Faisaliat- فیصلیات

اور ناک کٹ گئی

Posted in urdu by Shah Faisal on اکتوبر 26, 2008

صاحبو آج ہی کینبرا کے کیلوری اسپتال کے زچہ و بچہ وارڈ سے واپسی ہوئی ہے کہ جہاں خاکسار کی ناک کٹ گئی۔محاورتاً نہیں جناب حقیقتاً۔ ذرا دھیرے صاحب پوری بات تو سن لیجئے۔ کافی برس ہونے کو آئے کہ ناک کی بڑھی ہڈی نے جینا عذاب کر رکھا تھا۔ اتنا عرصہ تو جیسے تیسے کر کے گزار دیا لیکن اب گزارہ محال تھا۔ سو آپریشن کی غرض سے جا اسپتال داخل ہوا جہاں یہ مژدہ سننے کو ملا کہ سرجیکل وارڈ کا کوئی بستر خالی نہیں اور مجھے ایک رات زچہ و بچہ وارڈ میں گزارنے پڑے گی۔ کمرے میں میرے ساتھ ایک صاحب اور بھی تھے کہ وہ بھی ناک کا آپریشن کرائے پڑے تھے۔ رات بچوں کی غوں غاں اور پڑوسی کی آہ و بکا سنتے گزری لیکن بہرحال گزر ہی گئی۔
چلو یہ مرحلہ بھی طے ہوا۔ زچہ و بچہ میرا مطلب ہے میں اور میری ناک دونوں خیریت سے ہیں۔ آپکو فکر کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔
"پہلے اور بعد میں” کے رواج کے تحت کچھ تصاویر حاضرِ خدمت ہیں جنکا معیار اسلئے اچھا نہیں کہ موبائل فون سے لی گئی ہیں اور یوں بھی کہ بیگم وہاں تصاویر لینے گئی تھیں کیا؟

چند گھنٹوں پہلے:

چند منٹ پہلے:

آپریشن کے کچھ گھنٹوں بعد:

میری تراشیدہ ناک:

رہے نام اللہ کا!!!

Advertisements

ہمارا نیا نوکیا -۲

Posted in Computing, urdu by Shah Faisal on اکتوبر 3, 2008

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ خاکسار ہیچمدار کو اتنا وقت اور ارادہ میسر ہو ہی گئے کہ اس سلسلے کو جو ناچیز نے اگست میں شروع کیا تھا آگے بڑھایا جائے۔ اس ضمن میں محترم روغانی صاحب کی یاد دہانی بھی گویا میری  پشت پر آخری تنکا ثابت ہوئی۔ تو صاحب پڑھیئے اور سر دھنئیے مگر اپنا۔ جناب بد تمیز صاحب، کہ بارے جن کے ظن ہے کہ یہ محض انکا تخلص ہی ہے، نے سب سے پہلے یہ پہیلی بوجھی تھی کہ بالآخر وہ کونسا خوشنصیب فون تھا جو اس جیب کی زینت بنا، اگرچہ جیب میں رکھنے کی نوبت کم کم ہی آتی ہے۔ کیوں؟ پڑھتے رہیئے۔

تو جناب یہ نوکیا ای اکسٹھ آئی تھا، جو اُس کسوٹی پر پورا اترا جو پچھلی تحریر میں بیان کی تھی اور مندرجہ ذیل سطور میں بھی آپکو نظر آئے گی۔ ویسے یہ پہیلی اتنی مشکل اسلئے نہیں تھی کیونکہ ایک مرتبہ جب یہ فیصلہ ہو گیا کہ نوکیا ہی لینا ہے اور کہ جسمیں وائی فائی یا وائر لیس انٹرنیٹ  کے علاوہ مکمل کی بورڈ بھی موجود ہو تو  پھر نوکیا ای نوے، ای اکہتر اور ای اکسٹھ آئی ہی رہ جاتے ہیں۔ اس میں سے بھی اگر ای نوے کو بوجہ قیمت اور حجم نکال دیں تو اصل معرکہ ای اکہتر اور ای اکسٹھ آئی کے مابین ہی تھا۔

صاحب شائد آپکو یاد نہ ہوں وہ خصوصیات جو پیش نظر تھیں سو انکو دہرا دینا نا مناسب نہ ہو گا :

۱۔  بطور فون عمومی خصوصیات مثلا آواز کی کوالٹی وغیرہ: نوکیا کے معاملے میں اس بارے زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔

۲- ای میل خصوصاً پش ای میل: کسی زمانے میں تو بلیک بیری ہی اس سلسلے کا بے تاج بادشاہ تھا لیکن اب نوکیا بھی یہاں پنجے تیز کر رہا ہے، بشمول دوسرے کھلاڑیوں کے۔  کئی دیگر فون مثلاً ونڈوز پر چلنے والے فون بھی اس سلسلے میں اچھے ہیں۔ دراصل اہم  بات اس خصوصیت کے ہونے یا نہ ہونے کی نہیں بلکہ اسکے استعمال کی قیمت کی ہے۔ اگر آپکا فون کنکشن فکسڈ ڈیٹا پلان پر نہیں تو فون کا بل آسمان سے باتیں کر سکتا ہے۔ پاکستان میں شائد پانچ سو روپے ماہانہ کے عوض آپکو یہ سہولت مختلف موبائل کمپنیوں سے مل سکتی ہے۔ پاکستان میں رہنے والے دوست زیادہ بہتر بتا سکتے ہیں۔ اسوقت نوکیا پُش ای میل کی سہولت  مفت مہیا کر رہا ہے لیکن مستقبل بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ان ای میل اکاونٹس کے لیے ہے جو آپ عام زندگی میں استعمال کرتے ہیں مثلاً جی میل، یاہو  وغیرہ۔ پُش ای میل کا مطلب یہ ہے کہ آپکا فون ہر وقت آپکے ان باکس کی نگرانی کریگا اور جونہی کوئی نئی میل آپکے اکاونٹ میں وارد ہو گی، آپکو فوراً مطلع کریگا۔ ظاہر ہے کہ اسکے لئے یا تو آپ کا انٹر نیٹ سے مسلسل رابطہ ضروری ہے اور یا پھر آپکا فون کنکشن استعمال ہو گا۔ اسوقت پاکستان میں آپ لگ بھگ پندرہ روپے کے عوض تقریباً ایک میگا بائٹ ڈیٹا ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں۔ زونگ والوں نے غالباً ڈیٹا کی مقدار کی جگہ وقت کے حساب سے بلنگ کا سلسلہ شروع کیا ہے لیکن بہرحال میری معلومات اس سلسلے میں محدود ہیں۔

۳- انٹرنیٹ بذریعہ  وائرلیس لین یا وائی فائی: میں چونکہ موبائل فون کے ماہانہ اخراجات کے معاملے میں خاصا کنجوس ہوں تو یہ خصوصیت میرے لئے بہت ہی ضروری تھی۔ اتنی کہ اس کے بغیر میں کوئی فون نہ لیتا۔ پام فون نہ لینے کی ایک اہم وجہ بھی یہ تھی کہ اسوقت تک پام کا کوئی ماڈل وائی فائی سے لیس نہیں تھا۔ اب غالباً حال ہی میں انکے دو ماڈل اس سہولت سے لیس آئے ہیں۔ میرا زیادہ وقت چونکہ گھر یا یونیورسٹی میں گزرتا ہے کہ جن ہر دو جگہوں پر مجھے وائرلیس انٹر نیٹ میسر ہے تو فون کمپنی کو انٹرنیٹ کے اضافی پیسے دینے کے کوئی تک نہیں بنتی۔ ہاں البتہ آپکی فون کمپنی اچھا پیکج دے تو بہرحال تھری جی یا پاکستان کے معاملے میں جی پی آر ایس کا اپنا ہی مزہ ہے کہ جہاں فون کا سگنل، وہاں انٹرنیٹ اور ای میل آپکی جیب میں۔

۴- پرسنل انفارمیشن مینیجمنٹ کی اعلی خصوصیات یعنی کیلنڈر، نوٹس، فون ڈائری، وغیرہ: زیادہ اہم نہیں کہ ای سیریز کے فون ان خصوصیات کے حامل ہیں، ہر اچھے سمارٹ فون کیطرح۔

۵- ذاتی کمپییوٹر/ پی سی میں موجود پم مثلاً مائکروسوفٹ آوٹ لک کے ساتھ معلومات یا ڈیٹا کی ترسیل یعنی سنکرونائزیشن: اس معاملے میں نوکیا فون اتنا اچھا تو شائد نہ ہو جتنا ونڈوز پر چلنے والے فون ہیں لیکن بہرحال برا بھی نہیں۔ پام کی ایک اضافی خصوصیت لینکس پر چلنے والے اطلاقیوں سے ہمکلام ہونے  کی ہے جبکہ باقی سب فون تُک بندی کرنے کی حد تک ہی لینکس کے ساتھ چل پاتے ہیں ۔ لیکن  یہ میرے لئے اتنا اہم اسلئے نہیں تھا کہ انٹرنیٹ پر براہ راست یہ کام ہو سکتا ہے۔ میری ای میل، ایڈریس بک، نوٹس وغیرہ مائکروسوفٹ ایکسچینج پر ہیں اور نوکیا ای سیریز کے فون کامیابی سے ایکسچینج سے منسلک ہو جاتے ہیں۔ باقی ماڈل بھی شائد ہوتے ہوں، مجھے علم نہیں۔

۶- دفتری فائلوں مثلا ایم ایس ورڈ، ایکسل، ایڈوبی پی ڈی ایف، وغیرہ کو پڑھنے، لکھنے اور ترمیم کرنے کی صلاحیت: کچھ حد تک اہم لیکن بہت زیادہ نہیں۔

۷- مکمل کی بورڈ یعنی ایسا کی بورڈ جیسا آپکے کمپیوٹر میں ہے: وائرلیس انٹرنیٹ کے علاوہ یہ دوسری اہم ترین خصوصیت تھی جو میرے مدنظر تھی۔ وجہ استعمال کی سہولت ہے۔ ای میل کی تحریر، چیٹنگ، ایس ایم ایس وغیرہ کا جو مزہ مکمل کی بورڈ استعمال کرنے پر آتا ہے، وہ مجھ سے پوچھیں۔ اب تو حالت یہ ہے کہ لیپٹاپ چلانے کی زحمت بھی نہیں کرتا اور بعض اوقات تو بستر یا صوفے پر لیٹے لیٹے ہی ای میل اور چیٹنگ ہو جاتی ہے۔ ای اکہتر کے مقابلے میں ای اکسٹھ آئی کا کی بورڈ بڑا اور استعمال میں آسان ہے، لیکن بہر حال ای نوے سے چھوٹا ہی ہے۔ ونڈوز پر چلنے والے کئی موبائل سلائڈ کی بورڈ رکھتے ہیں جسکی تعریف نہ کرنا زیادتی ہو گی، گرچہ کچھ لوگ انھیں بھی پسند نہیں کرتے۔

۸۔ سکرین کا سائز اور کوالٹی، دھوپ میں نظر آنے کی صلاحیت: اہم ہے، خصوصاً اگر آپ فون پر انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں۔ ای اکہتر کے مقابلے میں ای اکسٹھ آئی کی سکرین بڑی ہے لیکن ای اکہتر کی سکرین بھی استعمال میں مشکل نہیں۔

۹۔ فون کا حجم ، وزن، ظاہری شکل، ٹھوس پن وغیرہ: بہت اہم ہے، اب آپ جیب میں اینٹ لئے تو نہیں گھوم سکتے نا؟ ای نوے کی سب سے بڑی خامی اور ای اکہتر کی خصوصیت۔ ای اکسٹھ درمیان میں ہے گرچہ جیب میں رکھنا اسکو بھی مشکل ہے۔ بیلٹ سے لگائے پھرتا ہوں۔ عید پر شلوار قمیص پہن کر باہر گیا تو عجب مصیبت تھی کہ اب کیا اسے شلوار سے لٹکاوں؟ سامنے والی جیب میں ڈال تو لیا لیکن جیب بھی لٹک رہی تھی۔ ہی ہی ہی۔ ای اکہتر آسانی سے جیب میں آ جاتا ہے۔ ای نوے کیلئے آپکو سیکرٹری رکھنا پڑے گی۔۔۔ یا پڑے گا۔ شکل کا فیصلہ آپ پر ہے۔۔۔ میری مراد فون کے شکل سے ہے۔ کچھ لوگ بلیک بیری سے مماثل یعنی ای اکسٹھ پسند کرتے ہیں، کچھ کو ای اکہتر اچھا لگا۔ میٹیریل کی جہاں تک بات ہے، عمومی طور پر نوکیا کے سب بزنس ماڈل ٹھوس ہوتے ہیں اور پلاسٹک کی نسبت دھات کا کافی استعمال ہوتا ہے۔

۱۰۔ بعد از فروخت سروس اور برانڈ کا عمومی تاثر، استعمال شدہ فون کی مارکیٹ میں قدر وغیرہ: پاکستان میں نوکیا کے علاوہ بھی فون ہیں؟ ٹھیک ہے، ہیں لیکن نوکیا خو نوکیا دے کنا مڑاں۔۔۔ اب البتہ لوگ دوسرے برانڈ مثلا سونی، سام سنگ یا سمارٹ فونز میں ایچ ٹی سی وغیرہ لے رہے ہیں، گرچہ ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہی ہیں۔ یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ مرمت کی سہولت ہے یا نہیں۔ چائے پانی، بارش، گرد وغیرہ سب سے آپکے فون کا پالا پڑتا ہے، اگر نہیں تو شائد آپ اسے استعمال ہی نہیں کرتے۔

۱۱۔ ڈیٹا ٹرانسفر کے متفرق طریقے مثلاً تار یا بلیو ٹوتھ:  یہ سہولت تقریبا ہر دوسرے جدید فون میں ہے۔ ای اکہتر میں بلیو ٹوتھ ۲ ہے جبکہ ای اکسٹھ میں پرانا ورژن ہے گرچہ اس سے کوئی بڑا مسئلہ ہونا تو نہیں چاہیے۔

۱۲- قیمت (یقینا یہ ایک اہم نکتہ ہے): وجہ تو صاف ظاہر ہے۔ جب میں نے ای اکہتر اور ای اکسٹھ کا موازنہ کیا تو قیمت میں تو تقریبا دو سو آسٹریلوی ڈالر کا فرق تھا لیکن کام میں نہیں۔ پھر ای ایکسٹھ آئی فروری ۲۰۰۷ میں آیا تھا اور تب سے اسکی کئی خامیاں دور کی جا چکی ہیں ( یاد رہے کہ اس سے پہلے ای اکسٹھاورایباسٹھ آئے تھے) جبکہ ای اکہتر بالکل نیا تھا اور اسکو جمتے جمتے کچھ وقت تو لگے گا ہی۔ میرا خیال ہے کہ کسی بھی چیز کا بالکل نیا ماڈل لے کر آپ اس کمپنی کی بڑی خدمت کرتے ہیں جو اسکو بناتی ہے اور پھر آپکے خرچے پر اسکو بعد میں بہتر بناتی ہے۔ ای نوے تو پرانا ہے لیکن اگر چار سو ڈالر میں ایک کام ہو رہا ہو تو اسکے لئے ہزار ڈالر خرچ کرنے اور سیکرٹری رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟

۱۳۔ یاداشت/ میموری میں اضافے کی صلاحیت: بدقسمتی سے ای اکسٹھ زیادہ سے زیادہ صرف دو گیگا کا مائکرو ایس ڈی کارڈ ہی سپورٹ کرتا ہے، ای اکہتر ۸ گیگا تک چلا جاتا ہے۔ لیکن اگر آپکو گانے اور فوٹو نہیں رکھنے تو پھر ۲ گیگا ختم کر کے دکھائیں، مان جاونگا۔

۱۴۔ فون کے استعمال کی آسانی (آئی فون غالبًا سب سے نمبر لے گیا ہے لیکن سمبیان پر چلنے والے فون عموما ونڈوز والوں سے آسان اور سہل خیال کیے جاتے ہیں): میرے لئے یہ اتنا زیادہ اہم نہیں تھا۔

۱۵۔ متفرق خصوصیات مثلا کیمرہ، موسیقی، جی پی ایس کی موجودگی: میرے لئے کیمرہ تو اتنا اہم نہیں تھا لیکن جی پی ایس کی خواہش تھی۔ بعد میں جب علم ہوا کہ نوکیا کمپنی جی پی ایس کی صوتی سہولت کو استعمال کرنے کا الگ سے کرایہ لیتی ہے تو شوق ختم ہو گیا، گاڑی کیلئے علیحدہ جی پی ایس لینا زیادہ بہتر فیصلہ ہے۔ ایک مرتبہ پیسے لگائیں، ماہانہ بل سے جان چھڑائیں۔ اگر نہیں تو میرے اگلے بلاگ کا انتظار کریں جہاں مفت جی پی ایس کے کچھ اطلاقیے بتاونگا۔

۱۶۔ مارکیٹ میں دستیاب سوفٹویر اپلیکیشنز/ اطلاقیوں کی تعداد اور انکی قیمت: نوکیا کیلئے کافی مفت اطلاقیے مل جاتے ہیں۔ پام بھی اچھا ہے، ونڈوز موبائل کے بے تحاشا اطلاقیے موجود ہیں جبکہ آئی فون خاصا پیچھے ہے خصوصا اسوقت جب آپ ایپل والوں کی دکان سے ہی اطلاقیے لینے پر مجبور ہیں۔ یار لوگوں نے اسکا حل نکالا ہوا ہے لیکن پھر بھی اطلاقیے محدود تعداد میں ہیں۔ اسوقت میرے فون میں تقریباً سب اطلاقیے مفت ہیں، شائد ایک آدھ پیسوں والا ہے لیکن انکے بھی ہیک مل جاتے ہیں آسانی سے۔ انکا استعمال کم ہی کرتا ہوں کہ ضمیر کچوکے دیتا ہے، چوری تو چوری ہوتی ہے نا جی؟

۱۷۔ ٹچ سکرین: اسکی مجھے زیادہ خواہش نہیں تھی لیکن اب بعض اوقات اسکی کمی محسوس ہوتی ہے۔ غالباً نوکیا کا کوئی بھی فون ٹچ سکرین نہیں لیکن دوسرے ایسے فون موجود ہیں جنمیں مکمل کی بورڈ کے ساتھ ساتھ ٹچ سکرین کی سہولت بھی ہے۔

اچھا جناب کیا رہ گیا کہنے کو؟ ہاں یاد آیا ایک تو یہ کہ نوکیا کے علاوہ وہ کون کون سے فون تھے جو زیر غور تھے اور دوسرا یہ کہ اسوقت میرے فون میں کون کون سے اطلاقیے موجود ہیں یا یہ کہ فون کا استعمال کیسے ہو رہا ہے۔

پہلے سوال کا جواب تو ابھی دیے دیتا ہوں۔ دوسرے کے لئے آپکو اگلی قسط کا انتظار کرنا پڑے گا کہ بات بہت طویل ہو جائے گی۔ میرے ذہن میں تھا کہ میں نے فون پر زیادہ سے زیادہ سات، ساڑھے سات سو ڈالر لگانے ہیں اگر کوئی بہت اہم وجہ اس سے زیادہ خرچ کرنے کی نہ ہو۔ اس ضمن میں کچھ فون تو بجٹ سے باہر ہی تھے مثلاً نوکیا کا ای نوے یا ایچ ٹی سی کا ٹائی ٹن ۲۔ ایچ ٹی سی کا ایس ۷۴۰ بھی زیرغور تھا لیکن پھر انٹر نیٹ پر کچھ تبصرے اسکے خلاف پڑھے تو ارادہ ترک  کر دیا، گرچہ مجھے اچھا ہی لگ رہا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایچ ٹی سی ایک نہایت ہی معتبر نام ہے سمارٹ فون کی دنیا میں۔ اور اب تو گوگل کا انڈرائڈ نظام بھی دستیاب ہے انکے فون پر۔ سام سنگ کی بلیک جیک سیریز بھی نظر سے گزری مگر اونہوں۔۔۔ ایسوس کا ایم ۵۳۰ و بھی اچھا تھا اور خاصا موڈ بن گیا تھا اسکو لینے کا۔ بلیک بیری کے مختلف ماڈل تھے لیکن ان میں وائر لیس انٹر نیٹ نہیں تھا اور یہی مسئلہ پام کے ساتھ بھی تھا، گرچہ پام کا بھی بڑا نام ہے پی ڈی بنانے میں۔ فون کی دنیا میں انکی آمد گرچہ پرانی نہیں۔  سونی ایریکسن کا پی ون آئی؟ نہیں نہیں۔ اسکے علاوہ بھی چند ایک تھے لیکن آخر میں بات نوکیا ای اکسٹھ آئی اور ای اکہتر پر آن ٹہری۔ اتفاق سے مجھے دونوں استعمال کرنے کا اتفاق ہوا ہے۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ ای اکہتر کئی طرح سے ای اکسٹھ آئی سے بہتر ہے اور کیوں نہ ہو کہ دونوں کے مابین تقریباً ڈیڑھ سال کا فرق ہے۔ سب سے نمایاں خوبی تو اسکا سائز ہے، پھر یہ کافی تیز رفتار ہے جبکہ ای اکسٹھ پر ریم محدود اور پراسیسر سُست رفتار ہے۔ وزن میں بھی ای اکہتر کم ہے اور اسمیں جی پی ایس بھی ہے۔ یاداشت کو آٹھ گیگا تک بڑھایا جا سکتا ہے جبکہ ای اکسٹھ آئی میں یہ صرف دو گیگا ہے۔ جن باتوں میں یہ پیچھے ہے وہ ہے سکرین اور کی بورڈ کا سائز۔ اگر آپکے انگوٹھے موٹے ہیں تو شائد آپ ایک کی جگہ دو دو بٹن دباتے جائیں۔ سکرین کے سائز کا فرق اتنا پتہ نہیں چلتا کہ شائد اسکی ریزولوشن بہتر ہے یعنی کم جگہ پر زیادہ نقطوں سے تصویر بنتی ہے سو چھوٹی تصویر بھی واضح نظر آتی ہے۔ جہاں تک سائز کی بات ہے تو ای اکسٹھ اتنا بھی گیا گزرا نہیں کہ بلیک بیری اور پام کے اکثر سیٹ تقریباً اسی سائز میں آپکو کم سہولیات دیتے ہیں۔ قیمت کا فرق تو ظاہر ہی ہے۔ مرضی آپکی اپنی ہے بھیا۔ میری نظریں تو مستقبل میں شائد انڈرائڈ کے حامل فون پر ہونگی۔