Faisaliat- فیصلیات

رند کے رند رہے۔۔۔

Posted in Computing, Photography, Photos, urdu by Shah Faisal on ستمبر 13, 2009

صاحبو خبر ہی کچھ ایسی ہے کہ فدوی ایک بار پھر اپنی hibernation سے باہر آنے پر مجبور ہو گیا ہے ورنہ لوگوں نے تو اپنی سی کر کے دیکھ لی بلکہ کچھ "براہِ راست” قسم کے نامے تو میرے نام یہاں اور یہاں بھی آئے (اور شائد کہیں اور بھی آئے ہوں لیکن دیکھ نہ پایا) کہ جنکا میں بہرحال تہہ دل سے مشکور ہوں کہ "آئے تو سہی،  بر سرِ الزام ہی آئے”۔۔۔

حضور اتنا تو آپ بھی جانتے ہیں کہ لینکس اپنا ذوق ہے اور فوٹوگرافی اپنا شوق۔ اب اگر یہ دونوں یکجا ہو جائیں تو کیا صورت بنے گی؟ تصور ہی بہت حسین ہے۔ خیر خبر کچھ یوں ہے کہ کچھ منچلوں (اور یہ ایسے ویسے لوگ نہیں سٹینفورڈ یونیورسٹی کے محقق ہیں) نے ایک اوپن سورس ڈیجیٹل کیمرا بنانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ چونکہ مارکیٹ میں موجود کیمرے اس سے بہت زیادہ کرنے کے اہل ہیں جو وہ اسوقت کر رہے ہیں، اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی ایسا کیمرا بنایا جائے جو پروگرام کیا جا سکے۔ یعنی فوٹوگرافر حضرات اپنی مرضی سے کیمرے میں تبدیلیاں کر سکیں۔ شٹر سپیڈ، اپرچر، آئی ایس او سپیڈ، وغیرہ وغیرہ ایسی کئی چیزیں ہیں جن پر فوٹوگرافر مکمل کنٹرول چاہتے ہیں اور اس کیمرے میں وہ ایسا بہت کچھ کر پائیں گے۔

تفصیلات میں جائیں تو کئی دلچسپ باتیں ملتی ہیں۔ مثلاً اس کیمرے کی چیدہ چیدہ خصوصیات میں سے سب سے نمایاں اسکا لینکس پر چلنا ہے۔ عدسے کینن کے جَڑے گئے ہیں جبکہ سینسر نوکیا این 95 فون کا ہے۔ باقی بھی کچھ "کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا” والا معاملہ ہے۔ نام اس کا فرینکن کیمرا ہے جو اسکی بدصورتی کو مد نظر رکھ کر رکھا گیا ہے لیکن اہل نظر کے قریب تو شائد یہ دنیا کا خوبصورت ترین کیمرا ہو گا۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہوتا ہے (جسکی ناکامی کی بہرحال کوئی وجہ بھی نہیں)، تو یقینا یہ فوٹوگرافی کی دنیا میں ایک انقلاب ہو گا اور کینن اور نائکون وغیرہ کیساتھ شائد کچھ ایسا ہی ہو گا جیسا اب مائکروسوفٹ کی ساتھ ہو رہا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ یہ کیمرا استعمال کون کریگا؟ تو صاحب فی الحال تو یہ کیمرا کمپیوٹیشنل فوٹوگرافی کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر بنایا جا رہا ہے لیکن وہ دن بھی دور نہیں جب شوقیہ اور پیشہ ور فوٹوگرافر حضرات (اور یقیناً خواتین بھی) اسے اپنے ہاتھ میں لینا پسند کریں گے۔اور ایسا کیوں نہ ہو کہ ڈیجیٹل فوٹو گرافی کی دنیا میں تیز تر تبدیلیاں آنے کے ساتھ ساتھ ہر فوٹوگرافر بہرحال کسی حد تک کمپیوٹیشنل فوٹوگرافر ہی ہے۔

ایک دلچسپ بات یہ کہ اس کیمرے کی ایک اہم صلاحیت ایچ ڈی آر بنانا بتائی گئی ہے (یہ مخفف ہے ہائی ڈائنامک رینج کا اور سادہ الفاظ میں ایک ایسی تصویر جو کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ روشنی میں موجود تفصیلات کو بیک وقت محفوظ کر سکے)۔ یہ کام تاوقت کمپیوٹر سوفٹوئر کی مدد سے ہی ممکن ہے لیکن کیا ان صاحبان کو یہ علم نہیں کہ پینٹکس کے کچھ ماڈل ( اور شائدکچھ اور کیمرے بھی) یہ کام پہلے ہی کرنے کے قابل ہیں؟ دوسری حیرت انگیز بات اسمیں نوکیا فون کے ننھے منے سینسر کا استعمال ہے جبکہ پیشہ ور فوٹوگرافر تو فل فریم کیمرا سے کم پر راضی ہی نہیں ہوتے۔ شائد مستقبل میں اسمیں بڑے سائز کا سینسر استعمال کرنے کا ارادہ ہو۔ بہرحال اسکے علاوہ بھی کئی کام ایسے ہیں جو یہ کیمرہ سر انجام دے سکے گا اور یہی اسکا مقصد بھی ہے کہ فوٹو گرافر حضرات اپنا زیادہ وقت کمپیوٹر کی سکرین کی بجائے کیمرے کے عدسے کے پیچھے گزاریں۔ اسکا مطلب شائد یہ بھی ہے کہ اسوقت کے مقبول ترین فوٹو ایڈیٹنگ سوفٹوئر یعنی ایڈوبی فوٹو شاپ کی دکان بھی بند ہونے والی ہے (گرچہ یار لوگ تو ابھی بھی گمپ اور گمپ شاپ سے کام چلا ہی لیتے ہیں اور لینکس میں تو یہ آزادی پرانی بات ہے)۔ یہ بہت سوں کیلئے اچھی خبر یوں بھی ہے کہ پاکستان میں تو سوفٹوئر کی چوری کوئی اتنا بڑا جرم نہیں سمجھا جاتا لیکن اُنکے دل سے پوچھیں جو فوٹو شاپ خرید کر استعمال کرتے ہیں۔ گرچہ یہ کیمرا مارکیٹ میں آتے آتے یقیناً کچھ وقت لگے گا لیکن بہر حال خبر تو اچھی ہے نا؟

ارے ہاں، اگر آپ نے یہ تحریر یہاں تک پڑھ لی ہے تو گمان غالب ہے کہ آپ ایک انتہائی فارغ (یعنی "ویلے”) انسان ہیں۔ تو لگے ہاتھوں میرا تصویری بلاگ بھی دیکھتے جائیے اور فلکر اکاونٹ بھی۔ آپکی آراء کا انتظار رہیگا۔

Advertisements

14 Responses

Subscribe to comments with RSS.

  1. bdtmz said, on ستمبر 13, 2009 at 6:49 شام

    مائیکروسافٹ ونڈوز کلائنٹ کمپیوٹرز کی مارکیٹ کا ۹۳ فیصد ابھی تک ہولڈ کرتی ہے۔ آپ کس وجہ سے سمجھتے ہیں کہ مائکروسافٹ پر برا وقت آ چکا ہے؟

  2. […] can read my blog post (in Urdu) about the Frankencamera here. For those who cant read Urdu, you can find something interesting […]

  3. راشد کامران said, on ستمبر 14, 2009 at 6:47 صبح

    بظاہر تو اوپن سورس ہو تو اس کی سپورٹ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے لیکن ایک بات میری ناقص سمجھ سے کہیں اوپر کی ہے وہ یہ کہ کسی بھی کیمرے میں شٹر اسپیڈ، اپرچر اور آئی ایس او تو ہم پہلے ہی اپنی مرضی سے طے کرتے ہیں تو کیا نیا ہے؟ کیا اوپن آرکیٹیکچر ہے جس میں‌ کوئی بھی پرزہ کہیں سے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ مجھے یہ مغالطہ ہوا کہ کیمرے میں ہم زیادہ پیسے ہارڈ ویر کے ادا کرتے ہیں تو اس سے کیمرے کی قیمت پر کیا اثر پڑے گا؟ا

    • Shah Faisal said, on ستمبر 14, 2009 at 8:54 شام

      آہ۔۔۔۔ بڑا مفصل جواب لکھا تھا لیکن کہیں غائب ہو گیا ہے۔ بہرحال مختصرا دہرائے دیتا ہوں۔
      اوپن سورس کیمرے سے مراد سوفٹ وئر کی حد تک ہی اوپن سورس ہے، یہ میرا خیال ہی ہے بہر حال۔ اسکی مدد سے آپ ایسی سیٹنگز بھی تبدیل کر سکیں گے جو فی الحال نہیں کر سکتے مثلاً 182، 243 یا ایسی ہی کوئی شٹر سپیڈ وغیرہ۔
      جہاں تک ہارڈ وئر کی بات ہے، کچھ کمپنیاں مکمل اوپن سورس تو نہیں لیکن ملتا جلتا ہارڈ وئر بنا ہی رہی ہیں۔ مثلاً
      http://en.wikipedia.org/wiki/Four_Thirds_system
      ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں ایسا کچھ زیادہ بڑی سطح پر ہو۔
      بات قیمتوں کی ہے تو وہ بھی یقینا کم ہونگی کہ اوپن سورس کی مدد سے چھوٹی چھوٹی کمپنیاں اپنے پراڈکٹ مارکیٹ میں پیش کر سکیں گی اور یوں کینن، نائکون وغیرہ کی اجارہ داری ختم ہو گی۔
      آپکی یہ بات کہ ہم کیمرے میں پیسے ہارڈ وئر کے دیتے ہیں، شائد مکمل درست نہ ہو۔ کمپنی کا نام، شہرت اور ٹیکنالوجی کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ اوپن سورس ٹیکنالوجی کی وجہ سے کم از کم کچھ فرق تو پڑے گا۔ مثلاً یہی دیکھئے کہ ڈیسکٹاپ لینکس والے لیپ ٹاپ سستے ہوتے ہیں نسبتاً۔ میرا خیال ہے کہ ایک نئی مارکیٹ وجود میں ائے گی یا یہی مارکیٹ بہت زیادہ تبدیل ہو جائے گی۔ باقی مستقبل کا تو رب ہی جائے۔
      🙂

      • راشد کامران said, on ستمبر 15, 2009 at 2:31 صبح

        اوہ۔ یہ بات ہے۔۔ چلیں‌ یار کسی طرح ہارڈ ویر کے پیسے کم ہوں تو وش لسٹ کو شاپنگ لسٹ میں تبدیل کریں

  4. عمار عاصی said, on ستمبر 14, 2009 at 9:11 شام

    رند کے رند رہے
    مراسلے کا عنوان یہ رکھنے کی وجہ میری ناقص عقل میں نہیں آرہی۔ اس کی وضاحت فرما دیں۔

    • Shah Faisal said, on ستمبر 15, 2009 at 12:31 صبح

      رن کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
      اس مصرعے کا مطلب یہ ہے حضور کہ ایک چیز کے حاصل کرنے کیلئے دوسری چیز کی قربانی نہیں دینی پڑی۔ یعنی فوٹوگرافی اور اوپن سورس دونوں کے فائدے ایک ساتھ۔
      وہ کیا کہتے ہیں کہ۔۔۔
      best of both worlds

  5. خرم said, on ستمبر 16, 2009 at 1:11 صبح

    بھائی پہلے تو یہ بتائیے کہ آر ایس ایس کیوں نہیں ہے آپ کے بلاگ پر؟ اور باقی باتیں آپ کی تصاویر دیکھنے کے بعد انشاء اللہ کبھی 🙂

    • Shah Faisal said, on ستمبر 16, 2009 at 1:37 صبح

      یہ لیجئے حضور فی الحال تو یہ رہا ربط ۔۔۔۔
      https://shahfaisal.wordpress.com/feed/
      باقی دیکھتا ہوں کہ کیوں نہیں آ رہا۔ کسی زمانے میں تو دائیں ہاتھ پر نظر آتا تھا۔

      جی جناب اب آپ دائیں ہاتھ آخر میں دیکھ سکتے ہیں۔

  6. شگفتہ said, on ستمبر 21, 2009 at 9:35 شام

    السلام علیکم

    عید مبارک !

    • Shah Faisal said, on ستمبر 22, 2009 at 6:06 صبح

      وعلیکم السلام شگفتہ
      آپکو بھی بہت بہت عید مبارک۔
      امید ہے آپکا دن اچھا گزرا ہو گا۔

  7. مکی said, on ستمبر 28, 2009 at 5:36 صبح

    اچھی خبر ہے..

  8. […] ہے۔ بات صرف کمپیوٹر تک محدود نہیں بلکہ موبائل فون اور کیمروں تک کی ہے۔ اس سلسلے میں ایک ہلچل تو اسوقت مچی جب گوگل نے […]


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: