Faisaliat- فیصلیات

کچھ باتیں کچھ کتابیں

Posted in australia, Life, urdu by Shah Faisal on اگست 21, 2010

صاحبو دو چار روز پہلے ایک ای میل آئی کہ ایک پروفیسر ہماری جامعہ کی، کچھ پرانی کتابیں بیچ کر پاکستان کے لیے فنڈ اکھٹا کرنا چاہتی ہیں۔ کتابیں اور رضاکار دونوں چاہییں۔ ناچیز کے پاس کتابوں کے معاملے میں تو "چیل کے گھونسلے میں ماس” والی صورتحال تھی (آخری کتاب ایک ڈالر، جی ہاں ایک ڈالر کہ آدھا جسکا پچاس سینٹ ہوتے ہیں، کی استعمال شدہ اشیا کی ایک دکان سے لی تھی، اور کہ جس بارے مشورہ یہ ہے کہ چونکہ اسی نام کی فلم دیکھ کر ناول کا مزا خراب ہو جائے گا اسلیے فلم پہلے دیکھ لیں)، سوچا چلو کچھ "دا خپلو لاسو خذمت” یعنی جسمانی مزدوری ہی کر لیں، نام بھیج دیا۔

وقت مقررہ پر مذکورہ جگہ پر پہنچا تو دو تین بڑی میزوں پر کتابوں کے انبار لگے تھے اور لوگ مزید کتابیں بھی ڈھو ڈھو کر لا رہے تھے۔ ایک یہودی سٹاف ممبر نے کافی کتابیں عطیہ کیں۔ پیسے وصولنے کو ایک دراز قامت، کافی وجیہہ ہندوستانی نوجوان کھڑا تھا اور ایک پاکستانی سٹاف ممبر بہ نام ہما، سب کو ہدایات دیتی پھر رہی تھیں۔ مجھے بھی کچھ کتابیں قریبی کمرے سے لانے اور میز پر ترتیب سے لگانے کا فرمان جاری ہوا۔ ادب، سفرنامہ، سائنس، درسی و غیر درسی، بہت کچھ تھا۔ ہلکی ہلکی بارش اب باقاعدہ رم جھم میں تبدیل ہو رہی تھی جب لوگوں نے آنا شروع کیا۔ رضاکار ہونے کے ناطے مجھے یہ صلہ دیا گیا تھا کہ لوگوں کے آنے سے پہلے ہی اپنی مرضی کی کتابیں چھانٹ کر الگ کر لوں۔دو ڈالر فی کتاب یقیناً برا سودا نہیں تھا اسلیے میں نے کچھ کتابیں الگ کر لیں جنکی فہرست ابھی پیش کرتا ہوں۔ لگ بھگ تین گھنٹے میں کوئی 800 ڈالر اکھٹے ہوئے جو پاکستانی ہائی کمیشن کے حوالے کیے جائیں گے۔ اس میں لوگوں کی جانب سے کتابوں کی قیمت اور چندہ دونوں شامل ہیں۔ وہ ہندوستانی دوست انتہائی مہذب طریقے سے ہر بندے سے کتاب کی قیمت کے علاوہ چندہ بھی لیتا رہا تھا اسلیے کتابوں کی نسبت پیسے زیادہ جمع ہوئے اور بہت سی کتابیں بچ بھی گئیں جنکے بارے میں یہ فیصلہ ہوا کہ جامعہ کی پاکستان سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کے حوالے کی جائیں گی جو انکو ایک آنے والی تقریب میں بیچیں گے۔

بہت اچھا دن گزرا اور ہر رنگ، مذہب، اور ملک کے لوگوں کو مدد کرتے دیکھ کر انسانیت پر میرا یقین مزید پختہ ہو گیا۔ کتابیں تو بہت سی لینا چاہتا تھا لیکن ایک طرف تو جیب میں صرف چند ڈالر نقد تھے (جو کہ ایک طریقہ بھی تھا خود پر کنٹرول کا، تو دوسری جانب بیگم کے قہر کا بھی خیال آتا تھا)۔ انھی میں سے ایک کتاب بے نظیر بھٹو مرحومہ کی بھی تھی جو اٹھا تو لی تھی لیکن واپس رکھ دی۔ بہر حال جناب جو کتابیں میں لایا وہ یہ ہیں (بغیر کسی ترتیب کے):

  • The reluctant fundamentalist

محسن حامد کا مشہور ناول

  • A brief history of everything

موٹی سی ایک کتاب ہے لیکن ابھی تک سمجھ نہیں آیا کہ کس بارے میں ہے۔غالباً فلسفہ ہے۔

  • The City: A Global History

شہروں کی تاریخ کے بارے میں ایک کتاب۔ شہر کب کہاں کیسے شروع ہوئے اور اب کیسے ہیں۔ کیوں لے لی، پتہ نہیں لیکن موضوع دلچسپ لگا۔

  • Insight Guide:Pakistan

ایک ٹورازم گائڈ ہے، تصویریں اچھی لگیں تو لے لی۔ ارادہ ہے کسی کو تحفے میں دے دونگا۔

  • Bureaucracy: Its role in Third World Development

بیوروکریسی (افسر شاہی)  کے بارے میں ایک کتاب، کچھ تعلق میری پی ایچ ڈی سے بنتا تھا سو لے لی۔

  • The reconstruction of religious thought in Islam

علامہ اقبال کے لکچروں کا ایک مجموعہ۔ مشہور عالم کتاب ہے۔

  • Max Weber: An intellectual portrait

یہ کتاب بھی میری پی ایچ ڈی سے متعلق ہے۔ ویبر کو آج کل پڑھ رہا ہوں یا یوں کہیے کہ پڑھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ موصوف جدید علم عمرانیات، بشمول دیگر علوم، کے بے تاج بادشاہ ہیں اور فدوی انکے سحر میں گرفتار۔

  • Orientalism

ایڈورڈ سعید کی شہرہ آفاق کتاب جسمیں مشرق سے متعلق مغرب کی بنائی گئی غلط تصویر کے بخیےادھیڑ کر رکھ دیے موصوف نے۔

  • Islands of Tasmania

فوٹوگرافی اور سیاحت سے متعلق ایک تصویری کتاب۔ چونکہ فدوی فوٹو گرافی میں بھی طبع آزمائی کرتا اور منہ کی کھاتا ہے، اسلیے لے لی۔ یہ اور بات کہ یہ گورے لاکھوں کے کیمرے اور فوٹو گرافی میں ماسٹرز کی ڈگریاں لے کر بھی ایسی کتابیں نہ چھاپیں تو تف ہے ان پر۔

یہ غالباً میری زندگی میں "اپنے پیسوں سے” لیا گیا کتابوں کا سب سے بڑا مجموعہ ہے (کہ بچپن میں ابا جان کے ہمراہ کتابوں کی دکان پر جاتے تھے تو اتنی اٹھا لیا کرتے تھے جتنی اٹھا سکتے ہوتے تھے)۔ بہرحال اب مسئلہ یہ ہے کہ ان سب کی باری کب آتی ہے۔ محسن حامد کا ناول تو دو تین راتوں کی مار ہے، علامہ اقبال اور اے بریف ہسٹری آف ایوری تھنگ کو آخر میں دیکھونگا۔ ویبر اور بیوروکریسی سے متعلق کتاب کو یونیورسٹی میں بھگتانے کی کوشش کرتا ہوں۔ بس دعا کیجیے۔

اور ہاں، یہ پوسٹ کچھ کچھ اس پوسٹ کے جواب میں بھی لکھی گئی ہے، اگرچہ میرا ریکارڈ یہ ہفتے وغیرہ منانے کے سلسلے میں از حد خراب ہے، ہاں اگر کوئی سال وغیرہ منانا ہو تو بات بھی بنے، ہفتہ تو سات ہی دنوں میں گزر جاتا ہے۔

Advertisements