگنگ دنیا میں ایک اچھی بات میٹرو یا مخصوص شہری بلاگز کا ہونا ہے۔ میرے خیال میں پاکستان کے چھوٹے شہروں اور قصبات میں چونکہ مقامی میڈیا موجود نہیں یا کمزور ہے، اسلئے ایسے بلاگز مقامی معلومات کی ترسیل میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایسی بلاگز ہر شہر اور قصبے کی سطح پر لکھے جانے چاہئیں تا کہ لوگوں تک اپنے شہر یا قصبے کی خبریں جلد اور مستند ذریعے سے پہنچ سکیں۔ یہ پاکستانی بلاگ قارئین کیلئے بہت بڑی خدمت ہو گی۔
آپ اپنے پسندیدہ پانچ پاکستانی بلاگرز بتانا پسند کریں گے؟
اس بات کا فیصلہ کرنا تو خاصا مشکل ہے لیکن بِنا کسی ترتیب کے اور بشمول بہت سے لوگوں کے کہ جنکا ذکر میں یہاں نہیں کر رہا، مجھے اجمل صاحب، نعمان یعقوب، ابو شامل، دوست، شعیب صفدر، وغیرہ پسند ہیں۔ کبھی کبھار میں Teeth Maestro بھی پڑھ لیتا ہوں۔
کیا کسی پاکستانی بلاگز کی انفرادیت نے آپکو حیران کن حد تک متاثر کیا ہے؟
رضا رومی منفرد ہیں کیونکہ انکی توجہ تصوف پر اور اس سخت دنیا کے نرم گوشوں پر رہتی ہے۔ Teeth Maestro بھی منفرد ہیں کیونکہ حالاتِ حاضرہ کی خبریں مہیا کرنے کے سلسلے میں وہ بارہا اخبارات پر بھی سبقت لے جاتے ہیں۔ اور بھی لوگ ہیں جنکی اپنی اپنی خصوصیات ہیں۔
پاکستان میں بلاگنگ کا مستقبل کیا ہے؟
روشن، لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ میں ہر شخص کو بلاگنگ کرتے دیکھ رہا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ وقتی ابال کے بعد ہم سب مخصوص موضوعات پر لکھتے چند، منجھے ہوئے اور بہت اچھے بلاگز کو دیکھیں گے۔
کیا سیاسی اعتبار سے ہم بلاگنگ کو اظہار کی آزادی کہہ سکتے ہیں؟
بلاگنگ اسکے علاوہ کیا ہے؟ یہ اظہارِ رائے کی آزادی ہی تو ہے۔ یہ سیاسی اعتبار سے نہیں بلکہ انسانیت کے ناتے ہے۔ البتہ اس آزادی کے استعمال میں احتیاط لازم ہے، کہ ہر حق کیساتھ کچھ فرائض بھی جُڑے ہوتے ہیں۔ میری لکھی کوئی تحریر چاہتے نہ چاہتے کسی بھی شخص کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسکا مطلب یہ کہ میں کسی شخص، گروپ یا ایک گروہ کو بنا یا بگاڑ سکتا ہوں۔
کیا پاکستانی بلاگنگ دنیا آنے والے الیکشن میں، اگر وہ انجام پاتے ہیں، کوئی کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے؟
میرا خیال ہے کہ نہیں۔ پاکستانی بلاگنگ دنیا کی پہنچ بہت محدود ہے اور اسی لیے مستقبل قریب میں معروضی سیاسی سوچ کو متاثر کرنے کی اسکی صلاحیت بھی محدود ہے۔ بلاگز پڑھنے کی نسبت لوگوں کی بہت بڑی تعداد اخبارات بینی کرتی ہے، ٹی وی دیکھتی ہے یا ریڈیو سنتی ہے۔ یہ سب بنیادی شماریات ہے۔
بلاگنگ آپکی ذاتی یا پیشہ ورانہ زندگی پر کس طرح اثرانداز ہوئی ہے؟
جہاں تک میری ذاتی زندگی کا تعلق ہے، بلاگنگ نے میری شخصیت کی بالیدگی میں اچھا خاصا حصہ ڈالا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ہوا ہے کہ اپنی اصل زندگی میں میں پہلے کی نسبت زیادہ گوشہ نشیں ہو گیا ہوں۔ مجھے لوگوں سے اصل دنیا کی بجائے انٹرنیٹ پر ملاقات کرنا اچھا لگنے لگا ہے۔ پیشہ ورانہ اعتبار سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ میں نے کچھ تعلیمی یا تدریسی بلاگ دیکھے ہیں لیکن بطور ایک طالبعلم کے، میں ایسے بلاگز پر سائنسی مجلوں میں چھپنے والے مواد کو زیادہ ترجیح دیتا ہوں۔
مستقبل سے متعلق آپکے کیا منصوبے ہیں؟
کس بابت؟ اگلے تین برس میں میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرنا چاہتا ہوں۔ بلاگنگ کے محاذ پر میں لکھنا اور پڑھنا جاری رکھونگا انشاہ اللہ، اگر وقت کی قلت مانع نہ ہوئی تو۔
پاکستانی سپیکٹیٹر کے قارئین کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
جی ہاں، ضرور۔ صاحبو، آپ جب بھی بلاگز پڑھیں تو ان پر تبصرہ ضرور کریں۔ اس سے لکھنے والے کو اپنی تحاریر کی اصلاح کا موقع ملتا ہے اور یوں آپ بھی ایک تعمیری عمل کا حصہ بن جاتے ہیں، جو دراصل "کچھ دو اور کچھ لو” کا عمل ہی ہے۔
اسکے علاوہ میں پاکستانی بلاگنگ دنیا کے لکھاریوں کو بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ دوستو، آپ اپنی منزل کا تعین کریں اور اسکے لیے سنگِ میل بھی چن لیں۔ آپکو علم ہونا چاہیے کہ آپ اپنے بلاگز کے ذریعے کیا حاصل کرناچاہتے ہیں اور پھر اس پر اپنی پوری توجہ مرکوز کر دیں۔ اور یقین کریں، آپکے قارئین میں سے بہت ہی کم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہونگے کہ آپ بحیثیتِ انسان کتنے عظیم ہیں۔ اپنے موضوعات کو مختصر کریں چاہے آپکا دل اردگرد ہونے والے ہر دلچسپ واقعے پر لکھنے کو چاہ رہا ہو۔ میں اپنی مثال نہیں دینا چاہتا لیکن میں صرف دو موضوعات پر لکھتا ہوں۔ اگر میرے لکھاری میرا بلاگ پڑھتے وقت یہ جانتے ہوں کہ انھیں پڑھنے کو کیا ملے گا تو یہی میری شناخت ہے اور یہی میری کامیابی ہے۔ بلاگنگ مبارک ہو اور اس طویل سفر پر میری نیک خواہشات آپکے ساتھ ہیں۔

Advertisements

8 Responses

Subscribe to comments with RSS.

  1. Shoiab Safdar said, on فروری 4, 2008 at 4:25 شام

    یار انٹرویو تو آپ نے اچھا دیا! بلکہ کمال دیا ہے!!

  2. بدتمیز said, on فروری 4, 2008 at 7:21 شام

    میں نے بلاگنگ کے حوالے سے کچھ کب سے لکھ کر رکھا ہوا ہے۔ سستی کے مارے پوسٹ نہیں کرتا۔
    بلاگرز کے روئے سے متعلق آپ کی رائے کچھ نا انصافی پر مبنی ہے۔ ایسے ہم انسان کے سب سے بڑے حق کو ختم کر دیتے ہیں۔ خود مجھے کچھ بلاگز بالکل بکواسیات لگتے ہیں لیکن آپ کو وہ پسند ہونگے لہذا میں اپنی رائے تھوپنا معیوب سمجھتا ہوں۔ یہ تو ایسے ہی ہے اگر کسی کو پک اب وین پسند ہو تو وہ ساری دنیا کو پک اپ وین لینے پر زور دے اور سیڈان کے خلاف ہو۔
    ایڈز کے حوالے سے بھی میں آپ کی رائے سے اختلاف کرونگا۔ میں ایڈز کو سپورٹ کرتا ہوں۔ آپ کا اور میرا معاشرہ مادی اور جاہل ہے۔ اس کو بہلا پھسلا کر بلاگنگ پر آمادہ کریں جہاں کچھ برے ہونگے وہاں اچھے بلاگ بھی ہونگے اور مال جیسا بھ یہو گاہلک تو ہر چیز کا مل ہی جاتا ہے۔
    اپنی ہی کہانی جس کا میں ہیرو ہوں سنا دیتا ہوں مجھ سے کسی نے کہا اوئے تمکو وہاں بھاٹی گیٹ کے پاس دیکھا تھا وہاں کدھر پھر رہے تھے؟ میں نے کہا قبلہ میں تو دوست کی طرف سے آ رہا تھا آپ کدھر تھے۔ بزرگ کی بولتی بند ہو گئی۔ ضروری نہیں جس کو آپ غلط جانیں وہ غلط ہی ہو آپ کی نظر کا دھوکہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایڈز بھی ایسے ہی ہیں کسی کی ضرورت کا ہمیں کیا علم؟ میں نے تو ایڈز کے چکروں میں اچھے خاصے لوگوں کو فضول ترین کاموں میں ملوث دیکھا ہے۔ آپ کا ایک پسندیدہ بلاگر بھی ایسے ہی کام میں ملوث ہے۔
    سیلف سینٹرڈ ہیرو کے حوالے سبھ بھی کہونگا لوگ کتابیں لکھ کر ان کے ہیرو بنتے ہیں کچھ غریب بلاگ لکھ کر بن جاتے ہیں تو کیا برا ہے۔ آپ دیکھ لیں صدر سے لے کر ایک عام کالم نگار تھا ہیرو بننے کے چکر میں ہے۔
    یہ چیزیں آپ کے پیش نظر بری ہونگی لیکن بہت سوں کے نزدیک نہں۔ جب آپ کسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو سارے سر اس اشارے کی سمت مڑ جاتے ہیں۔ چند ایک تب بھی آپ کی طرف دیکھتے رہتے ہیں۔
    ویسے انٹروہ اچھا ہے ہے آپ کا انداز دلنشین تو پہلے بھی تھا۔

  3. Shah Faisal said, on فروری 5, 2008 at 11:31 صبح

    شکریہ شعیب صفدر اور بدتمیز،
    بدتمیز بھائی اختلافِ رائے آپکا حق ہے، میں جو سمجھتا ہوں وہ میں نے اس انٹرویو میں کہا اور اچھی بات ہے کہ اپ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ دو انسانوں کی سوچ بالکل ایک جیسی تو ہو نہیں سکتی۔ تفصیلی تبصرے کا شکریہ

  4. Raza Rumi said, on فروری 11, 2008 at 12:34 شام

    Aap ki zara nawaazi ka shukriya
    Adaab arz hai
    Raza

  5. ڈفر said, on فروری 24, 2009 at 10:49 شام

    بہت اچھا اور جامع انٹرویو دیا ہے آپ نے
    🙂

  6. tania rehman said, on فروری 25, 2009 at 4:40 صبح

    فیصل بہت اچھا انٹرویو تھا ۔

  7. محمد وارث said, on مارچ 5, 2009 at 8:15 شام

    بہت اچھا لگا فیصل صاحب آپ کے بارے میں جان کر، بہت اچھا انٹرویو ہے آپ کا۔


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: