Faisaliat- فیصلیات

رُودادِ فیس بُک

Posted in urdu by Shah Faisal on فروری 17, 2011

صاحبو پرانی بات ہے مجھے ایک ڈائری بنانے کا شوق چڑھا جس میں دوستوں کی تفصیلات مثلاً نام، پتہ، نمبر وغیرہ تو درج ہوتے ہی تھے لیکن ایک انٹرویو کی شکل میں لی گئی دیگر معلومات مثلاً پسندیدہ کھانے، فلم، کتابیں، شہر، وغیرہ وغیرہ کا مختصر احوال بھی درج ہوتا تھا۔ یہ غالباً نوے کی دہائی کے آغاز کی بات ہے جب ابھی انٹر نیٹ شروع ہی ہوا تھا۔ انٹر نیٹ کی معلومات تو بس اتنی ہی تھیں جتنی ایک دوست نے امریکہ سے واپسی پر دی تھیں جس کو میری محدود عقل نے ریڈیو یا ٹی وی چینلز کے برابر سمجھا جہاں ٹی وی یا ریڈیو کی بجائے کمپیوٹر استعمال ہوتا تھا (اگرچہ میرے خیال میں یہ تقابل کچھ ایسا غلط بھی نہیں تھا)۔ کمپیوٹر پر البتہ 85ء کے لگ بھگ سے طبع آزمائی کر رکھا تھی، جب یہ امریکنوں کی مہربانی سے والد صاحب کے دفتر کی زینت بنا تھا۔

خیر بات دوسری جانب نکل گئی کہ ذکر تو فیس بُک کا مطلوب تھا۔ جب اس بارے میں سنا تو مجھے اپنی وہ بھولی بسری ڈائری یاد آ گئی اور دوستوں سے رابطے کے شوق میں فیس بُک کھاتہ بھی بنا ڈالا۔فیس بک کے جوہر کھلے تو احساس ہوا کہ ان سب برسوں میں ٹیکنالوجی بہت بدل گئی ہے اور فیس بُک کے استعمال تو بےشمار ہیں اور ہو سکتے ہیں۔ گرچہ زیادہ استعمال ان کا نہیں کیا کہ دوست احباب جن مقاصد کے لیے اسے استعمال کر رہے تھے وہ نہایت عمومی قسم کے تھے۔ مثلاً تصاویر شیئر کرنے کیلیے جسکے لیے میں پہلے ہی یاہو کی سروس فِلکر اور گوگل کا پکاسا ویب البم استعمال کر رہا تھا۔ یہ بھی کہ اپنے بعض دوستوں کی طرح مجھے بھی انٹرنیٹ پر اپنے وجود کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے (یعنی شہرت کا لالچ یا حرص تو ہے)۔ اب اس مقصد کیلئے (گرچہ صرف اسی وجہ سے نہیں) میرا بلاگ پہلے ہی انٹر نیٹ پر موجود تھا۔ ہر عام انسان کی طرح خود کو گوگل کر کے دیکھا تو بعض دوسری ویبسائٹس مثلاً گزشتہ یا حالیہ تعلیمی اداروں کی سائٹس وغیرہ پر بھی خود کو موجود پایا۔ اس لیے بہت سے لوگوں کے برعکس کہ جو ایسے مشاغل نہیں رکھتے، فیس بُک کی دو منٹ میں (اور بس دو ہی منٹ کیلئے) شہرت فراہم کرنے کی خاصیت نے بھی کچھ زیادہ مشغول نہیں کیا (اسی بارے ایک سیانے کی پیش گوئی یہاں دیکھئے)۔ بلکہ ایک وقت تو یہ آیا کہ روابط کے عمومی سٹیٹس اپڈیٹس کو دیکھ دیکھ کر جی مزید بیزار ہونے لگا۔ وقت کا ضیاع (یا فارسی میں کہوں تو زیاں) الگ سے تھا۔ اجنبیوں کو بطور دوست شامل نہ کرنے کی عادت کا نتیجہ بھی یہ کہ فیس بُک کے روابط بھی روز ملنے والے دوستوں، واقف کاروں، یاگزشتہ ہم جماعتوں وغیرہ پر مشتمل تھے۔

ان باتوں نے تو خیر اتنا ہی اثر کیا کہ فیس بُک کی دیوانگی طاری نہ ہوئی۔ لیکن اس سے زیادہ اہم کچھ اور عوامل تھے۔ ایک یہ کہ بجائے اسکے کہ دوست مل کر اچھا وقت گزاریں، ایک مقابلے، مسابقت کی فضا کا احساس ہونے لگا کہ جہاں آپ دوسروں کی خوشی یا غم بانٹے کی بجائے دوسرے سے برتر نظر آنے یا دوسرے کو حسد میں مبتلا کرنے کی کوشش زیادہ کرتے ہیں (اور اس کوشش میں خود ہی حسد کا شکار ہوتے ہیں)۔

ابھی حال ہی میں ممتاز امریکی جامعہ سٹینفورڈ میں کی گئی ایک تحقیق شائع ہوئی (اصل مقالہ یہاں اور آسان زبان میں یہاں) تو پتہ چلا کہ میں اکیلا ہی اس مرض میں مبتلا نہیں تھا بلکہ شاید فیس بک کے بہت سے استعمال کنندہ اس یاس میں مبتلا ہیں کہ دوسرے انکی نسبت اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ گویا ایک rat race ہے جہاں آپ اور آپکے دوست ایک دوسرے سے زیادہ خوش نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسی کوشش میں بجائے خوش ہونے مجموعی طور پر سبھی حسرت، یاس، افسردگی، حسد، وغیرہ جیسے منفی احساسات کا شکار ہوتے ہیں۔ ایک دوسری تحقیق کہتی ہے کہ جتنے زیادہ دوست، اتنی زیادہ ٹینشن۔ یعنی آپ اپنا پبلک امیج بنانے کے چکر میں خود کو غیر ضروری دباؤ کا شکار کر لیتے ہیں۔ باقی قباحتیں مثلاً ڈیٹا چوری ہونا، ذاتی زندگی کا منظر عام پر آنا اور طلاق ہونے میں فیس بُک کا بڑھتا ہوا کردار (گرچہ بقول غیر مصدقہ اور غیر سائنسی ذرائع)، وغیرہ اپنی جگہ پر ہیں، گرچہ مجھے ان سے بوجوہ کچھ زیادہ خوف محسوس نہیں ہوا۔

ان حالات میں جب فیس بُک پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈرائنگز والا معاملہ چلا تو میں بھی بہت سے دوستوں کی طرح تذبذب کا شکار تھا کہ چلا جاؤں یا نظر انداز کر دوں۔ پھر کسی کا لکھا یہ پڑھا کہ ایک جگہ اگر آپکو یا آپکے والدین کو گالی دی جا رہی ہو تو کیا آپ جانا پسند کرینگے؟ بات دل کو لگی اور فیس بُک کا کھاتہ بند کر دیا۔ وجہ میں لکھ دیا کہ جب آپ مسلمانوں کے احساسات و جذبات کا خیال رکھنے لگیں گے، میں بھی واپس آ جاؤنگا۔

میں مذہبی آدمی نہیں ہوں۔ اسلام کے بنیادی رُکن مثلاً نماز، روزہ، وغیرہ میں بھی بہت کوتاہی ہو جاتی ہے۔ نہ ہی میرے جانے سے فیس بُک بند ہو گئی یا اسے کوئی فرق پڑا ہے۔ ہاں البتہ مجھے ضرور فرق پڑا ہے۔ وہی وقت اب شاید، شاید کسی بہتر کام پر خرچ ہو جائے۔ نہ بھی ہو تو اس مسابقت کے احساس سے تو جان چھوٹ ہی گئی ہے کسی حد تک۔ اسی لیے تو آج تک ٹویٹر کا اکاؤنٹ نہیں بنایا۔ میرا کوئی کاروبار وغیرہ بھی نہیں کہ فیس بُک سے کوئی مالی فائدہ حاصل ہو رہا ہو۔ بات رہی سستی شہرت کے لالچ کی تو وہ بلاگ، فلکر، گوگل پر بھنبنانا، وغیرہ سے پورا ہو ہی جاتا ہے۔

آپ سے دعا کی البتہ ضرور درخواست کرتا ہوں کہ شہرت کے کسی معمولی سے معمولی حرص سے بھی جان چھوٹ جائے اور دوسرے کی پلیٹ میں دیکھنے کی عادت یا جبلت بھی مکمل طور پر ختم ہو جائے۔ آمین ثم آمین۔

Advertisements

سائیکلون یاسی۔۔۔ دعا کریں

Posted in urdu by Shah Faisal on فروری 2, 2011

صاحبو آپ نے آسٹریلیا کی ریاست کوئینزلینڈ میں آنے والے حالیہ سیلاب کے بارے میں تو سنا ہو گا جس میں دوسرے شہروں کے علاوہ صدر مقام اور خوبصورت شہر برسبین بھی زیر آب آ گیا تھا۔ یہ ابھی چند دن پرانی بات ہی ہے لیکن آج کی رات کوئینزلینڈ کو ایک اور آزمائش کا سامنا ہے جسکا نام ہے سائکلون یاسی (اس طوفان کے بارے میں تکنیکی معلومات دیکھیے یہاں

یہ سائکلون کچھ ہی وقت میں کینز اور دوسرے ساحلی شہروں سے ٹکرانے والا ہے۔ کیٹگری 5 کا یہ سائکلون امریکا میں آنے والے قطرینا جتنا طاقتور تصور کیا جا رہا ہے اور 1974 میں آنے والے ساکلون ٹریسی سے کہ جس نے ڈارون کو تباہ و برباد کر دیا تھا، زیادہ طاقتور ہے۔  ذرائع کے مطابق یہ آسٹریلیا میں ایک صدی میں آنے والا طاقتور ترین طوفان ہے۔ ایک سرے سے دوسر سرے تک اسکا سائز 1000 کلومیٹر ہے جبکہ اسکا وسط یا آنکھ 35 کلومیٹر قطر کی ہے۔ 300 سے 450 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کی ہوائیں اپنے راستے میں آنے والی پر چیز کو تہس نہس کر دیں گی۔فوج اور پولیس نے لوگوں کو گھر گھر جا کر اس بارے مطلع کیا ہے اور بہت سے لوگ سکولوں، شاپنگ سینٹرز اور دیگر محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔ دو اقساط میں آنے والے طوفان کی ہر قسط تقریباً دس گھنٹے طویل ہو گی۔ لمحہ بہ لمحہ خبریں یہاں پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

میں اس مقام سے ہزاروں ڈھائی ہزار کلومیٹر دور ہوں لیکن آپ لوگوں سے دعا کی گزارش ہے کہ اللہ تبارک تعالی سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، آمین ثم آمین۔

اپڈیٹ:

تقریباً 24 گھنٹے بعد اور زمین پر 900 کلومیٹر سفر کے بعد یہ طوفان ماؤنٹ عیسیٰ کے علاقے میں دم توڑ رہا ہے۔ سب سے زیادہ متاثر کینز کے شمال میں دو قصبے ٹلی اور مشن بیچ ہوئے ہیں۔ تقریباً دو لاکھ گھر اسوقت بغیر بجلی کے ہیں۔ کئی علاقوں میں سیلاب آیا ہوا ہے اور ایک تہائی گھر تباہ ہو گئے ہیں۔ بجلی کے کھمبے، گھر، دکانیں، کیلے کے باغات اور گنے کے کھیت سب برباد ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ابھی مزید بارشیں ہونا ہیں اور ان گرمیوں میں شاید کچھ مزید طوفان بھی آئیں۔ کیٹگری 5 کے طوفان مستقبل میں زیادہ آنے کا خدشہ ہے کہ ماحولیاتی آلودگی اپنا خراج وصول کر رہی ہے۔ ایک محقق کے مطابق لوگوں کو ساحلی علاقے چھوڑ کر بلند مقامات پر منتقل ہونا پڑیگا اور ہر وہ جگہ جو طوفانوں کے راستے میں آتی ہے، ہمیشہ کیلیے چھوڑنا پڑیگی۔

اس افسوس کن صورتحال کے کچھ مثبت پہلو بھی ہیں۔ فی الحال کہیں سے بھی جانی نقصان یا کسی کے شدید زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ پے در پے طوفانوں نے اس قوم کو جینے کا ڈھنگ سکھایا ہے اور جن علاقوں میں طوفان آیا ہے، وہاں پہلے سے ہی بلڈنگ کوڈز کے مطابق تعمیرات کی جا رہی تھیں جسکی وجہ سے اتنے شدید جھکڑ چلنے کے باوجود بیشتر علاقوں کی بیشتر عمارتیں سلامت رہیں۔ سیاستدان، مقامی انتظامیہ، پولیس، فوج اور رضاکاروں نے جس طرز عمل کا مظاہرہ کیا وہ متاثر کن ہے۔ یقیناً بہتر طرز حکمرانی ہی ایسے حادثات سے نمٹنے کی صلاحیت دیتی ہے۔

ان سب دوستوں کا شکریہ جنھوں نے دعائیں کیں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اللہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ایسے حادثات سے نمٹنے کی صلاحیت عطا کرے۔ آمین ثم آمین۔

 

خداحافظ سمبین، ہیلو انڈرائڈ

Posted in Computing, Mobile, Technology, urdu by Shah Faisal on دسمبر 31, 2010

نہیں سرکار ایسی بات نہیں کہ میں کوئی جواز تلاش کر رہا ہوں لیکن حقیقت یہی ہے کہ میرا نوکیا اب خاصا ضعیف ہو گیا تھا۔ اب ایک پُرانی لت آزاد مصدر سوفٹ ویر استعمال کرنے کی بھی ہے (گرچہ آجکل زیادہ وقت ونڈوز 7 پر گزرتا ہے جس بارے پھر کبھی) اور دیرینہ خواہش یہی تھی کہ موبائل پر بھی ایسا ممکن ہو سکے۔

نوکیا نے کئی قلابازیاں بہ صورت مائمو، میگو اور سیمبین تھری کے کھائیں سو نوکیا سے تو جی اوب ہی گیا تھا، گرچہ کافی قریب میں نوکیا این 900 لینے کے بھی آ گیا تھا، لیکن بوجوہ نوکیا کے یتیم کردہ مائمو اور ریزسٹیو ٹچ سکرین کے (اور قیمت بھی جو کمبخت کم ہونے میں ہی نہیں آ رہی تھی)، نہ لیا۔ دوسری جانب نہ جانے کیوں آئی فون زنانیوں کا فون لگتا ہے۔ بلیک بیری کا مستقبل بھی خاصا بلیک ہی نظر آتا ہے اسلیے تان انڈرائڈ پر ہی آ کر ٹوٹی۔ اب وہ زمانہ تو یقیناً نہیں کہ انڈرائڈ ایچ ٹی سی جیسے مہنگے فون سیٹس پر ہی چل پائے سو دائیں بائیں نظریں دوڑائیں تو جہاں ایک جانب ایچ ٹی سی اور ہواوے کے کچھ سیٹ نظر آئے دوسری جانب کسی زمانے میں امریکہ کی نمبر ایک موبائل کمپنی موٹورولا پر نظر پڑی۔ کبھی بیگم نے موٹورولا کا ایک سیٹ ریزر سیریز کا لیا تھا جو اچھا ہی تھا، پھر ایک دوست کے پاس لینکس پر چلنے والا ایک سیٹ تھا کہ موٹورولا کافی برسوں سے موبائل فون لینکس پر ہی چلاتی آئی ہے۔

بہر حال تلاش ایک ایسے سیٹ کی تھی کہ اینڈرائڈ پر چلتا ہو، سکرین کچھ بڑی ہو (مثلاً 3 انچ یا زیادہ) اور مکمل کی پیڈ بھی موجود ہو۔ ان شرائط کے ساتھ تقریباً تمام فون بہ آسانی میرے بجٹ کی چار دیواری پھلانگ جاتے تھے۔ خیر کرتے کراتے تان مشہور زمانہ سیٹ بہ نام ڈرائڈ (امریکہ) / مائل سٹون (بقیہ دنیا) پر آ کر ٹوٹی ہے۔ اس فون کی مکمل تفصیلات تو آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں لیکن مختصراً یہ کہ موٹورولا کے سب سے زیادہ بکنے والے سیٹس میں سے ایک ہے (اور غالباً اسی سیٹ کی وجہ سے موٹورولا نے برسوں بعد منافع کمایا ہے)، جسکی سکرین گرچہ آئی فون فور جتنی اچھی تو نہیں لیکن تھری جی ایس وغیرہ کو مات دیتی ہے۔ پراسسر موجودہ وقت کا تیز رفتار ترین نہیں لیکن اینڈرائڈ کے موجودہ ورژن آسانی سے چلاتا ہے۔ میرے پاس اینڈرائڈ 1۔2 ہے اور انتظار ہے 2۔2 کا جس پر فلیش سپورٹ تو ہے ہی لیکن اسے سے زیادہ یہ کہ اپلیکیشنز میموری کارڈ پر بھی نصب کی جا سکتی ہیں۔ رفتار بھی زیادہ ہے۔

Milestone

 

اسوقت میں جو چندایک اپلیکیشنز (یا مختصراً ایپس) استعمال کر رہا ہوں، وہ یہ ہیں (جو تقریباً سبھی اینڈرائڈ مارکیٹ سے لی ہیں اور سب کی سب مفت ہیں):

ای میل، کیلنڈر اور کانٹیکٹس/ روابط: بلٹ ان کلائنٹ برائے جی میل اور مائکروسوفٹ ایکسچینج (یعنی جامعہ کے ای میل کھاتے کیلیے)۔ بہترین ہے اور کوئی مسئلہ تا حال نہیں ہوا۔ گوگل کی سب ایپس یہاں ہیں، گوگل گاگل بھی مزے کی چیز ہے۔

سکائپ: سکائپ والوں کا کلائنٹ

گوگل، ایم ایس ان، یاہو چیٹ: کبھی کبھار فرنگ (وڈیو چیٹ کے قابل ہے، ٹینگو کی طرح)، آج کل آئی ایم پلس، ای بڈی وغیرہ آزما رہا ہوں۔

نقشے اور نیویگیشن: گوگل میپس، مفت ہیں اور زبردست بھی، وائس گائڈڈ نیویگیشن بھی ہے اور سٹریٹ ویو بھی، لیٹیچیوڈ بھی استعمال کر رہا ہوں جس سے دوستوں کو میری اور مجھے انکی لوکیشن معلوم ہوتی رہتی ہے۔

اوقات نماز، ہجری کیلنڈر اور قبلے کے رخ کیلیے پریر ٹائم پرو، اور قرآن مجید کیلیے گائڈڈ ویز والوں کا آئی قرآن۔ پکسزر والوں کا حلال ای کوڈ اشیائے خوردونوش کے اجزا کے بارے میں بتاتا ہے جن سے غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کا واسطہ روز ہی پڑتا ہے۔

پکاسا اور فلکر تصاویر دیکھنے کیلیے جسٹ پکچرز۔ مت پوچھیے کتنا اچھا ہے۔ موبائل میں موجود تصاویر تو دکھاتا ہی ہے۔

کتب بینی: ایمازان والوں کا کنڈل فار ڈرائڈ اور ایلڈیکو۔ دونوں میں کافی مفت کتابیں ہیں۔

گھڑی، کیلنڈر، موسم کے حال کیلیے فینسی وجٹ، ظاہر ہے مفت والا۔

وقت گزاری کیلیے مشہور زمانہ گیم اینگری برڈز۔

سستی بین الاقوامی فون کالز کیلیے پینی ٹیل کی سروس اور سی سپ سمپل کا اطلاقیہ۔

فائل ایکسپلورر ای ایس والوں کا ہے۔ اسکے علاوہ نوٹس کیلیے یولی کا نوٹس، آواز کی ریکارڈنگ کیلیے توکاشیکی کا وائس ریکارڈر، انٹرنیٹ کی رفتار چیک کرنے کیلیے اوکلا کا سپیڈ ٹیسٹ وغیرہ شامل ہیں۔

ایسا نہیں کہ راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ کسی بھی اینڈرائڈ فون کیلیے ڈیٹا پلان ہونا لازمی ہے ورنہ آپ اسکے پورے فائدے کبھی حاصل نہیں کر سکتے (چاہے وہ کسی بھی کمپنی کا ہو کہ کھیل اب آپریٹنگ سسٹم کا چلے گا، ہارڈ ویر کا نہیں)۔ مثلاً گوگل کی میپ سروس کافی ڈیٹا ہڑپتی ہے ۔ اسی طرح کیمرے کا کوئی خاص مزہ نہیں حالانکہ پانچ میگا پکسل ہے اور فلیش بھی موجود ہے۔ یہی کیمرہ البتہ ویڈیو بہتر بناتا ہے جس سے میرا خیال ہے کہ یہ سوفٹویر کی کمزوری ہے۔ ہارڈ ویر کی بات کریں تو موٹورولا کا اچھا ہے لیکن شائد نوکیا جتنا نہیں۔ فون کی پشت پر ربڑ کی تہہ کا لیپ ہے جس سے فون آپ کے ہاتھ سے پھسلتا نہیں اور اسکا شیشہ خراش سے محفوظ ہے، کتنا؟ یہ ویڈیو دیکھیے یا پھر یہ والی۔ البتہ سکرین کے کونوں پر(جہاں کالا رنگ تھا) ہلکی خراشیں ابھی سے پڑنا شروع ہو گئی تھیں، جسکےلیے ایک کور لیا ہے۔ سب سے بڑی کمزوری جسکو اسی فون کے نئے ماڈل میں دور بھی کیا گیا ہے وہ اسکا کی بورڈ ہے۔ انتہائی واہیات ہے لیکن بہر حال نہ ہونے سے بہتر ہے۔ مزے کی بات کہ اس تقابل میں پرانا ماڈل نئے سے کئی لحاظ سے بہتر لگتا ہے (گرچہ نئے ماڈل کی خوبیاں زیادہ ہیں)۔

بہ حیثیت مجموعی میں کافی خوش ہوں اور اپنے پرانے فون کے مقابلے میں تو دن رات کا فرق نظر آتا ہے گرچہ یہ تقابل جائز نہیں ہے۔ لیکن دوسر ی طرف نوکیا بھی تو ابھی تک سیمبین پر اٹکا ہوا ہے۔ بہر حال گوگل نے آئی فون کے مقابلے کے لیے انڈرائڈ کا جو جن پیدا کیا تھا وہ اب بوتل سے باہر آ گیا ہے۔ آپکا کیا خیال ہے؟

اینڈرائڈ کی دنیا میں خوش آمدید

Posted in Computing, urdu by Shah Faisal on نومبر 1, 2010

صاحبو فدوی ایک عرصہ سے آزاد مصدر یعنی اوپن سورس سوفٹویر کا شیدائی ہے۔ بات صرف کمپیوٹر تک محدود نہیں بلکہ موبائل فون اور کیمروں تک کی ہے۔ اس سلسلے میں ایک ہلچل تو اسوقت مچی جب گوگل نے اینڈرائڈ کا اعلان کیا، گرچہ اب نوکیا کا نظام سیمبین بھی آزاد مصدر ہی ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ڈیڑھ سال میں انڈرائڈ نے جتنی ترقی کی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ یہ بات یقیناً درست ہے کیونکہ اگر آپ اینڈرائڈ نظام پر چلنے والے فون دیکھیں تو آپکو اس فہرست میں ایچ ٹی سی، موٹورولا، ایل جی، سیم سنگ جیسے بڑے بڑے نام نظر آئیں گے۔ اگرچہ نوکیا نے بھی ایک زمانے میں مائیمو (جو کہ انڈرائڈ کی طرح لینکس کی ہی ایک قسم ہے) پر چلنے والا مشہور زمانہ فون یعنی نوکیا این 900 متعارف کرایا لیکن مائیمو پر مزید ترقی ہوتی نظر نہیں آ رہی اور اب نوکیا انٹیل کے ساتھ مل کر میگو پر کا م کر رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ کہ نوکیا کے نئے فون واپس سیمبین (یعنی سیمبین 3) پر ہی دکھائی دے رہے ہیں اور دوسری طرف میگو بھی غالباً صرف انٹل پراسسر چلائے گا، جو یقیناً لینکس کے فلسفے کے خلاف ہے۔

بہرحال بات ہو رہی تھی گوگل کی پشت پناہی سے چلنے والے اینڈرائد نظام کی۔ پچھلے ہفتے ایک دوست کو فون خریدنے کی ضرورت پڑی تو میرے مشورے سے انھوں نے انڈرائڈ پر چلنے والے ایک فون کا انتخاب کیا۔ فی الحال تو وہ صاحب کافی خوش اور مطمئن ہیں، لیکن دوسری طرف میرے پاپی من میں بھی انڈرائڈ آزمانے کی خواہش سوا ہو گئی۔ نیا فون خریدنا بیگم کے عتاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے چناچہ حل یہ نکلا ہے کہ انڈرائڈ نظام کو کمپیوٹر پر ہی چلا لیا ہے۔

اگر آپ بھی یہ تجربہ کرنا چاہتے ہیں تو سو بسم اللہ۔ کئی طریقے ہیں۔ مثلاً آپ انڈرائڈ ڈاؤنلوڈ کریں اور لائیو سی ڈی یا لائیو یو ایس بی بنا لیں، بالکل ایسے ہی جیسے آپ ابنٹو یا لینکس کی دیگر اقسام آزماتے ہیں۔ میں نے تو ورچوئل باکس میں چلا کر دیکھا ہے اور کافی مزا آیا ہے۔ ورچوئل باکس کی تفصیل پھر کبھی، مختصراً یہ کہ یہ ایسا سوفٹویر ہے جسکے استعمال سے آپ کسی ایک نظام (مثلاً ونڈوز) میں رہتے ہوئے دوسرا نظام (مثلاً لینکس) چلا سکتے ہیں۔ کچھ تصاویر حاضر خدمت ہیں (سُست رفتار انٹرنیٹ کے مالک خواتین و حضرات تصاویر کچھ وقفے سے ہی دیکھ پائیں گے):

بُوٹ ہوتے وقت:

 

سکرین، لاک شدہ حالت میں (تالے پر ماؤس کلک کر کے اوپر کی جانب دھکیلئے، لاک کُھل جائے گا):

 

مین/ ہوم سکرین (ایسی کئی سکرینز، دائیں بائیں اور اوپر نیچے، اور ان پر شارٹ کٹ بنائے جا سکتے ہیں):

 

اپلیکشنز مینیو:

 

میرا مائکروسوفٹ ایکسچینج ان باکس بہ آسانی  سیٹ اپ ہو گیا، ای میل، کانٹیکس، کیلنڈر سب سینکرونائز ہو گئے:

 

 

آپکے فون کی معلومات:

 

ورڈ پریس پر میرا تصویری بلاگ (کس کس کو یہ آئی فون کا براؤزر لگ رہا ہے؟ ؛) )۔ اُردو کو بائیں سے دائیں دکھا رہا ہے (شُکر ہے تبصروں کی تعداد نہیں دکھا رہا، ورنہ شرمندگی ہی ہوتی):

 

فلکر پر میرا صفحہ۔ تقریباً ٹھیک ہے، سوائے اردو کے:

 

کوشش کیجیے، آپکے نتائج کا انتظار رہیگا۔

یہ کیسے ہو گیا؟

Posted in Computing, Photography, Photos, urdu by Shah Faisal on اکتوبر 16, 2010

مت پوچھیں صاحب یہ کیسے ہو گیا۔ نہیں یہ نہیں کہ اس صدی کے دسویں برس کے دسویں ماہ کے دسویں دن کو یادگار ہونے کیلیے کوئی اور وجہ بھی چاہیے تھی۔ لیکن میرے لیے یہ دن کسی اور وجہ سے اہم تھا۔ ہاں جناب یہ دن نئی ابنٹو کا دن تھا۔ افسوس یہ دن آیا اور گزر بھی گیا اور مجھے بالکل بھول گیا۔ وہ تو بھلا ہو ابو شامل صاحب کی بز (اب اسے بھن بھن کہنے سے تو رہا) کا جس سے علم ہوا کہ موصوف نئی ابنٹو کے مزے لے رہے ہیں۔ جلاپا تو کیا ہونا تھا بس اپنی مت پر افسوس ہی ہوا۔ خیر دیر آید درست آید، اپنے لیپ ٹاپ کو اس کام پر لگایا اور چند گھنٹوں میں سب اچھا ہو گیا۔ دراصل اس میں کچھ قصور ابنٹو کا بھی ہے کہ میرے کیمرے کی را فائلیں دیکھنے کو ایک ڈھنگ کا اطلاقیہ تک نہیں مل رہا تھا۔ مجبورا ونڈوز وسٹا (جی ہاں، سیون نہیں وسٹا۔۔۔ اب یہ پاکستان تو ہے نہیں کہ پکوڑوں والے سے پاؤ پکوڑوں کے ساتھ ونڈوز کی سی ڈی بھی تُلوا لی جائے) میں بوٹ کرنا پڑتا تھا کہ کینن کا ڈی پی پی جو صرف ونڈوز یا میک کیلیے دستیاب ہے، استعمال کیا جا سکے اور کھینچی گئی تصاویر کی نوک پلک سنواری جا سکے۔ بہرحال یہ مسئلہ بھی کافی حد تک حل ہو گیا ہے، کیسے؟ ابھی بتاتا ہوں۔ پہلے کچھ بارےمیورک میرکیٹ یعنی ابنٹو 10.10 کے، اگر اردوانے پر ہی اصرار ہے تو آپ سے آزاد منش نیولا کہہ لیجیے۔ اب یہ مت کہیے گا کہ یہ بھلا کیا نام ہوا۔ ابنٹو کی ہر ریلیز کا نام کسی جانور کے نام پر رکھا جاتا ہے اور ساتھ اسم صفت کا اضافہ ہے، نام اور اسم صفت دونوں ایک ہی حرف سے شروع ہونے چاہییں۔ مکمل فہرست آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

یہ تو پہلے بھی گوش گزار کر چکا ہوں کہ ابنٹو ہر چھ ماہ بعد ایک نئی ریلیز جاری کرتا ہے اور لینکس کے شیدائی ہر ریلیز کا بڑی بے صبری سے انتظار بھی کرتے ہیں کہ دیکھو کیا نیا ہے، کیا بہتر۔ اس متربہ بظاہر کچھ زیادہ نیا نہیں ہے لیکن یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے۔ دراصل اب ابنٹو اس مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں یہ کافی حد تک ٹھوس ہے۔ لہذا ہر چھ ماہ بعد کی ریلیز میں بہت زیادہ تبدیلیوں کی توقع کرنا شاید زیادہ صحیح نہیں ہو گا۔ لیکن حضور یہ نشہ تو ان سے پوچھیے جنکی عادت تازہ اخبار پڑھنے کی، چند لمحوں قبل تنور سے نکلی یا توے سے اتری روٹی کھانے کی، بھاپ اڑاتی چائے پینے کی، یا دھندلائے غسلخانے میں خشک تولیے سے بدن سکھانے کی ہے کہ نیا پن اپنے اندر کیا کچھ رکھتا ہے۔

ابھی زیادہ نہیں دیکھا لیکن تصاویر کے اطلاقیوں کی حد تک یہ تبدیلی ہے کہ ایف سپاٹ کی جگہ اب شاٹ ویل نے لے لی ہے۔ میں نہ وہ استعمال کرتا تھا نہ یہ کرونگا، البتہ وہ لوگ جو را کی بجائے جے پیگ میں تصاویر کھینچتے ہیں، انکی ضروریات بڑی حد تک شاٹ ویل سے پوری ہو جائیں گی۔ ورنہ گوگل کا پکاسا بھی تو ہے، جو لینکس میں بھی کافی اچھا چلتا ہے۔ براؤزنگ کیلیے فائر فاکس، ای میل کیلیے تھنڈر برڈ اور ایوولوشن، چیٹ کیلیے ایمپیتھی وغیرہ پہلے سے شامل ہیں اور  بے تحاشا دوسرے اطلاقیے بھی موجود ہیں۔

جہاں تک بات ہے میری فوٹو گرافی سے متعلق ضروریات کی تو وہ بھی کافی حد تک پوری ہو رہی ہیں۔ کیمرے سے تصاویر کمپیوٹر میں منتقل کرنے کیلئے ریپڈ فوٹو ڈاؤنلوڈر موجود ہے۔ بنیادی کام کے لیے میری تلاش بالآخر گیکی پر آ کر رکی ہے۔ یہی وہ اطلاقیہ تھا جسکے نہ ہونے کی وجہ سے مجھے بار بار ونڈوز پر جانا پڑتا تھا (گیکی دراصل ایک پرانے پراجیکٹ کی نئی شکل ہے)۔ بہرحال گیکی تصاویر کو آرگنائز کرنے کیلیے بہترین ہے۔ یہاں سے میں تصاویر کو یو ایف را میں کھولتا ہوں اور کام کرنے کے بعد جے پیگ فارمیٹ میں محفوظ کر لیتا ہوں (جے پیگ تصاویر کا عمومی اور سب سے مقبول اور مستعمل فارمیٹ ہے)۔ اگر کسی تصویر پر مزید کام کرنا ہو تو گمپ کا استعمال کرتا ہوں ورنہ فلکر پر اپلوڈ کرنے کے لیے پوسٹر فلکر اپلوڈر کا استعمال کرتا ہوں۔ اگر ونڈوز استعمال کروں تو تصاویر منتقل کرنے کا، انکو مرتب کرنے کا اور کام کرنے کے بعد جے پیگ میں محفوظ کرنے کا کام کینن ڈی پی پی ہی میں ہو جاتا ہے، مزید بہتری کے لیے گمپ استعمال کرتا ہوں (فوٹو شاپ کے پیسے ہیں نہ شوق)۔ فلکر پر اپلوڈ کرنے کیلیے بھی کوئی نہ کوئی اطلاقیہ استعمال کر لیتا ہوں۔ چنانچہ ونڈوز میں تصویر کو کیمرے سے فلکر تک پہنچنے میں جو زنجیر بنتی ہے وہ ذرا مختصر ہوتی ہے اور وقت بھی یقینا کم لگتا ہے۔

ارے بات کہاں کی کہاں پہنچ گئی۔ کہنا تو یہ تھا کہ اگر آپ بھی ونڈوز سے تنگ ہیں (وائرس، قیمت، رفتار، وغیرہ وغیرہ) تو میک یا لینکس آزمائیے۔ میک کے لیے تو راشد بھائی کا انتظار ہے کہ کب اپنا پرانا کمپیوٹر پھینکتے ہیں کہ فدوی نئے کا متحمل تو ہرگز نہیں ہو سکتا لیکن لینکس کے کئی ذائقے بشمول ابنٹو کے مفت ہیں۔ اگر آپ مفت سی ڈی کا انتظار نہیں کر سکتے تو ڈاؤنلوڈ کیجیے اور مزے لیجیے۔ چاہے تو ہارڈ ڈسک کی پارٹیشن کر کے دہریہ کمپیوٹر بنائیے، چاہے تو ونڈوزکےاندر ہی انسٹال کر لیجیے اور یہ بھی نہیں تو سی ڈی سے ہی چلا لیجیے۔ آپکی لینکس بیتیوں کا انتظار رہے گا جبکہ میری لینکس سے متعلق کچھ پچھلی تحاریر آپ یہاں اور یہاں پڑھ سکتے ہیں، گویا آپ پڑھ ہی تو لیں گے۔