Faisaliat- فیصلیات

اردو بلاگ انگریزی بلاگ

Posted in Life, urdu by Shah Faisal on جنوری 30, 2009

صاحبو یہ تو گویا یوں ہی ہوا کہ سیبوں کا تقابل کر لیا جائے  نارنگیوں سے۔ گھبرائیے نہیں اگر آپکو اس مثال کی سمجھ نہیں  آئی  تو اسمیں قصور آپکا نہیں کہ جب ایک زبان  کے قالب پر دوسری زبان کا جسم  منڈھ دیا  جائے تو بس اتنا ہی حسن باقی بچتا ہے۔

خیر  بات ہو رہی ہے اردو بہ مقابلہ انگریزی بلاگز کی۔ چچ چچ حضور کوئی مقابلے کی چیز ہو تو مقابلہ کیجئے، کہاں اردو کہاں انگریزی۔ نہیں ایسا نہیں کہ ایک اعلیٰ و ارفع ہے تو دوسری کم ظرف۔ میرے نزدیک تو ایک زبان ایک طرزِ معاشرت کا نام ہے ایک رویئے ایک سوچ کا نام ہے نہ کہ الفاظ کے ایک مجموعے کا۔ اب  آپ خود ہی بتائیے کہ آج تک کسی انگریزی شاعر کو پان کھا کر کسی مشاعرے  میں داد و تحسین کے ڈونگرے وصول کرتے دیکھا ہے؟ یقیناً نہیں کہ ایسا کچھ رواج کسی بھی انگریز بلکہ پورے مغربی معاشرے میں موجود ہی نہیں۔  اب یہی غلطی تو ہمارے ہاں لوگ کرتے ہیں کہ انگریزی اخبارات کا مقابلہ اردو اخبارات سے کرتے ہیں، انگریزی کالم نگاروں کے وزن پر اردو کالم نگاروں کو تولتے ہیں اور انگریزی بلاگز کی کسوٹی پر اردو بلاگز کو جانچتے ہیں۔ نہیں صاحب یہ ممکن ہی نہیں۔  یہ دو مختلف قبائل دو مختلف طبقے دو مختلف قسم کے لوگ ہیں۔ اب آپکو بُرا لگے تو معذرت پر میرے نزدیک تو یہی حقیقت ہے۔

دراصل صاحب نو آبادیاتی نظام نے ہمارے جسموں کو نہیں ہماری روحوں کو غلام بنایا ہے، ہماری سوچ کو بیڑیاں پہنائی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج اسلامیہ کالج کی جگہ ایچی سن کالج راج کرتا ہے، قومی کی جگہ دفتری زبان مستند ہے اور شلوار کرتے کی جگہ کوٹ پتلون ہے۔اس پر طرہ یہ کہ جب سوچتے ہم اردو اور بولتے انگریزی ہیں تو گویا کوا چلا ہنس کی چال۔ یقین نہ آئے تو کبھی آزما کر دیکھ لیجئے۔ میں تو کم از کم اردو سوچ کے ساتھ انگریزی بول یا لکھ نہیں سکتا، آپ البتہ مجھ سے زیادہ ذہین ہیں سو شائد یہ مسئلہ آپکو درپیش نہ ہو۔ ایسے میں انگریزی کا فقدان صرف ایک زبان سے لاعلمی نہیں رہتا بلکہ بڑھ کر آپکی ایسی خامی بن جاتا ہے جسکے بعد آپ معاشرے میں کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں رہتے۔ نہ اچھی ملازمت ملتی ہے نہ اچھا رشتہ۔ اور تو چھوڑئیے مقامی آفیسر کلب کہ جسکی بدمزہ چائے اور نم دار بسکٹ سے کسی کالج کے گیٹ تلے بنے کھوکے کی چائے بھی بہتر ہوتی ہے، کے دروازے بھی آپکے لئے بند ہو جاتے ہیں۔ گویا زبان نہ ہوئی ایک ہتھیار ہو گیا جسکے ذریعے گورا صاحب اب اپنے بھورے بابو کے ذریعے آپکو دائمی غلامی کا تحفہ دے گیا۔

صاحب ہم شرمندہ قوم ہیں۔ ہم اپنی زبان، اپنی سوچ، اپنے طرز معاشرت، اپنے مذہب، اپنے وجود ہر شرمندہ ہیں۔ مجھے اپنی ڈاڑھی پر شرم آتی ہے تو میری بیوی کو اپنے حجاب پر۔ مجھے اپنے باپ پر شرم آتی ہے تو میری اولاد کو مجھ پر۔ ہم  بیحد شرمندہ قوم ہیں صاحب۔

ایک طعنہ اور سنیے۔ ہم  جاہل و گنوار تو ہیں ہی، کنویں کے مینڈک بھی ہیں۔ ہمیں کچھ نہیں پتہ کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے بس ہم فقط اپنے حصار میں قید ہیں۔ ہاں حضور درست ارشاد فرمایا۔ ہم اس قید سے نکلیں بھی تو کیسے کہ ہمارے لئے مقدم اپنی نسل کو بچانا ہے بجائے کسی چوپائے، پرندے یا کیڑے کی نسل کو۔ ہم اس قید سے نکلیں بھی تو کیسے کہ ہمارے لیے مقدم اپنے آس پاس کا ماحول، اپنی زندگی اور اپنے وطن کے مسائل  ہیں نہ کہ امریکی، کسی یورپی قوم  یا کسی ایسی قوم کے مسائل کےجسکو شائد یہ بھی نہیں پتہ کہ پاکستان نام کا ملک افریقہ میں ہے یا ایشیا میں۔ ہمارے لیے لائقِ توجہ ٹھہری زرداری اور نواز شریف  کی سیاست  بجائے اوبامہ یا گورڈن براؤن کے بیانات کے۔ ہمارے لئے اہم مسئلہ  اس زمین پر پانی، بجلی، گیس کا ہے بجائے مریخ یا چاند پر پانی یا ہوا کے۔ بس حضور بس۔ ہم اسی دنیا میں ٹھیک ہیں۔ یہی دنیا جو کمپیوٹر کی پندرہ انچی سکرین سے باہر کی دنیا ہے۔  یہ دنیا جو سی این این یا بی بی سی کے تبصروں سے باہر کی کٹتے سروں، بہتے لہو اور جلتے گھروں کی دنیا ہے۔ ہم تو اسی دنیا کے باسی ہیں اور اسی دنیا پر ہی لکھ سکتے ہیں۔

ایک قصہ اور بھی۔ کہتے ہیں کہ دنیا کو بلاگستانِ اردو کا علم ہیں نہیں، یہاں تک کہ وطنِ عزیز کے لوگ بھی نہیں جانتے۔ وجہ شائد گوگل میں اردو نتائج کی کمی بتاتے ہیں۔دیکھو صاحبو پیاسا کنویں کے پاس آتا ہے کنواں پیاسے کے پاس نہیں۔ جن لوگوں کو اردو کی چاہ ہے وہ ڈھونڈ ڈھانڈ کر آپ تک پہنچ ہی جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اردو ویب سائٹس پر زیادہ آمد بیرونِ ملک رہائش پذیر ہموطنوں کی ہوتی ہے۔ اب جو صاحب دن میں چند لمحے کمپیوٹر کی سکرین کے آگے بیٹھیں اور اس مختصر وقت میں بجلی جانے کا بھی ڈر ہو اور دیگر کئی اہم کام بھی سر انجام دینا ہوں تو وہ آپکا بلاگ کیوں پڑھیں کہ اخبارات اور ٹی وی چینلوں تک رسائی زیادہ آسان ہے۔ ہاں اگر آپ اچھے معیار کی کوئی متعلقہ بات لکھیں گے تو لوگ ضرور پڑھیں گے بلکہ اوروں کو بھی پڑھائیں گے۔ رہی بات گوگل کی تو یہاں مقدار کی بات آتی ہے، ذرا اردو میں کوئی چیز کھوجئے، آپکو بے تحاشہ صفحات فارسی کے ملیں گے کہ وہ لوگ اپنی زبان استعمال کرتے ہیں۔ شائد وجہ یہ ہے کہ ایران آج تک کسی ملک کی نوآبادیاتی کالونی نہیں رہا اور آج بھی اپنے طرزِ معاشرت و حکومت کو لیے، مغرب کے سامنے سینہ سَپر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انکے ہاں سے آنے والے پوسٹ ڈاکٹوریٹ حضرات بھی انگریزی سے بس کام ہی چلاتے ہیں  کہ وہاں کی جامعات میں اعلٰی تعلیم بھی فارسی ہی میں دی جاتی ہے۔ تو بھیا آپ بھی اردو لکھیں اور لکھائیں، گوگل خود بخود اردو نتائج دینا شروع کر دیگا۔

صاحب دنیا بھلے ایک عالمگیر گاؤں یا گلوبل ویلج بن گئی ہو، لوگ گلوبل نہیں ہوئے۔ یہ بات ضرور ہے کہ سرمایادارانہ نظام نے دنیا کے ہر حصے میں میک برگر یا کے ایف سی  کا مرغِ مسلّم تو پہنچا دیا ہے لیکن اب بھی لوگ بندو کے کباب، پھجے کے پائے یا کراچی بریانی کھانا تو نہیں بھولے نا؟  پھر یہ اردو انگریزی کی  بحث کو ہم تو نہیں سمجھے۔ صاحب یہ دنیا اور، وہ دنیا اور۔ یہ عوام کا چلن وہ خواص کا شیوہ، یہ گلی کوچے اور تھڑے کی دنیا وہ ڈرائنگ روم کی یخ بستہ فضا، یہ پرولتاریوں کی زبان وہ اشرافیہ کا شغل۔ نہ صاحب نہ ہم لنڈورے ہی بھلے۔ جن صاحب کو اپنی انگریزی کی مشق کا زیادہ شوق ہو وہ کسی پاکستانی یا ہندوستانی ٹی وی چینل پر ملازمت کر لیں کہ وہاں ایسے مواقع بسیار ملیں گے۔” یُو نو یہ آپکے کیرئیر کیلئے بھی بہت پروڈکٹیو ہو گا ۔۔۔” یہ اور بات کہ شائد آپ career کے ہجے carrier کر کے اپنی انگریزی دانی پر خوش ہو جاتے ہوں!!!

Advertisements

22 Responses

Subscribe to comments with RSS.

  1. DuFFeR said, on جنوری 30, 2009 at 5:39 شام

    انگریزی بلاگز کے مخالفین ہمیشہ لعن طعن کے ساتھ ہی وارد ہویے ہیں کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ انگریزی بلاگز کی مخالفت میں کویی منطق پر مبنی دلیل کی مدد لی جایے؟
    "تو بھیا آپ بھی اردو لکھیں اور لکھائیں” لکھ تو ہم لیں لکھایں کیسے اسکا طریقیہ کار بھی بتا دیں تو سہولت رہے

  2. Abdul Qudoos said, on جنوری 31, 2009 at 11:37 شام

    ڈفر بھائی یہاں پر بات انگریزی لکھنے والوں کی نہیں بلکہ اردو کے ساتھ انگریزی کا بھی بیڑا غرق کرنے والوں کی ہے
    😛

  3. Shah Faisal said, on فروری 1, 2009 at 2:59 شام

    آہ ڈفر بھیا، آپ جن دلائل کی بات کر رہے ہیں، وہ تو اوپر دے دئے ہیں۔ لکھنے اور لکھانے کا طریقہ کار بھی یہی کہ لوگوں کو اس طرف راغب کریں اور تکنیکی امور میں مدد کریں۔ سیدھی سی بات ہے۔

  4. Iftikhar Ajmal Bhopal said, on فروری 1, 2009 at 3:45 شام

    آپ نے باتیں بڑی مزیدار اور اہم لکھی ہیں ۔ میرے خیال میں ہماری قوم کا مسئلہ اور نہ عدیم الفرصتی یعنی وقت کی کمی ۔ اصل مسئلہ صرف ایک ہے کہ یورپ اور امریکہ نے ترقی اسلئے کی کہ وہ انگریزی بولتے ہیں اور اس کے ساتھ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جرمنوں فرانسیسیوں ۔ جاپانیوں اور چینیوں نے کیوں ترقی کی۔ وہ تو انگریزی میں تعلیم حاصل نہیں کرتے

  5. محترم فیصل صاحب!

    زبان یار من ترکی ومن ترکی نمی دانم۔

    اردو بلاگنگ میں آپ کی طرف سے اب تک کی گئی چاند ماری میں سے غالباً یہ تحریرسب سے عمدہ تحریر ہے۔ آپ کی یہ تحریر طرزِ بیان، اسلوب اور اپنے اندر سموئے موضوع اور اس پہ کی گئی سیر حاصل بحث کی وجہ سے نہائیت عمدہ اور منفرد ہے۔ اس کے لیے مبارکباد قبول فرمائیں۔

    میں ذاتی طور پہ آپ کے مندرجہ ذیل الفاظ سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مقامی آفیسر کلب کہ جسکی بدمزہ چائے اور نم دار بسکٹ سے کسی کالج کے گیٹ تلے بنے کھوکے کی چائے بھی بہتر ہوتی ہے، کے دروازے بھی آپکے لئے بند ہو جاتے ہیں۔ گویا زبان نہ ہوئی ایک ہتھیار ہو گیا جسکے ذریعے گورا صاحب اب اپنے بھورے بابو کے ذریعے آپکو دائمی غلامی کا تحفہ دے گیا۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    اسمیں کوئی شک نہیں زبان اور عام فہم آسان زبان اور اس میں دی گئی تعلیم ہی کسی معاشرے کی ترقی کا ایک بنیادی ستون ہے۔ اور ہماری انتظامیہ کی اپر کلاس جس میں ایک عام تحصیل دار اور سول جج وغیرہ سے لیکر اوپر تک جب بھی آپس میں کوئی معاملہ کریں گے تو دیدہ دانستہ انگریزی زبان میں کریں گے وہ معاملہ خواہ عام کسانوں کے عام سے مسائل سے متعلق عام کچہری میں کسانوں کے ہجوم میں کسانوں سے متعلق کیوں نہ ہو یا کسی گلی محلے کے لوگوں کے مسائل سے متعلق ہو۔ ہر دو افسران کو بخوبی علم ہوتا ہے کہ انگریزی ماسوائے ان کے باقی لوگ نابلد ہیں مگر یہ اہتمام پیشہ ورانہ بنیاد پہ باقی لوگوں کو یہ احساس کروانے کے لیے کیا جاتا ہے کہ اصل افسران وہ ہیں جو انگریزی بول رہے ہیں یہ ہی ریاست کے گماشتے ہیں، حکمران ہیں ، حاکم ہیں، فیصلہ کرنے اور جائز ناجائز کو نافذ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں جبکہ باقی لوگ عام رعایا ہیں اور ان کے پیدا ہونے کا مقصد محض بے چون و چرا آنکھیں بند کر کے احکام اور افسران کی باتوں پہ عمل کرنا ہے۔ یعنی باالفاظ۔ دیگر پاکستان میں انگریزی بولنے سمجھنے لکھنے پڑھنے والی دو یا تین فیصد اپر کلاس ہے جو باقی اسی پچاسی فیصد غیر انگریزی عام عوام سے بالا ہے اور یہ شدید احساسِ کمتری اس طرح عام کیا گیا ہے کہ عام آدمی انگریزی میں دئیے گئے فیصلوں پہ سوائے شرمساری کے کوئی دوسرا اظہار بھی نہیں کر سکتا اور اسکی محتاجی کا ایک نیا دور پھر سے شروع ہوجاتا ہے کہ وہ انگریزی سمجھنے والوں کو ڈھونڈھتا پھرے کہ اسکے کام اسکی حاجت کی بابت جناب افسر صاحب نے کیا فرمایا ہے۔

