Faisaliat- فیصلیات

من کہ ایک مڈل کلاسیا

Posted in Life, urdu by Shah Faisal on جنوری 15, 2013

صاحب گئے برسوں میں ایک فلسفی بنام ڈیکارٹ، کے گزرے ہیں۔ موصوف فرماتے ہیں کہ میری سوچ ہی میرے وجود کا ثبوت ہے۔ اگر میں اسی بات کو ایک مختلف انداز میں دیکھوں تو یوں کہوں کہ میری سوچ ہی میرا وجود ہے، میری شناخت ہے۔ یعنی میں وہی ہوں جو میں سوچتا ہوں۔ صاحب یہ سوچ بڑی طاقتور چیز ہے۔ یہ ناممکنات کو ممکنات میں تبدیل کر دیتی ہے لیکن عموماً ممکنات کو ناممکنات میں۔ افسوس کہ ہمارا تعلیمی نظام عموماً موخر الذکر بات پر ہی سارا زور لگاتا ہے۔ میری ناقص رائے میں اس میں کسی قدر قصور سائنسی طریقے کا بھی ہے جو پاپر صاحب کے خیال کہ سائنسی طریقے میں ہر مفروضہ جھٹلائے جانے کے قابل ہونا چاہیے، کے گرد گھومتا ہے۔ اب مجھ جیسے نیم خواندہ حضرات اس کا مطلب کچھ یوں لیتے ہیں کہ چونکہ کسی چیز کے ہونے کا کوئی ثبوت ہم پیش نہیں کر سکتے، وہ چیز وجود ہی نہیں رکھتی۔ حالانکہ یہ سائنسی طریقہ کار نہیں۔ اس کے برعکس بہت سے اعلیٰ پائے کے سائنسدان کچھ یوں کہتے ہیں کہ ہم مروجہ سائنسی طریقہ کار اور آلات کی حدود میں رہتے ہوئے، مثال کے طور پر، خدا کے وجود کا انکار یا اقرار نہیں کر سکتے۔ یعنی آج کی سائنس میں اگر کوئی بات مسلمہ (یعنی تسلیم شدہ) حقیقت ہے تو ضروری نہیں کہ وہ آئندہ بھی ایسی ہی رہے۔ گلیلیو، نیوٹن، آئن سٹائن سمیت بیشمار سائنسدانوں کی تھیوریز غلط یا محدود ثابت ہو چکی ہیں یا ہونے کو ہیں۔ دوسری جانب بہت سی سائنسی ایجادات یا دریافتیں بھی اتفاقات یا حادثات کی مرہون منت ہیں۔بات بہرحال دوسری طرف نکل گئی سو ان علمی باتوں کو پھر کسی وقت پر اٹھا رکھتے ہیں۔

اسوقت تو مجھے ایک عامیانہ سا اعتراف کر لینے دیجئے کہ میں ایک مڈل کلاسیا ہوں۔ نہیں یہ نہیں کہ یہ کوئی خامی ہے، یا خوبی۔ بس ایک صفت ہے بلکہ ہمہ صفت۔ یا یہ کہوں کہ مڈل کلاسیا ہونا ایک ذہنی کیفیت ہے، جیسا کہ اوپر ڈیکارٹ کے ذکر میں عرض کیا۔ کچھ لوگ پیدائشی مڈل کلاسیے نہیں ہوتے اور چند خوش یا بدنصیب (منحصر اس پر کہ آپ اسے کس طرح دیکھتے ہیں) اس کیفیت سے باہر بھی نکل جاتے ہیں۔ میں شاید نسل در نسل مڈل کلاسیا ہوں۔ بہرحال آخر ایسا کیا ہے جو مجھے ایک مڈل کلاسیا بناتا ہے؟

سوچوں تو تین معاملات یعنی ریاست، سیاست اور معیشت میں میری سوچ، میرا کردار مجھے مڈل کلاسیا بناتا ہے۔عموماً یہ کردار ہوتا ہے ریاست کے تھانیدار کا، سیاست کے ٹھیکدار کا اور معیشت کے جمعدار کا۔ مثلاً پہلے ریاست کو ہی لے لیجئے۔ ہر چھوٹی یا بڑی، اچھی یا بُری، باضابطہ یا بے ضابطہ ریاست (یعنی سٹیٹ) ایک حاکم رکھتی ہے اور ہر حاکم ایک حکومت (گورنمنٹ) کے بل بوتے پر ہی ایک ریاست یا سٹیٹ چلا پاتا ہے۔ حاکم سے حکومت چھن جائے تو نہ صرف وہ حاکم نہیں رہتا بلکہ ریاست کا وجود بھی ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے- ایسے میں یہ عین ممکن ہے کہ حاکم اپنی ریاست سمیت، دوسری ریاست کا محکوم ہو جائے (جس سے شائد سب سے زیادہ نقصان حاکم اور پھر مجھ مڈل کلاسیے کا ہوتا ہے)- اس تمہید سے مراد یہ کہ حکومت اور نظامِ حکومت یا گورننس کا کسی بھی ریاست میں بہت اہم کردار ہوتا ہے اور یہ کردار کوئی اور نہیں میں یعنی مڈل کلاس ہی ادا کرتا ہوں، یعنی تھوڑا حاکم، تھوڑا محکوم، یہاں میں حکومت کا تھانیدار ہوں۔ اب یہ شاید حکومت کی خواہش اور محکومی کا خوف ہے جو مجھ سے ہر حاکم کی محکومی کراتا ہے، نوکری کراتا ہے، چاکری کراتا ہے۔ میرے نزدیک تعلیم کے حصول کا مقصد ایک اچھی نوکری ہے، ایک ڈگری کا ٹھپہ چاہئے، علم چاہے نہ ملے۔ کچھ لڑکیوں کے والدین انھیں صرف اس وجہ سے میڈیکل ڈاکٹر بناتے ہیں کہ اچھا رشتہ مل جائے گا۔ عموماً ایسی لڑکیاں شادی کے بعد گھر گر ہستی سنبھالتی ہیں اور پریکٹس نہیں کرتیں۔ اگر کہا جائے کہ یہ تو ان کے بلکہ سارے ٹیکس گزار طبقے کے ساتھ زیادتی ہے تو جواب ملتا ہے کہ جی ہم کھاتے پیتے لوگ ہیں، ہمارے ہاں لڑکی کے نوکری کرنے کا رواج نہیں۔ یعنی ڈاکٹر بننے کا  رواج تو ہے، ڈاکٹری کرنے کا نہیں۔ میں بھی ایک ایسی لڑکی جیسا ہی ہوں۔ تعلیم کا مقصد ڈگری کا استعمال ہے، علم کا استعمال نہیں۔ تعلیم کے ساتھ ہی جڑا شعبہ تربیت کا بھی ہے، یہ دراصل تربیت ہی ہے جو عملی زندگی میں کام آتی ہے۔ تربیت سے میری مراد کوئی فنی یا تکنیکی تربیت نہیں، نوکر (یا نوکر پیشہ) بننے کی تربیت ہے جو سکول کالج میں خوب ملتی ہے۔ سوال (یا کم از کم غلط وقت پر غلط سوال) نہ کرنے کی تربیت، معلومات کو بے چوں چراں حقائق مان لینے کی تربیت، حالات کو ‏Given‏ یا "بس ایسا ہی ہے” تسلیم کرنے کی تربیت، وغیرہ وغیرہ۔‏

ریاست کے بعد آتے ہیں سیاست کی جانب، جو دراصل ریاست کا ہی ایک جزو ہے۔ لیکن سیاست سے میری مراد حکومتی معاملات نہیں، روزمرہ کی سیاست ہے۔ معاشرے کی سیاست، سماج کی سیاست، مذہب کی سیاست۔ یہاں میں سماج کا ٹھیکیدار ہوں۔ میری لُغت اقدار، اخلاقیات، روایات اور ایسے ہزاروں دیگر الفاظ سے بھری پڑی ہے۔ امیر دماغ سے سوچتا ہے، غریب پیٹ سے۔ اب میں چونکہ امیر ہوں نہ غریب، اس لئے دل سے سوچتا ہوں۔ مذہب، قوم، وطن، معاشرت سب کا درد رکھتا ہوں۔ ملک سے باہر ہوں تو ملک کے لوگوں کا غم ستائے جاتا ہے، ملک کے اندر ہوں تو بڑھتی ہوئی فحاشی اور بے حیائی پر دل خون کے آنسو روتا ہے یعنی انہی لوگوں کی ہجو کرتا ہوں۔ حیرت کی بات یہ کہ ملک کے باہر ہوں تو یہ تفکر خاصا بدل جاتا ہے۔ یعنی ملک سے باہر آس پاس فحاشی نظر نہیں آتی اور ملک کے اندر رہوں تو ملک کے لوگوں کا نہیں، اپنا غم ستاتا ہے۔ قومیت کا سبق مجھے سکول، کالج، یونیورسٹی بلکہ میڈیا تک میں گھول گھول کر پڑھایا جاتا ہے۔ یہ الگ بات کہ جرنیلوں کے اپنے بچے باہر پڑھتے اور رہتے ہیں اور قوم کے بچے قومی غیرت کے نام پر جنگ کا ایندھن بنتے ہیں۔ میڈیا کے برزجمہر دبئی میں بیٹھ کر اپنا قومی فریضہ پرائم ٹائم سیاسی ٹاک شوز اور بریکنگ نیوز کی صورت پُورا کرتے ہیں۔ سیاستدان اور بیوروکریٹ گرمیوں کی چھٹیاں اپنے بچوں کے پاس یورپ، امریکہ، آسٹریلیا میں گزارتے ہیں اور "طبیعت زیادہ خراب ہونے کی صورت میں” مستقل وہیں منتقل ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف آپ کسی غریب سے "پاکستانیت” کی تعریف پوچھیں تو وہ آپ کا منہ دیکھنے لگے گا۔

بات ہے سیاست کی تو میں سیاسی لیڈر کا جھنڈا بردار بھی ہوں۔ غریب سے آپ کسی کے حق میں نعرہ لگوا لیجئے، کسی کو ووٹ دلوا دیجئے، وہ سیاسی ضمیر کا تردد پال ہی نہیں سکتا۔ صرف پیٹ بھرنا چاہئے، چاہے ایک وقت کے لئے ہی سہی۔ دوسری جانب سیٹھ یعنی سرمایہ دار بھی "اصولی سیاست” کا تکلف نہیں کرتا، ہر پارٹی کو چندہ دیتا ہے، ہر لیڈر سے یاری رکھتا ہے، بس اسکے کاروبار پر زد نہ پڑے، اسکے سرمائے میں اضافے کا انتظام ہوتے رہنا چاہئے۔ یہ میں مڈل کلاسیا ہی ہوں جو فیس بُک، ٹوئٹر اور اسی قبیل کے دیگر سوشل میڈیا فورمز میں اپنے لیڈر کی جنگ لڑتا ہوں، بے تیغ، بلا معاوضہ۔ جب میرے اپنے ہی بنائے ہوئے بُت پاش پاش ہوتے ہیں تو سب سے بدزن ہو جاتا ہوں، سیاست کو گندا کام کہہ کر کنارہ کش ہو جاتا ہوں۔ سیاست دان مزید شیر ہو جاتے ہیں، غریب کا ووٹ مزید ارزاں ہو جاتا ہے۔

ریاست اور سیاست کے بعد بات آتی ہے معیشت کی۔ یہاں میں سیٹھ یعنی سرمایہ دار کاجمعدار ہوں، یعنی سیٹھ کا مال بیچتا ہوں اور یوں اسکے لئے مزید مال جمع کرتا ہوں۔ اگر قسمت اچھی ہو تو سیٹھ مجھے منشی رکھ لیتا ہے۔ میں ملکی یا غیر ملکی یونیورسٹیوں سے بزنس کی مہنگی ڈگریاں خرید لاتا ہوں اور ایف اے، بی اے پاس سیٹھ کی چاکری کرتا ہوں۔ تنخواہ چند ہزار یا چند لاکھ لیتا ہوں لیکن حساب کتاب کروڑوں اور اربوں کا رکھتا ہوں۔ سال کے آخر میں بونس، کسی تیسرے درجے کے سیاحتی مقام مثلاً دبئی یا تھائی لینڈ کا ٹکٹ اور کمپنی کی مہیا کردہ گاڑی میری مڈل کلاسیت کو چھپا دیتی ہے۔ چاہے کچھ وقت کے لئے ہی سہی، اپنے کالے رنگ پر چونے کا لیپ کر کے بگلوں میں جا ملتا ہوں۔ لیکن ہمیشہ قسمت یاوری نہیں کرتی۔ ایسے میں میں صرف صارف یا کنزیومر کا کردار ہی ادا کرتا ہوں۔ سیٹھ اپنے پیسے کے بل بوتے پر مجھے خوبصورت دنیا کے خواب دکھاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ڈیزائنر برانڈ کے کپڑے اور میک اپ مجھے جارج کلونی (یا ہیوگ جیکمین, وغیرہ وغیرہ) بنا دکھائیں گے اور میری بیگم کیتھرین زیٹا جونز (یا ڈریو بیری مور، وغیرہ وغیرہ) لگنے لگے گی۔

صاحب مجھے مڈل کلاسیا ہونے میں شرمندگی نہیں۔ یہ دنیا کا قانون نہیں تو کم از کم نظام ضرور ہے ہے۔ میں البتہ خوش ہوں کہ کم از کم مجھے اپنی بہت سی متضاد سوچوں اور باہم متصادم افعال کی وجہ تو معلوم ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

Advertisements

کچھ باتیں کچھ کتابیں

Posted in australia, Life, urdu by Shah Faisal on اگست 21, 2010

صاحبو دو چار روز پہلے ایک ای میل آئی کہ ایک پروفیسر ہماری جامعہ کی، کچھ پرانی کتابیں بیچ کر پاکستان کے لیے فنڈ اکھٹا کرنا چاہتی ہیں۔ کتابیں اور رضاکار دونوں چاہییں۔ ناچیز کے پاس کتابوں کے معاملے میں تو "چیل کے گھونسلے میں ماس” والی صورتحال تھی (آخری کتاب ایک ڈالر، جی ہاں ایک ڈالر کہ آدھا جسکا پچاس سینٹ ہوتے ہیں، کی استعمال شدہ اشیا کی ایک دکان سے لی تھی، اور کہ جس بارے مشورہ یہ ہے کہ چونکہ اسی نام کی فلم دیکھ کر ناول کا مزا خراب ہو جائے گا اسلیے فلم پہلے دیکھ لیں)، سوچا چلو کچھ "دا خپلو لاسو خذمت” یعنی جسمانی مزدوری ہی کر لیں، نام بھیج دیا۔

وقت مقررہ پر مذکورہ جگہ پر پہنچا تو دو تین بڑی میزوں پر کتابوں کے انبار لگے تھے اور لوگ مزید کتابیں بھی ڈھو ڈھو کر لا رہے تھے۔ ایک یہودی سٹاف ممبر نے کافی کتابیں عطیہ کیں۔ پیسے وصولنے کو ایک دراز قامت، کافی وجیہہ ہندوستانی نوجوان کھڑا تھا اور ایک پاکستانی سٹاف ممبر بہ نام ہما، سب کو ہدایات دیتی پھر رہی تھیں۔ مجھے بھی کچھ کتابیں قریبی کمرے سے لانے اور میز پر ترتیب سے لگانے کا فرمان جاری ہوا۔ ادب، سفرنامہ، سائنس، درسی و غیر درسی، بہت کچھ تھا۔ ہلکی ہلکی بارش اب باقاعدہ رم جھم میں تبدیل ہو رہی تھی جب لوگوں نے آنا شروع کیا۔ رضاکار ہونے کے ناطے مجھے یہ صلہ دیا گیا تھا کہ لوگوں کے آنے سے پہلے ہی اپنی مرضی کی کتابیں چھانٹ کر الگ کر لوں۔دو ڈالر فی کتاب یقیناً برا سودا نہیں تھا اسلیے میں نے کچھ کتابیں الگ کر لیں جنکی فہرست ابھی پیش کرتا ہوں۔ لگ بھگ تین گھنٹے میں کوئی 800 ڈالر اکھٹے ہوئے جو پاکستانی ہائی کمیشن کے حوالے کیے جائیں گے۔ اس میں لوگوں کی جانب سے کتابوں کی قیمت اور چندہ دونوں شامل ہیں۔ وہ ہندوستانی دوست انتہائی مہذب طریقے سے ہر بندے سے کتاب کی قیمت کے علاوہ چندہ بھی لیتا رہا تھا اسلیے کتابوں کی نسبت پیسے زیادہ جمع ہوئے اور بہت سی کتابیں بچ بھی گئیں جنکے بارے میں یہ فیصلہ ہوا کہ جامعہ کی پاکستان سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کے حوالے کی جائیں گی جو انکو ایک آنے والی تقریب میں بیچیں گے۔

بہت اچھا دن گزرا اور ہر رنگ، مذہب، اور ملک کے لوگوں کو مدد کرتے دیکھ کر انسانیت پر میرا یقین مزید پختہ ہو گیا۔ کتابیں تو بہت سی لینا چاہتا تھا لیکن ایک طرف تو جیب میں صرف چند ڈالر نقد تھے (جو کہ ایک طریقہ بھی تھا خود پر کنٹرول کا، تو دوسری جانب بیگم کے قہر کا بھی خیال آتا تھا)۔ انھی میں سے ایک کتاب بے نظیر بھٹو مرحومہ کی بھی تھی جو اٹھا تو لی تھی لیکن واپس رکھ دی۔ بہر حال جناب جو کتابیں میں لایا وہ یہ ہیں (بغیر کسی ترتیب کے):

  • The reluctant fundamentalist

محسن حامد کا مشہور ناول

  • A brief history of everything

موٹی سی ایک کتاب ہے لیکن ابھی تک سمجھ نہیں آیا کہ کس بارے میں ہے۔غالباً فلسفہ ہے۔

  • The City: A Global History

شہروں کی تاریخ کے بارے میں ایک کتاب۔ شہر کب کہاں کیسے شروع ہوئے اور اب کیسے ہیں۔ کیوں لے لی، پتہ نہیں لیکن موضوع دلچسپ لگا۔

  • Insight Guide:Pakistan

ایک ٹورازم گائڈ ہے، تصویریں اچھی لگیں تو لے لی۔ ارادہ ہے کسی کو تحفے میں دے دونگا۔

  • Bureaucracy: Its role in Third World Development

بیوروکریسی (افسر شاہی)  کے بارے میں ایک کتاب، کچھ تعلق میری پی ایچ ڈی سے بنتا تھا سو لے لی۔

  • The reconstruction of religious thought in Islam

علامہ اقبال کے لکچروں کا ایک مجموعہ۔ مشہور عالم کتاب ہے۔

  • Max Weber: An intellectual portrait

یہ کتاب بھی میری پی ایچ ڈی سے متعلق ہے۔ ویبر کو آج کل پڑھ رہا ہوں یا یوں کہیے کہ پڑھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ موصوف جدید علم عمرانیات، بشمول دیگر علوم، کے بے تاج بادشاہ ہیں اور فدوی انکے سحر میں گرفتار۔

  • Orientalism

ایڈورڈ سعید کی شہرہ آفاق کتاب جسمیں مشرق سے متعلق مغرب کی بنائی گئی غلط تصویر کے بخیےادھیڑ کر رکھ دیے موصوف نے۔

  • Islands of Tasmania

فوٹوگرافی اور سیاحت سے متعلق ایک تصویری کتاب۔ چونکہ فدوی فوٹو گرافی میں بھی طبع آزمائی کرتا اور منہ کی کھاتا ہے، اسلیے لے لی۔ یہ اور بات کہ یہ گورے لاکھوں کے کیمرے اور فوٹو گرافی میں ماسٹرز کی ڈگریاں لے کر بھی ایسی کتابیں نہ چھاپیں تو تف ہے ان پر۔

یہ غالباً میری زندگی میں "اپنے پیسوں سے” لیا گیا کتابوں کا سب سے بڑا مجموعہ ہے (کہ بچپن میں ابا جان کے ہمراہ کتابوں کی دکان پر جاتے تھے تو اتنی اٹھا لیا کرتے تھے جتنی اٹھا سکتے ہوتے تھے)۔ بہرحال اب مسئلہ یہ ہے کہ ان سب کی باری کب آتی ہے۔ محسن حامد کا ناول تو دو تین راتوں کی مار ہے، علامہ اقبال اور اے بریف ہسٹری آف ایوری تھنگ کو آخر میں دیکھونگا۔ ویبر اور بیوروکریسی سے متعلق کتاب کو یونیورسٹی میں بھگتانے کی کوشش کرتا ہوں۔ بس دعا کیجیے۔

اور ہاں، یہ پوسٹ کچھ کچھ اس پوسٹ کے جواب میں بھی لکھی گئی ہے، اگرچہ میرا ریکارڈ یہ ہفتے وغیرہ منانے کے سلسلے میں از حد خراب ہے، ہاں اگر کوئی سال وغیرہ منانا ہو تو بات بھی بنے، ہفتہ تو سات ہی دنوں میں گزر جاتا ہے۔

سیاروں کو سفر

Posted in australia, Life, Travel, urdu by Shah Faisal on مئی 28, 2010

صاحبو میں فلکیات میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا، ہاں سٹیون ہاکنگ کی ایک کتاب وقت کا سفر کا ترجمہ پڑھ کر کچھ دلچسپی ضرور ہو گئی تھی لیکن میرے نزدیک اس دنیا کے مسئلے کیا کم ہیں کہ ہم دوسری دنیاؤں کو مسخر کرنے چل دیں؟ بہرحال یہ تو ایک جملہ معترضہ ہے، عرض یہ کہ جہاں ناچیز فوٹو گرافی کا شوق رکھتا ہے وہیں ایک مشغلہ ڈاکومنٹری فلمیں بھی ہیں۔ کچھ یہی وجہ کہ نیٹ جیو، ڈسکوری، ہسٹری چینل وغیرہ سے بات آگے بڑھ کر یا تو کارٹون نیٹورک پر ختم ہوتی ہے یا کھیل کے چینلوں پر لگی نورا کشتیوں پر۔

بہرحال جب مکی بھائی کے پے در پے تراجم دیکھے اور ابو شامل کے فلمستان پر نظر پڑی ہے تو دونوں کا کچھ ملا جلا اثر اس پوسٹ کی صورت ظاہر ہو رہا ہے۔ یہ کہنا تو کچھ فضول ہی ہے کہ اب اردو بلاگستان سے کتنا رشتہ رہ گیا ہے اور کیا میں خود کو بلاگر کہنے میں حق بجانب بھی ہوں یا نہہں۔ خیر اس سے پہلے کہ آپ یہاں سے تشریف لے جائِیں، مدعا بیان کر دیتا ہوں۔

ڈاکومنٹری کے شوقین خواتین و حضرات یہاں دل ٹھنڈا کر لیں اور فلکیات کے دیوانے یہ آسٹریلین ڈاکومنٹری بہ نام voyage to planets ضرور دیکھیں۔ میرا خیال تھا کہ یہ شائد امریکہ میں بنی ہو گی لیکن یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آسٹریلیا بھی اس میدان میں پیچھے نہِیں۔
اسکے علاوہ اے بی سی کے دیگر پروگرام آن لائن دیکھے جا سکتے ہیں لیکن تیز رفتار انٹرنیٹ شرط ہے۔

ڈاکومنٹری دیکھ کر بتائیے کہ کیسی لگی۔ مجھے تو اسکی اقساط کا انتظار ہی رہتا ہے۔

اور ہاں بھائی لوگو، آپکے تبصروں سے علم ہوا  کہ یہ ڈاکومنٹری آسٹریلیا سے باہر نہیں دیکھی جا سکتی۔ اب یا تو آپ آسٹریلیا کے کسی آئی پی سے سائٹ پر جائیں (میرے محدود علم کے مطابق ایسے کئی طریقے موجود ہیں) اور یا پھر اس بات کا انتظار کریں کہ یار لوگ اس کے ٹورنٹ بنا ڈالیں۔ ویسے اگر کوئی پاکستانی دوست اس کو بانٹنے کی ذمہ داری لے لیں تو میں انھیں اسکی اب تک کی اقساط مہیا کر سکتا ہوں۔ ہے کوئی؟ 🙂

سوال جواب

Posted in Life, urdu by Shah Faisal on جولائی 12, 2009

صاحبو آپکے ساتھ کبھی ایسا ہوا کہ گویا کوئی آندھی آئی ہو اندر ہی اندر۔ جھکڑ چلے ہوں زوردار اور اس طوفان نے اندر کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہو۔ پرانے خیالات کے بوڑھے برگد کہ جنکی شاخوں سے خود ساختہ فرسودہ روایات لٹک رہی تھیں، جڑوں سے اکھڑ گئے ہوں اور پھر ایک لمحہ سکون کا، خاموشی کا جو ایک نوید ہو کسی الہام کی، کسی نئے خیال کی، کسی نئی تخلیق کی، گویا ایک نئی زندگی کی۔ بالکل ایسے جیسے جنگل میں لگنے والی آگ کے بعد جل کر سیاہ ہوئے پیڑ پودوں پر ٹھنڈے سبز رنگ کی نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ نہیں صاحب اپنے ایسے نصیب کہاں۔ چھوٹے موٹے طوفان تو آتے ہیں لیکن ایسا سونامی کبھی نہیں آیا۔ اور کبھی آنے کی کوشش بھی کی تو لاشعوری کوشش سے اسکا گلا ہی گھونٹ دیا کہ بنے بنائے گھونسلے کو چھوڑنا، نئی ابتدا کرنا مشکل کام ہے اور میری سہل پسندی اسکی متحمل نہیں ہو سکتی یا کم از کم میں نے کبھی یہ آزمایا نہیں۔ ہاں البتہ انھی چھوٹی چھوٹی لہروں سے ہی تبدیلی لانے کی کوشش کی ہے اور وہ بھی اپنے مطلب کی تبدیلی۔
بہرحال کچھ ایسا ہی لمحہ تھا جب گویا کسی نے میرے دماغ میں اس خیال کو کِیل کی طرح ٹھونک دیا کہ دنیا میں جو کچھ مجھے اب تک حاصل ہوا ہے وہ میرے زورِ بازو کی پیداوار نہیں ہے۔ ایسا تو خیر پہلے بھی نہیں سوچا تھا لیکن اب بہرحال میں شدت سے یہ محسوس کرنے لگا کہ جہاں میں آج ہوں قطع نظر اس سے کہ یہ اچھی جگہ ہے یا بری، اسمیں کتنے ہی زیادہ، بلکہ شائد سارے کے سارے، بیرونی عوامل ہیں۔ مثلاً اگر مجھے یورپی یونین کی طرف سے بیرونِ ملک تعلیم کے لئے وظیفہ ملا تو اسمیں میرا کچھ کمال نہیں تھا۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ تک رسائی، وقت کی فراغت، انگریزی میڈیم سکول کی تعلیم وہ سب باتیں تھیں جنھوں نے اس وظیفے کے حصول میں مدد کی۔ اب کمپیوٹر اور انٹرنیٹ تک رسائی پاکستان میں ہر شخص کو تو کیا ہر یونیورسٹی کے ہر طالبعلم کو بھی میسر نہیں۔ پرائیویٹ انگریزی میڈیم سکول میں تعلیم بھی کم ہی بچوں کا نصیب ہے اور وقت کی فراغت بھی اسلئے تھی کہ گھر چلانے کی ذمہ داری مجھ پر نہیں تھی۔ شائد ایسی ہی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں جنکی وجہ سے نہایت ذہین، محنتی اور اچھے طالبعلم زندگی میں آگے نہیں بڑھ پاتے اور حالات کا جبر انھیں معمولی نوکریاں یا چھوٹا موٹا کاروبار کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
بہرحال میری یہ بات کوئی غیر معمولی یا انوکھی بات نہیں بلکہ ہم سب جانتے ہیں اور یقیناً میرے برعکس بہت سے لوگوں کو تو اسکا ذاتی تجربہ بھی ہو گا۔ لیکن میں دراصل اس سے آگے، کچھ اور کہنا چاہتا ہوں۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ملنے والی ایسی بہت سی favors سے مجھے ڈر سا لگنے لگا ہے۔ جوں جوں اسکی نعمتیں مجھے مل رہی ہیں توں توں میرے ڈر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا وجہ ہے؟ میں ہی کیوں؟ وہ کیا کام لینا چاہتا ہے؟ گویا یہ کیسا امتحان ہے کہ جسکا جواب تو چھوڑیں، مجھے تو سوال تک نہیں معلوم۔۔۔ یا شائد سوال سامنے ہے لیکن اسکو پڑھنے کا، غور کرنے کا وقت نہیں یا موڈ نہیں، نیت نہیں۔ اور اگر ایسا ہے تو یہ تو اور بھی قابلِ فکر بات ہے۔ میری نالائقی سمجھیے کہ پیسے لے کر جیب میں ڈال لئے، یہ نہیں پوچھا کہ کام کیا کرنا ہے۔ اب جب وہ پوچھے گا کہ وہ کام کیا جسکے لئے پیسا دیا تھا، ذرائع دیے تھے، تو میں کیا جواب دونگا؟ کیا یہ کہونگا کہ مجھے تو اپنی job description کا ہی علم نہیں تھا، میں تو سمجھا تھا کہ تُو رحیم و کریم ہے، سب کو دے رہا ہے، سو مجھے بھی دے دیا۔ یا کیا یہ کہونگا کہ مجھ ہی میں کوئی سرخاب کے پر لگے تھے کہ یہ نعمتیں میں نے اپنا حق سمجھ کر رکھ لیں؟ لیکن یہ تو مجھے بھی علم ہے کہ ایسا کچھ نہیں۔ دن گزر رہے ہیں، گھڑی کی ٹِک ٹِک مسلسل چل رہی ہے اور میری پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب مجھے کچھ کچھ سمجھ آ رہا ہے کہ کیوں سدھارت کپل وستو کا تخت چھوڑ کر پیپل کے درخت تلے جا بیٹھا تھا جہاں اسے نروان ملا، اللہ کے نیک بندے کیوں اتنے minimalist ہوتے ہیں۔ لیکن بہرحال کیا یہ میری حد درجہ نالائقی نہیں کہ سوالات کا ہی علم نہیں، جوابات تو بعد کی بات ہے؟ یقیناً پرچہ حل کرنے کے لئے بھی تو وقت چاہئے نا۔ اگر کوئی یہ کہے کہ بس یار ایسے ہی ٹھیک ہے تو نہیں، ایسا ہرگز ٹھیک نہیں۔ وہ رحیم و کریم تو ہے، منصف بھی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں برابر ہوں جاؤں کسی ایسے شخص کے جو جوابات لکھ رہا ہو، مجھ سے کئی گنا زیادہ بڑی ذمہ داریاں نبھا رہا ہو، باوجود اسکے کہ اسکے پاس مجھ سے کم ذرائع ہوں۔ تو اسکو دیکھ کر کہ اللہ میاں نے جو مجھے دیا ہے، یقیناً میرا کام تو بہت ہی مشکل ہونا چاہئے۔ آہ لیکن کیا کیجئے۔ مجھے علم ہی نہیں کہ کرنا کیا ہے، جانا کہاں ہے۔ یا شائد علم تو ہے لیکن سامنا کرنے کا یارا نہیں۔ لیکن ٹھہریے صاحب، اس سے پہلے کہ آپکو مجھ پر ترس آئے یا آپ مجھ سے ہمدردی کا اظہار کریں، مجھے اس کا حل بتائیے۔ کیا آپکے ساتھ ایسا ہوا ہے اور اگر ہاں تو آپ نے کیا کیا ہے؟ مجھے انتظار رہے گا۔

آئی ایم ناٹ شیور۔۔۔

Posted in Life, urdu by Shah Faisal on مارچ 28, 2009

صاحبو آج ایک تحریر پڑھی تو ایک پرانی بات یاد آ گئی۔ اپنے جرمنی کے ایک سالہ قیام کے دوران جو چند اساتذہ بلکہ جو چند جرمن مجھے پسند آئے ان میں ایک پروفیسر وولفگینگ بوکلمین بھی تھے۔ دھیما مزاج، شرمیلی مسکراہٹ، لمبا قد اور سب سے بڑھ کر انکساری۔ ہم سب شاگردوں سے ایسے بات کرتے جیسے وہ شاگرد ہوں اور ہم استاد۔ ہمارے ہاں تو کالج یا جامعہ کے ہر استاد کو پروفیسر کہہ دیا جاتا ہے بلکہ نجومی یا ہومیو ڈاکٹر بھی اپنے نام کے ساتھ پروفیسر لکھ لیتے ہیں لیکن مغرب میں ایسا نہیں ہوتا۔ بندہ کافی سینئر ہو کر اور کئی پاپڑ بیل کر پروفیسر بنتا ہے۔ پروفیسر بوکلمین کا کچھ کام آپ گوگل سکالر میں انکے نام کیساتھ دیکھ سکتے ہیں۔ ان جیسے سینئر پروفیسر کی جو بات مجھے پہلے کچھ دن عجیب لگی بلکہ کوفت کا باعث بنی، وہ انکا تکیہ کلام تھا اور اس تکیہ کلام کے پیچھے یقیناً انکا لاشعور یا نفسیاتی حالت تھی جو شائد عادت میں ڈھل گئی تھی۔ قصہ کچھ یوں کہ ہم طلبا کے ہر سوال کے جواب کا آغاز وہ "آئی ایم ناٹ شیور بٹ آئی تھنک۔۔۔” سے کرتے تھے، یعنی مجھے مکمل علم تو نہیں لیکن میرا خیال کچھ یوں ہے۔ جواب دینے کے بعد یا اس سے پہلے وہ کلاس کے باقی طلبا سے بھی انکی رائے طلب کرتے تھے اور ہم اپنی کم علمی کے باوجود پھول پھول کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ بہرحال پہلے پہل تو مجھے بڑا عجیب لگا کہ عجیب استاد ہے، کسی بات کا مکمل علم ہی نہیں رکھتا۔ لیکن جوں جوں وقت گزرا، مجھے اس بات کی گہرائی کا احساس ہوا۔ اوروں کا تو نہیں پتہ، اپنی بات کرتا ہوں۔ یقین کیجئے مجھے تو یہ کہنا کہ مجھے کسی بات کا علم نہیں یا مکمل علم نہیں، بہت ہی مشکل ہے۔ انا آڑے آ جاتی ہے، اندر کھڑے بت لرزنے لگتے ہیں، پسینہ آ جاتا ہے، سانس چڑھ جاتی ہے اور پھر میں بڑی ڈھٹائی سے دعویٰ کر دیتا ہوں کہ نو، آئی ایم شیور، مجھے یقین ہے کہ میرا علم کامل ہے، درست ہے۔۔۔ سچ پوچھیں تو شائد یہی وجہ ہے کہ میرا علم بھی نہایت محدود ہے۔ ویسے بھی اگر بندہ یہ سمجھ لے کہ وہ بہت کچھ جانتا ہے تو کھڑکی ہی بند ہو جاتی ہے۔ شائد یہی میرا المیہ ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر بندہ یہ سمجھنے لگ جائے کہ وہ سب جانتا ہے یا عقل کُل ہے تو یا تو وہ بندہ نہیں، خدا ہے اور یا پھر وہ کچھ بھی نہیں جانتا۔ خدائی کا دعویٰ تو میں ہرگز نہیں کرتا لیکن دوسری صورت ہضمنے کیلئے بہت بڑا جگر چاہیئے جو فی الحال میرے پاس نہیں۔

صاحبو آپ نے یقیناً سنا ہو گا کہ نماز یا دعا میں رقت طاری ہو جائے تو یہ گھڑی شرفِ قبولیت کی ہوتی ہے۔ کیا آپ نے اس پر غور کیا کہ ایسا کیوں ہے؟ فدوی کے اندازے کے مطابق تو اس لئے کہ جب بندہ اللہ میاں کے حضور بے اختیار رو پڑتا ہے تو گویا اپنی اوقات میں آ جاتا ہے، اسکی ساری اکڑفوں نکل جاتی ہے اور اسکو اپنی بیچارگی کے کامل احساس کی بدولت رونا آ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو بندے کا یہ احساس پسند آتا ہے کہ غرور، تفاخر صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو زیب دیتا ہے۔ جاننے اور نہ جاننے کے درمیان ایک طویل بلکہ شائد لا متناعی فاصلہ ہے۔ مکمل علم تو اللہ کی ذات کو ہے، وہ اس میں سے جتنا چاہتا ہے، اپنے بندے کو دیتا ہے۔ اور جسکو دیتا ہے، وہ بندہ اس علم کے بوجھ تلے دب کر کہتا ہے "آئی ایم ناٹ شیور”۔