Faisaliat- فیصلیات

کچھ نیا آزمائیے۔۔۔ مثلاً اوپن آفس

Posted in Computing, urdu by Shah Faisal on فروری 12, 2010

صاحبو یقیناً آپ نے اوپن آفس کا نام سنا ہو گا۔ اگر نہیں سنا تو مجھے آپ سے ہمدردی ہے۔

اوپن آفس مائکروسوفٹ آفس کی طرز کا آفس سوئٹ ہے۔ یہ آفس سوئٹ بھلا کیا ہوا؟ کچھ خاص نہیں بلکہ ان چند اطلاقیوں یا اپلیکیشنز کا مجموعہ جو عموماً ایک دفتر میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً اگر آپ مائکروسوفٹ ونڈوز کے استعمال کنندہ ہیں تو غالب امکان ہے کہ کوئی خط، درخواست، رپورٹ، وغیرہ تحریر کرنے کیلئے آپ م س ورڈ استعمال کرتے ہیں، حساب کتاب کیلئے ایکسل، پریزینٹیشن بنانے کیلئے پاور پوائنٹ، ای میلز کیلئے م س آؤٹ لُک، آؤٹ لُک ایکسپریس یا ونڈوز لائیو میل وغیرہ۔ اگر یہ کمپیوٹر آپ کا ذاتی ہے اور بیشتر مرتبہ تو سرکاری بھی، تو اس بات کا بھی امکان غالب ہے کہ آپ چوری شدہ ونڈوز استعمال کرتے ہیں۔ اس چوری سے بچنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آپ لینکس استعمال کریں جس بارے میں میں کافی پہلے لکھ چکا ہوں۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ ونڈوز خرید بھی لیں تو وہ بہت سی اپلیکیشنز کے بغیر خاصی بیکار ہے، جن میں سے ایک آفس سوئٹ بھی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ آفس سوئٹ آپکو الگ سے خریدنا پڑے گا اوراسکی قیمت بلاشبہ ہزاروں میں ہے۔ اسکے علاوہ اس بات پر بھی غور کیجئے کہ آفس سوئٹ 2007 سے پہلے کا کوئی بھی م س آفس  آپکے کام کو فائل کی جس قسم میں محفوظ کرتا ہے وہ بھی مائکروسوفٹ کی ہی ملکیت ہے۔ اس کی آسان الفاظ میں مثال کچھ یوں ہو گی کہ ایک کمپنی ایک گاڑی بناتی ہے لیکن اس میں ایک خاص پٹرول ڈلتا ہے جو یہ کمپنی خود بناتی اور اپنی مرضی کی قیمت پر بیچتی ہے۔ اس غلامی سے بچنے کا کوئی طریقہ ہے بھلا؟ جی ہاں۔

سب سے پہلی بات تو یہ کہ لینکس استعمال کیجئے۔ آپ کی کمپیوٹنگ ضروریات کا 80 فیصد یا اس سے بھی زیادہ اسی سے پورا ہو جائیگا۔ دوسری بات یہ کہ اگر آپ اس چھلانگ کو مارنے پر فی الحال تیار نہیں تو حتی الامکان کوشش کیجیے کہ اپنے ونڈوز کمپیوٹر میں ممکن ہو تو آزاد مصدر یعنی اوپن سورس ورنہ پھر مفت سوفٹویرز کا استعمال کیجئے۔ آزاد مصدر بھی مفت ہی ہوتا ہے لیکن اسکا سورس کوڈ کوئی بھی شخص دیکھ سکتا ہے اور ایک مناسب حد تک تبدیل بھی کر سکتا ہے جبکہ مفت سوفٹوئر ضروری نہیں کہ آزاد مصدر ہو لیکن بہرحال مفت ہوتا ہے اور آپ بغیر چوری کئے اسے استعمال کر سکتے ہیں۔ بہت سی تجارتی کمپنیاں اپنے سوفٹوئر کی مفت لیکن محدود کارآمدگی (کیا یہ صحیح لفظ ہے؟) کی حامل اقسام  بناتی ہیں تا کہ اپنے پراڈکٹ کی تشہیر بھی کر سکیں اور لوگوں کو قیمتاً خریدنے پر آمادہ بھی۔ افسوسناک بات یہ کہ بہت سے مفت سوفٹوئر وائرس وغیرہ پھیلانے میں مصروف ہیں۔ اسلئے ہر مفت سوفٹوئر کی تنصیب سے گریز ہی کرنا چاہئے اور صرف مستند ذرائع یا ویبسائٹس سے انکاحصول کرنا چاہئے۔ آزاد مصدر سوفٹویر کی ایک فہرست یہاں دیکھِیے اور میرے خیال میں یہ ویبسائٹ بھی محفوظ ہے اور ونڈوز میں کام کرنے والے سوفٹویر کے حصول کیلئے میں اکثر اسے ہی استعمال کرتا ہوں۔