    یہ منافقت یہی پہ ختم نہیں بلکہ آپ انگریزی کے بغیر مقابلے کے کسی بھی امتحان میں نہیں بیٹھ سکتے۔ انگریزی جانے بغیر پاکستان میں آپ کا علم صفر گنا جائے گا خواہ آپ نے دنیا کی کتنی ہی اعلٰی اور اچھی جامعات سے کسی دوسری زبان میں ڈاکٹریٹ کر رکھی ہوں ۔ بی اے ، بی ایس سی کے فارموں سے لیکر سرکاری سیکٹریوں تک انگریزی کے بغیر آپ کی رسائی ناممکن ہے جبکہ پاکستان کی نوے فیصد آبادی انگریزی بول نہیں سکتی۔

    یہ تو زبان کی صورت میں پاکستان کے ٹیلنٹ کا استحصال ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ یار لوگوں نے اس استحصال کو جاری و ساری رکھنے کے لیے قسم قسم کے ادرارے بنا رکھے ہیں جس کی ایک ادنٰی سی مثال پی ایم ڈی سی یعنی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹنل کونسل ہے جو اسلام آباد میں واقع ہے اور پورے پاکستان میں صرف یہ ادراہ پاکستانی و غیر پاکستانی ادروں سے بننے والے ڈینٹیسٹ اور ڈاکٹروں کو پاکستان میں پریکٹس کرنے کو ریگولر کرتی ہے ۔ اجازت دیتی ہے۔انگلینڈ اور غالباً آئر لینڈ چھوڑ کر آپ دنیا کی کسی بھی یونیورسٹی یا انسٹیوٹ سے ایم بی بی ایس کر لیں یہ حضرات آپ کو پریکٹس کی اجازت نہیں دیں گے خواہ آپ نے امریکہ ،جاپان یا چین سے ڈاکٹر فزیشن وغیرہ کی ڈگری لی ہو ۔ ایک تو یہ قسم قسم کے امتحان لیں گے جس میں تھیوری ، پریکٹیکل اور وائِوا وغیرہ شامل ہیں اور یہاں یہ وضاحت ضروری نہیں کہ آپ نے ڈگری جاپان سے لی ہے روس سے مگر آپ کے تمام ایگزام انگریزی میں ہونگے اور کتنے بے چارے نئے ڈاکٹر کئی کئی سال انگریزی میں مغز ماری کرنے کے بعد ڈاکٹر کی ملازمت یا پریکٹس کی مطلوبہ اجازت حاصل کر پاتے ہیں ۔ جبکہ اس ادارے کی ایک ذمہ داری یہ ہونی چاہیے تھی کہ وہ دوسرے ممالک سے پاکستان میں بنے ڈاکٹرز کی ڈگری منوائے اور پاکستان میں ان ممالک کے اداروں سے بنے ڈاکٹرز کی ڈگری کو بغیر کسی امتحان کے پاکستان میں قابلِ قبول بنوائے۔ جبکہ یہ کونسل جو کہ پاکستان میں ڈاکٹری ملازمت اور پریکٹس کو ریگولر کرنے کا اختیار رکھتی ہے بیرون ممالک سے اپنے وسائل سے بنے قابل ترین ڈاکٹروں کو امتحانوں کے چکر میں ڈال کر اس دوران عوام کو عطائیوں کے رحم و کرم پہ چھوڑ رکھتی ہے۔جبکہ دے دلا کر بہت سے نئے ڈاکٹرز مطلوبہ پی ایم ڈی سی نمبر حاصل کر لیتے ہیں۔

    مگر صاحب یہ کونسل اور اس طرح کے دوسرے درجنوں ادارے تو ہم نے اپنی بے بس قوم کو غلامی کے شکنجے میں جکڑ کر رکھنے کے لیے بنا چھوڑے ہیں۔ امید ہے آپ اسلام آباد میں قائم ایسے استحصالی اداروں کی آمرانہ روش پہ بھی کبھی لکھیں گے۔

    خیر اندیش
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

  6. آن لائن اخباری رپوٹر said, on فروری 10, 2009 at 5:15 شام

    meray khayal may blog chahay urdu ho ya english, jis banday ka hota hay us kay liye woh bohat ehmiyat ka hamil hota hay aur ager urdu aur english blogging ka mowazana kiya jaye tuo urdu blogging abhi english blogging say thora peechay hain taadaad main. lekin lagta esay hay jesay jald hi yeh farak bohat kum reh jaye ga.

  7. Shah Faisal said, on فروری 10, 2009 at 5:26 شام

    محترم جاوید صاحب
    تشریف آوری اور پسندیدگی کا شکریہ۔
    ویسے یہ مجھے آپکے بتانے پر احساس ہوا کہ باقی سب تحاریر چاند ماری یا تک بندی تھیں۔ واقعی ایسا ہی ہے لیکن اس سے آگے پر جلتے ہیں۔

  8. حضور برا مت منائیے۔ چاند ماری کی بات محض آپ کو چھیڑنے کی خاطر لکھی تھی۔ تاکہ اسقدر سنجیدہ موضوع پہ بوریت کا احساس پیدا نہ ہو۔

  9. asiftahir said, on فروری 14, 2009 at 5:41 شام

    You please tell me how can we write blog in urdu. I just made my blog as asiftahir.wordpress.com and not posted any blog yet. I want write everything in urdu.
    Do not know how to post in urdu.
    please tell me detail in my email asiftahir@gmail.com

  10. tania rehman said, on فروری 21, 2009 at 1:06 صبح

    فیصل اتنا خوبصورت بلاگ بنایا لیکن اردو کہاں لکھنی ہے ۔ یہ تو صحیح کرو

    • Shah Faisal said, on فروری 22, 2009 at 1:24 صبح

      تانیہ صاحبہ
      پسندیدگی کا شکریہ لیکن بدقسمتی سے میرے بلاگ پر تبصرہ کرنے کیلئے یا تو آپکو یونی کوڈ اردو لکھنا پڑے گی یعنی اپنے کمپیوٹر کے اردو کی بورڈ کی مدد سے اور یا پھر انگریزی یا رومن اردو کا سہارا لینا پڑے گا۔

  11. tania rehman said, on فروری 22, 2009 at 2:47 صبح

    فیصل مجھے اتنے کام کرنے پڑیں گے تو آپ اپنا بورڈ ہی اردو میں کر لو ۔ خیر میں تو یہ کہنے آئی تھی مجھے انگریز اور انگریزی سے ڈر لگتا ہے

    • Shah Faisal said, on فروری 22, 2009 at 2:59 صبح

      آپ اپنا بورڈ ہی اردو میں کر لو

      کاش ایسا ہو سکتا، مفت کے ورڈ پریس میں ایسا ممکن نہیں، معذرت قبول کیجئے۔
      😦

  12. عماد said, on فروری 22, 2009 at 4:02 شام

    جناب فیصل صاحب یہ بات تو سب پر عیاں ہے کہ جو خلوص و محبّت اردو بلاگرز آپس میں رکھتے ہیں وہ دوسری جگہ ناپید ہے

  13. Rehan Mirza said, on فروری 22, 2009 at 9:56 شام

    its of the Topic but

  14. عمر احمد بنگش said, on فروری 24, 2009 at 7:11 شام

    فیصل بھائی،
    چند باتیں میں عرض کروں گا،۔
    پہلی بات تو یہ کہ واقعی یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم میں سے بیشتر لوگ انگریزی سے اتنے اثر انداز ہو چکے ہیں کہ کوئی چارہ نہیں اس کے سوا۔
    جہاں تک سوال ہے اردو اور انگریزی بلاگنگ کا تو عرض کروں کہ میں مانتا ہوں کہ اردو کو ابھی تک وہ مقام نہیں ملا، جس کی وہ حقدار ہے، سچ کہوں تو یہ ہم لوگ ہی ہیں جس کی وجہ سے نہیں ملا، مگر کیا کریں کہ میرا جو دوسرا بلاگ ہے، وہ خالصتاً میرے پیشے سے متعلق ہے، سو وہ اردو میں ممکن نہیں کیوں کہ تعلیم ہمیں انگریزی میں دی گئی۔
    اب جبکہ ہم میں سے تقریباً لوگ انگریزی میں تعلیم حاصل کر لیتے ہیں تو، آپ ہی بتائیں اردو کے لیے کس کے پاس وقت بچتا ہے۔
    اکثر مجھے لوگوں کی باتوں سے لگتا ہے کہ جی ہم اگر اردو بلاگنگ کرتے ہیں تو گویا اردو پر احسان کر رہے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے، یہ اردو کا ہی احسان ہے کہ ہم ایک دوسرے سے آشنا ہیں آج، ورنہ یقین کریں، دو ایک کے علاوہ آج تک میں نے انگریزی بلاگ نہیں پڑھے اور دیکھے، ورنہ بھرا پڑا ہے یہ جہاں انگریزی سے۔
    ۔۔۔۔۔
    سر جی، اگر آپ اپنا ای میل ایڈریس مجھے ارسال کر دیں تو مہربانی ہو گی۔

  15. فروری2009 کے بلاگ said, on مارچ 9, 2009 at 10:10 صبح

    […] انگریزی بلاگنگ سے متعلقہ ایک  دلچسپ تنقیدی تحریر” اردو بلاگ انگریزی بلاگ” لکھی۔جس میں  آپ کہتے ہیں […]

  16. میری دنیا said, on مارچ 19, 2009 at 5:00 صبح

    بربادی کیطرف گامزن امریکا…

    سات سال پہلے جب صدر بش نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو اس نے لبھی ہ سوچا بھی نہ ہوگا کہ وہ اپنے ہی ہاتھوں اپنی بربادی کی تاریخ لکھنے جا رہے ہی….

  17. غفران said, on مارچ 20, 2009 at 6:05 شام

    سلسلہ چل نکلا ہے اردو بلاگوں کا تو انشاءاللہ آگے تو بڑھے گا۔ میں تو کافی پرامید ہوں اس سلسلے میں ۔

    آپ کا بلاگ عمدہ ہے۔ لگے رہیں ۔ ‘

  18. […] کیا ہے؟ از میرا پاکستان بلاگنگ کیا ہے؟ از راشد کامران اردو بلاگ انگریزی بلاگ از شاہ […]

  19. شعیب سعید شوبی said, on اگست 24, 2009 at 10:05 شام

    بہت عمدہ مضمون ہے۔ تاخیر سے رائے دینے پر معذرت!

  20. […] ایک طرزِ زندگی، ایک طبقہ اور اس طبقے کا ایک ہتھیار ہے۔ دل کے کچھ پھپھولے یہاں پھوڑے تھے، یہ بھی دیکھ لیں۔ اس سے عام عوام کو بےخبر اور اختیار سے […]


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: