Faisaliat- فیصلیات

همارا نیا نوکیا -١

Posted in Computing, urdu by Shah Faisal on اگست 7, 2008

صاحبو یہ تو آپ یقیناً جانتے ہی ہیں کہ خاکسار کس قدر سُست الوجود ہے اور نہیں جانتے تو میری بیگم سے پوچھ لیجئے۔ لیکن یقین کیجئے میری زندگی میں دو ادوار ایسے گزرے ہیں جب زندگی گھڑی کی سوئیوں پر تھرکتی تھی۔ پہلا دور تو وہ چار برس تھے جو کیڈٹ کالج کوہاٹ میں گزرے اور پھر لگ بھگ وہ دو سال تھے جب خوشحالی بنک کی ملازمت کی۔ یہ 2001 کا ذکر ہے جب زندگی کی پہلی نوکری لگی تھی۔ نوکری کی نوعیت ایسی تھی کہ جیب میں ہر وقت ڈیجیٹل ڈائری رہتی تھی۔ اس سے میں گھڑی، کیلکولیٹر، کیلنڈر، الارم، فون ڈائری کا کام بیک وقت لیتا تھا اور یہ میری بڑی اچھی رفیق تھی۔ مجھے سوزوکی جیب ملی ہوئی تھی اور میں اور میرا نوجوان ڈرائیور قیوم مل کر ڈیرہ اسماعیل خان کے نئے نئے دیہات اور نئے نئے راستے دریافت کرتے تھے۔ یہ مہم جوئی کی عادت اسوقت بڑی کام آئی جب پشین میں پوسٹنگ کے دوران برساتی نالوں سے گزر کر جانا پڑتا تھا کہ پختہ یا کچی سڑک کی بھی، عیاشی بلوچستان میں کم کم ہی ہے۔ خیر اس نوکری کے بعد ایسا دور کم ہی آیا جب اتنی تفصیلی ٹائم مینیجمنٹ کی ضرورت پڑی ہو۔

بہرحال وقت بدل گیا اور موبائل فون عام ہو گئے۔ مجھے نت نئے موبائل فون خریدنے کا بالکل شوق نہیں اور جب لوگ بڑے فخر سے اپنے فون کی خصوصیات بتاتے ہیں مثلاً موسیقی یا کیمرہ وغیرہ تو مجھے ہنسی آتی ہے۔ فوٹوگرافی کا شوق ہو تو بندہ کچھ پیسے خرچ کر کے کوئی اچھا سا ڈی ایس ایل آر کیمرہ لے لے اور موسیقی کا شوق ایم پی تھری پلیئر سے پورا کر لے۔ فون تو فون ہی رہتا ہے اور یہ بھی سچ کہ چند دنوں کے شوق کے بعد شائد ہی کوئی فون کی ان خصوصیات کا باقاعدگی سے استعمال کرتا ہو۔

بہرحال میں کافی عرصے سے فون کے ہمراہ ایک پی ڈی اے (جو مخفف ہے پرسنل ڈیجیٹل اسسٹنٹ کا اور جسے آپ ڈیجیٹل ڈائری کی ترقی یافتہ شکل کہہ سکتے ہیں)، لینے کا سوچ رہا تھا لیکن جیب میں دو دو چیزیں  لیے پِھرنا خاصا دشوار کام ہے۔ اسلئے فیصلہ کیا کہ سمارٹ فون یا پی ڈی اے فون لے لیا جائے کہ جو دونوں کام کر سکتا ہو۔ کچھ تحقیق کی تو پتا چلا کہ یہ فیصلہ کہ کونسا لیا جائے خاصا مشکل ہے  کہ مارکیٹ میں بہت سی اقسام کے سمارٹ فون دستیاب ہیں۔ مثلاً نوکیا کے این سیریز فون ہیں (نوکیا انھیں ملٹی میڈیا کمپیوٹر کہتی ہے کہ ان میں اعلی پائے کی صوتی و بصری یعنی آڈیو اور وڈیو خصوصیات ہوتی ہیں)۔ پھر نوکیا کے ای سیریز فون ہیں کہ جو بزنس ماڈل شمار ہوتے  ہیں۔ ایسے فون بنانے والے دوسرے مشہور برانڈ ایچ ٹی سی، سام سنگ، رِم بلیک بیری، پام، سونی ایریکسن، موٹورولا وغیرہ ہیں۔ ایپل کا آئی فون بنیادی طور پر ایک انٹرٹینمنٹ فون ہے جسکا ثبوت اسکی بڑی سکرین اور آئی پاڈ سے ملتی جلتی خصوصیات ہیں گرچہ  اسکے نئے ماڈل میں اضافی خصوصیات شامل کر کے اسے بزنس فون کے طور پر متعارف کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے اور شائد اسمیں ایپل کو کامیابی بھی ہوئی ہو۔ چند مشہور برانڈ مثلًا او ٹُو، آئی میٹ، ڈوپوڈ وغیرہ ایچ ٹی سی، سے ہی اپنے  کچھ فون بنوا کے اپنے نام سے فروخت کرتے ہیں۔

جس طرح کمپیوٹر کو استعمال کرنے کیلئے ایک آپریٹنگ سسٹم کی ضرورت پڑتی ہے مثلاً ونڈوز یا لینکس، اسی طرح آپکا فون بھی آپریٹنگ سسٹم کے بغیر بیکار ہے گرچہ آپکا اس سے براہ راست واسطہ کم ہی پڑتا ہے۔ اسوقت دنیا میں جو مستعمل سسٹم ہیں ان میں سب سے مشہور تو سمبیان ہے، جو عموماً نوکیا اور سونی ایرکسن فون میں پایا جاتا ہے۔ نوکیا نے لینکس استعمال کرنے والے فون بھی بنائے ہیں، جبکہ موٹورولا کافی عرصہ سے لینکس ہی استعمال کر رہا ہے، سنا ہے کہ گوگل کا انڈرائڈ نظام بھی لینکس ہی ہو گا (گرچہ مجھے پورا علم نہیں)، جبکہ اوپن موکو کے نام سے بھی تجربات جاری ہیں۔ اسکے بعد آپکا جانا پہچانا ونڈوز نظام ہے جسکی فون میں مستعمل قسم کو ونڈوز موبائل کہا جاتا ہے۔ آئی فون، پام اور بلیک بیری اپنا الگ الگ نظام استعمال کرتے ہیں، گرچہ یہ سب بھی شائد لینکس کی ہی اقسام قرار دی جا سکتی ہیں۔ ایک صارف کے طور پر آپ کو کم ہی فکر ہونی چاہیے کہ آپکا فون کونسا نظام استعمال کرتا ہے۔ اصل مقصد تو وہ کام ہیں جو آپ اپنے فون سے لینا چاہتے ہیں۔میرے زیر نظر کچھ یہ عوامل تھے:

بطور فون عمومی خصوصیات مثلا آواز کی کوالٹی وغیرہ

ای میل خصوصاً پُش ای میل

انٹرنیٹ بذریعہ وائرلیس لین یا وائی فائی

پرسنل انفارمیشن مینیجمنٹ کی اعلی خصوصیات یعنی کیلنڈر، نوٹس، فون ڈائری، وغیرہ

ذاتی کمپییوٹر/ پی سی میں موجود پم مثلاً مائکروسوفٹ آوٹ لک کے ساتھ معلومات یا ڈیٹا کی ترسیل یعنی سنکرونائزیشن

دفتری فائلوں مثلا ایم ایس ورڈ، ایکسل، ایڈوبی پی ڈی ایف، وغیرہ کو پڑھنے، لکھنے اور ترمیم کرنے کی صلاحیت

مکمل کی بورڈ یعنی ایسا کی بورڈ جیسا آپکے کمپیوٹر میں ہے، کچھ مثالیں یہاں دیکھ لیں

سکرین کا سائز اور کوالٹی، دھوپ میں نظر آنے کی صلاحیت

فون کا حجم ، وزن، ظاہری شکل، ٹھوس پن وغیرہ

بعد از فروخت سروس اور برانڈ کا عمومی تاثر، استعمال شدہ فون کی مارکیٹ میں قدر وغیرہ

ڈیٹا ٹرانسفر کے متفرق طریقے مثلاً تار یا بلیو ٹوتھ

قیمت (یقینا یہ ایک اہم نکتہ ہے)

یاداشت/ میموری میں اضافے کی صلاحیت

فون کے استعمال کی آسانی (آئی فون غالبًا سب سے نمبر لے گیا ہے لیکن سمبیان پر چلنے والے فون عموما ونڈوز والوں سے آسان اور سہل خیال کیے جاتے ہیں)

متفرق خصوصیات مثلا کیمرہ، موسیقی، جی پی ایس کی موجودگی

مارکیٹ میں دستیاب سوفٹویر اپلیکیشنز/ اطلاقیوں کی تعداد اور انکی قیمت۔ یہ آپکے فون میں اضافی خصوصیات پیدا کرتے ہیں

آپ یقینا سوچ رہے ہوں کہ ایک فون کیلئے اتنا جنجھٹ کیوں لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ میں ان لوگوں میں سے نہیں جو آئے دن اپنے فون تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ میرے نزدیک اس قسم کی ذاتی استعمال کی اشیا کا آپ سے خاص تعلق بن جاتا ہے جوغالبا دونوں کیلئے فائدہ مند ہوتا ہے۔ بہر حال بات کافی لمبی ہو گئی ہے۔ اسلئے اس بات کو کہ میں نے کونسا فون لیا، اگلی قسط پر چھوڑتے ہیں۔عنوان سے تو آپکو پتہ چل ہی گیا ہوگا کہ یہ نوکیا ہی ہے، باقی ذرا سسپنس رہنے دیں. اسکے علاوہ یہ بھی انشااللہ بتاونگا کہ کونسے فون میری نظر میں تھے اور ایک کو باقیوں پر ترجیح دینے کی کیا وجوہات تھیں، شائد آپکو بھی اپنا فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔

 

Advertisements