بات ہو رہی تھی آفس سوئٹ کی۔  چند برس پہلے کی بات ہے کہ مائکروسوفٹ کی بدمعاشیوں کو دیکھتے ہوئے سن (اب سن اوریکل) والوں نے اپنے سٹار آفس (جو م س آفس کی طرز کا ایک آفس سوئٹ ہے اور قیمتاً دستیاب ہے) کی ایک مفت قسم متعارف کرائی جسے اوپن آفس کہا گیا۔ یہ کوئی بھی شخص انٹرنیٹ سے مفت حاصل کر سکتا ہے اور کسی بھی طرح م س آفس سے کم نہیں۔ مزے کی بات یہ کہ یہ آپکے کام کو ایک ایسی فائل قسم میں محفوظ کرتا ہے جو کہ خود آزاد مصدر ہے اور کوئی شخص اسکی ملکیت کا دعویدار نہیں جبکہ ایک اچھی بات یہ ہے کہ اوپن ڈاکومنٹ فارمیٹ کو کسی بھی م س آفس والے کمپیوٹر میں ایک اطلاقیے کی مدد سے پڑھا یا لکھا جا سکتا ہے جبکہ خود اوپن آفس میں تو مائکروسوفٹ کے فائل فارمیٹس کی سپورٹ موجود ہے ہی۔

ہر وہ کام جو آپ م س آفس میں کرتے ہیں، اوپن آفس میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً م س آفس میں تحریری کام کیلئے آپ ورڈ استعمال کرتے ہیں جو فائل کو doc فارمیٹ میں محفوظ کریگا جبکہ اوپن آفس میں یہی کام آپ رائٹر کی مدد سے کریں گے جو کہ فائل کو odt فارمیٹ میں محفوظ کریگا۔ اسی طرح حساب کتاب کے کام کیلئے م س آفس میں ایکسل ہے جسکا اوپن آفس میں متبادل کیلک کی شکل میں موجود ہے۔

جہاں تک بات ایک پرسنل انفارمیشن مینیجر کی ہے، یہ کام م س آفس والے آؤٹ لُک سے لیتے ہیں۔ یہی کام لینکس میں آپ ایوولوشن سے لے سکتے ہیں جبکہ ونڈوز والے بڑی حد تک اپنی ضروریات تھنڈر برڈ جو کہ میرا پسندیدہ ای میل کلائنٹ ہے، اور لائٹننگ سے لے سکتے ہیں۔ اگر آپ ایسی ای میل استعمال کرتے ہیں جو مائکروسوفٹ ایکسچینج سرور استعمال کرتی ہے تو آپ اپنی قسمت یہاں آزما سکتے ہیں گرچہ مجھے اسکے استعمال میں فی الحال کامیابی نہیں ہوئی۔ جی میل، یاہو، ہاٹ میل وغیرہ کےلئے تھنڈر برڈ ہی کافی ہے۔ انٹرنیٹ ایکسپلورر کی جگہ آپ فائر فاکس یا گوگل کروم استعمال کر سکتے ہیں۔

بات ذرا دوسری جانب نکل گئی یعنی یہ کہ ونڈوز کے ہر سوفٹویر کے مقابلے میں مفت، بسا اوقات آزاد مصدر اور بہتر سوفٹویر موجود ہیں لیکن اس پر انشاء اللہ پھر کبھی بات ہو گی۔  یہ تحریر تو اوپن آفس سے متعلق ہی رہنے دیں۔اوپن آفس کی ایک اور مزیدار بات extensions کا استعمال ہے۔ extensions یا add-ons کیا ہوتے ہیں، یہ بات فائر فاکس استعمال کرنے والے تو خوب جانتے ہونگے لیکن مختصراً یہ کہ یہ چھوٹے چھوٹے اطلاقیے ہوتے ہیں جو کسی بھی سوفٹویر کو بہتر بنانے یا آپکی ضرورت کے مطابق ڈھالنے کیلئے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ اطلاقیے آپ کے اوپن آفس کے تجربے کو مزید خوشگوار اور پیداواری بنا سکتے ہیں۔

یہ ضروری نہیں کہ آپ اوپن آفس ہی استعمال کریں۔ اگر آپ ونڈوز استعمال کنندہ ہیں تو اپنے چینی بھائیوں کی فراخ دلی کا فائدہ اٹھائیں اور کنگ سوفٹ آفس استعمال کریں جو میرے اندازے کے مطابق بڑی حد تک م س آفس سے ہی مشابہ ہے۔ اسکے علاوہ بھی کئی آفس سوئٹ موجود ہیں جنکی ایک فہرست آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ میری ناقص رائے میں اوپن آفس ان سب میں سے بہتر ہے۔ آپ بھی استعمال کیجئے اور اپنے تجربے سے ضرور آگاہ کیجئے۔ آزاد دنیا میں خوش آمدید!

Advertisements

32 Responses

Subscribe to comments with RSS.

  1. ابن سعید said, on فروری 12, 2010 at 9:44 صبح

    بہت خوب فیصل بھائی۔ بہت ہی خوبصورت اور مفید تحریر ہے۔ آپ یقین کریں کہ ادھر ہم نے ماورائی فیڈر میں عنوان دیکھا پھر مضمون پڑھا اور بھاگے چلے آئے آپ کے بلاگ پر کہ ایسی تحریر پر رسید چھوڑنا ضروری ہو جاتا ہے۔

    • Shah Faisal said, on فروری 13, 2010 at 5:27 صبح

      عزت افزائی کا شکریہ ابن سعید۔ آپکی ذرہ نوازی ہے۔
      تشریف آوری کا بھی شکریہ جناب۔

  2. راشد کامران said, on فروری 12, 2010 at 10:46 صبح

    بہت ہی اعلی فیصل صاحب۔۔ عمدہ لکھا ہے اور کیا خوبی سے تمام معلومات اکھٹی کی ہیں۔۔

    کارآمدگی کا جواب نہیں لیکن درستگی کا فیصلہ اہل زمانہ پر چھوڑتے ہیں (:

    • Shah Faisal said, on فروری 13, 2010 at 5:28 صبح

      شکریہ جناب۔
      دیکھئے اہل زمانہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
      🙂

  3. خاور said, on فروری 12, 2010 at 5:45 شام

    هاں جی هم بھی اس کو استعمال کررہے هیں پچھلے کچھ ماھ سے

  4. Muhammad said, on فروری 12, 2010 at 6:17 شام

    Crisp , clear and to the point however biased against Microsoft .Microsoft loots you in the beginning while while in linux and buddies , gold mining starts when you start using some particular software . Moreover people needs to have a company whom they can sue their money paid. .

    • Shah Faisal said, on فروری 13, 2010 at 5:30 صبح

      Thanks for your visit Muhammad.
      Well no one asks you to buy anything as far as software is concerned. Why dont people use Gimp instead of spending $$ on Photoshop, e.g? Its just the bandwagon effect I guess.

  5. Naeem said, on فروری 12, 2010 at 7:24 شام

    لوگوں کو ونڈوز کے استعمال کی عادت ہے۔۔۔ لینکس سرور مشینز پر تو کامیاب ہے لیکن ڈیسک ٹاپ پر ونڈوز کا ہی راج ہے۔۔۔

    • Shah Faisal said, on فروری 13, 2010 at 5:32 صبح

      تشریف آوری کا شکریہ نعیم۔
      آپ کی بات کچھ عرصہ پہلے تک تو بالکل درست تھی، اب کچھ کچھ ٹھیک ہے۔
      لینکس نے ڈیسکٹاپ پر بھی بہت بہتری دکھائی ہے۔ آزمائش شرط ہے۔

  6. عمار عاصی said, on فروری 12, 2010 at 8:16 شام

    Trial Version کا ترجمہ آزمائشی نسخہ کیا جاتا ہے۔

    • Shah Faisal said, on فروری 13, 2010 at 5:37 صبح

      شکریہ عمار۔
      آپکا اشارہ غالباً اس طرف ہے جب میں نے تجارتی کمپنیوں کے مفت سوفٹوئر فراہم کرنے کی بات کی۔
      ہاں بہت سی کمپنیاں آزمائشی طور پر بھی اپنے پراڈکٹ مہیا کرتی ہیں لیکن بسا اوقات ایک ہی پراڈکٹ کی مکمل اور محدود اقسام بھی پیش کرتی ہیں اور میں یہی کہنا چاہتا تھا۔ بہرحال بہت بہت شکریہ اور تشریف آوری کیلئے بھی ممنون ہوں۔

  7. ابوشامل said, on فروری 12, 2010 at 8:54 شام

    ہم تو لینکس کے دیوانے ہیں، دفتر اور گھر کے کمپیوٹر پر ایک پارٹیشن پر اسی کا راج چلتا ہے۔ اوبنٹو لینکس کی کئی ایپلی کیشنز کے ہم مداح ہيں لیکن نجانے کیوں اوپن آفس سے ہماری شروع سے نہیں بنی 😦 شاید مائیکروسافٹ آفس 2007ء (اور وہ بھی چوری کا) استعمال کرنے کی لت پڑ گئی ہے۔ وہ زیادہ آسان اور اچھا لگتا ہے نسبتاً اوپن آفس کے۔ لیکن بہرحال آفس کا اس سے اچھا اور سستا (بلکہ مفت) متبادل ملنا ناممکن ہے۔

  8. فرحان دانش said, on فروری 13, 2010 at 4:28 صبح

    اوپن آفس واقعی بہترین ہے۔ اب آئندہ میں اسے ہی استعمال کرونگا۔

    • Shah Faisal said, on فروری 13, 2010 at 5:33 صبح

      تشریف آوری کا شکریہ بھائی۔
      امید ہے آپکے اوپن آفس کے تجربات خوشگوار رہیں گے۔

  9. Mohib Alvi said, on فروری 14, 2010 at 12:31 صبح

    اچھی تحریر ہے فیصل اور میں بھی کچھ عرصے سے اوپن آفس استعمال کر رہا ہوں اور کچھ چیزین واقعی اچھی ہیں اس کی گو ایم ایس آفس بہت بہتر ہے مگر پھر وہ مہنگا بھی ہے کافی ۔ اوپن آفس کے ورڈ پراسیسر نے بہت مایوس کیا ہے۔
    اوپن آفس پر زیادہ تفصیل سے لکھیں۔
    اس کے علاوہ مفت اینٹی وائرس کا بھی بتائیں ای وی جی کے علاوہ۔

    • Shah Faisal said, on فروری 14, 2010 at 5:27 صبح

      تشریف آوری کا شکریہ محب۔
      ورڈ پراسسر نے کیوں مایوس کیا ہے جناب آپ کو؟ کوئی خاص بات جو آپ چاہتے تھے اس میں؟
      ایٹی وائرس پر کبھی لکھونگا سر جی۔ فی الحال تو خود سوفوس استعمال کر رہا ہوں جو یونیورسٹی نے مفت دیا ہے۔
      اے وی جی کے علاوہ کلیم اے وی آزمایا ہے کبھی؟
      میرا تجربہ ہے کہ ایٹی وائرس کے ساتھ ساتھ بہت کچھ ہونا چاہئے مکمل حفاظت کیلئے، مثلاً یہ دیکھئے۔
      http://www.malwarebytes.org/mbam.php

  10. محمد ریاض شاہد said, on فروری 14, 2010 at 6:59 صبح

    فیصل آپ نے اپنے بلاگ کو غالبا نستعلیق میں کرنے کی کوشش کی ہے ۔ حروف علیحدہ علیحدہ نظر آ رہے ہیں ۔ شاید دوسروں کو بھی ایسا ہی نظر آ رہا ہو گا ۔ آپ اسے واپس نسخ میں لے آئیں تو بہتر ہو گا ۔ وائس آف امریکا کی اردو سائٹ بھی کسی وجہ سے نسخ استعمال کر رہی ہے

    • Shah Faisal said, on فروری 14, 2010 at 9:45 شام

      محمد ریاض شاہد صاحب
      یہ فونٹ زیر استعمال ہیں۔
      اردو نسخ ایشیا ٹائپ، پاک نستعلیق، نفیس ویب نسخ، تاہوما، ایریل یونی کوڈ ایم ایس، سیرف۔
      آپ کے پی سی میں شائد کچھ فونٹ نصب نہیں، آپ یہ فونٹ کرلپ کی ویب سائٹ سے حاصل کر سکتے ہیں۔
      شکریہ۔

  11. Naeem said, on فروری 14, 2010 at 8:07 شام

    میں تو انگریزی فانٹ ٹائمز نیو رومن استعمال کرتا ہوں، اُسکے نتائج بھی کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں

    • Shah Faisal said, on فروری 14, 2010 at 9:51 شام

      نعیم صاحب
      آپ بھی یہ ٹوٹکہ آزمائیے جو محترم ریاض شاہد صاحب کے گوش گزار کیا ہے۔
      بہت بہت شکریہ۔

  12. محمد ریاض شاہد said, on فروری 15, 2010 at 12:31 صبح

    محترم فیصل صاحب
    اسلام علیکم
    آپ اپنے قاری کو کیوں مجبور کرتے ہیں کہ وہ نئے فونٹ انسٹال کرے ۔ جب ورڈ پریس کے باقی بلاگ انہیں پرانے فونٹس کے ساتھ بھی ٹھیک نظر آ رہے ہیں تو میں کیوں محض آپ کے بلاگ کی خاطر کیوں فونٹس نصب کروں ۔ ویسے ایشیا ٹئپ کے علاوہ باقی فونٹس میرے کمپیوٹر پر نصب ہیں اور میں انہیں استعمال بھی کرتا ہوں ۔ آپ کا بلاگ اسی طرح نظر آرہا ہے ۔ آپ اپنی پوسٹ کے ایچ ٹی ایم ایل کو دوبارہ غور سے دیکھیں ۔ شکریہ

    • Shah Faisal said, on فروری 15, 2010 at 3:27 صبح

      حضور میری کیا مجال کہ میں کسی کو مجبور کروں کہ وہ میری مرضی کے فونٹ نصب کرے۔
      جب میں نے یہ بلاگ شروع کیا تھا تقریباً تین برس پہلے تو اس وقت کے جو مشہور فونٹ تھے وہی لگا دیے تھے، مثلاً کرلپ کے فراہم کردہ فونٹ یا بی بی سی اردو اور اردو پوائنٹ وغیرہ کے فونٹ۔ باقی میری کسی خاص فونٹ سے کوئی محبت نہیں۔ مقصد تو تحریر کا معیار ہونا چاہئے نہ کہ بلاگ کی شکل وغیرہ۔
      آپ نے بلاگ کے ایچ ٹی ایم ایل کو غور سے دیکھنے کو کہا ہے۔ میرے پاس دو لیپ ٹاپ کمپیٹورز میں یہ ٹھیک ہی نظر آ رہا ہے لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ایچ ٹی ایم ایل میں مسئلہ ہے تو کوئی حل بتائیے کہ فدوی تو اس میدان کا ہرگز شہسوار نہیں۔ موجودہ کوڈ بھی ایک ساتھی بلاگر کی مہربانی ہی ہے۔

  13. محمد سعد said, on فروری 15, 2010 at 3:16 صبح

    السلام علیکم۔
    دستاویزات محفوظ کرنے کے لیے آزاد فائل فارمیٹس کی اہمیت پر بھی کبھی لکھیں کہ یہ کس طرح ڈیجیٹل غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لیے اہم ہیں۔

    • Shah Faisal said, on فروری 15, 2010 at 3:29 صبح

      وعلیکم السلام جناب۔
      زندگی نے وفا کی تو اس بارے بھی لکھونگا لیکن کچھ پڑھنے کے بعد کہ فی الحال میری اپنی معلومات محدود ہیں۔
      تشریف آوری کا شکریہ۔

  14. Muhammad Riaz Shahid said, on فروری 15, 2010 at 8:19 شام

    Dear Faisal
    After i posting my last comments ,about 6-7 hours ago your blog stated looking fine in Nasakh font.
    Thank you for the response

  15. ڈفر - DuFFeR said, on فروری 15, 2010 at 11:21 شام

    بہت شکریہ جناب ایسی تحریر کا
    ہمارے ملک میں کاص طور پر ایسی معلومات کو عام کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے

  16. محمداسد said, on فروری 16, 2010 at 6:02 صبح

    ہم جیسے اناڑیوں کے لیے تو واقعی یہ قابل تعریف اور معلومات افزاء تحریر ہے۔ جس پر بہت شکریہ۔
    مجھے یاد پڑتا ہے اب سے کوئی ڈیڑھ سال پہلے اوپن آفس استعمال کرنے کی کوشش تو تھی لیکن ناکام رہے۔ ایک وجہ تو یہی کہ چوری کے آفس سے مانوسیت اور دوسری یہ کہ اس میں اردو یونیکوڈ کچھ خاص نہیں چلتا۔ یعنی آزادی کے لیے دیگر ذریئع سے اور کوشش کرنی پڑے گی 🙂

    • Shah Faisal said, on فروری 17, 2010 at 5:56 صبح

      تشریف آوری کا شکریہ۔
      کوشش جاری رکھئے، زیادہ مشکل پیش نہیں آئے گی۔

    • محمد سعد said, on فروری 18, 2010 at 8:10 شام

      اردو یونیکوڈ تو اس میں اچھی طرح چلتا ہے۔ آپ کو یہ غلط فہمی کہاں سے ہوئی کہ نہیں چلتا؟

  17. Hussain said, on اپریل 2, 2010 at 10:11 شام

    This is really good article and your blog is very good. I will add it to my list.
    Thanks


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: