Faisaliat- فیصلیات

لینکس کے متوالوں کےلئے ایک اچھی (یا شائد بری) خبر

Posted in Computing, urdu by Shah Faisal on دسمبر 6, 2007

نہیں رُکیے صاحب، آپ غلط سمجھے۔ یہ خبر صرف لینکسیوں (یعنی وہ لوگ جو لینکس استعمال کرتے ہیں) کیلئے نہیں ہے۔ یہ خبر ہر اس شخص کیلئے ہے جو اپنی آزادی سے محبت کرتا ہے، جو انسانیت پر یقین رکھتا ہے یا شائد وہ بھی جو اس قطار کی دوسری انتہا پر کھڑا ہے، میری مراد اس شخص سے ہے جو ان اعلی و ارفع وجوہات کی بجائے صرف اس سادہ سی حقیقت کو مدِنظر رکھ کر لینکس استعمال کرتا ہے کہ یہ کمپیوٹر چلانے والا عمدہ نظام بالکل مفت ہے اور ہمیشہ مفت رہیگا۔ یہ کیا گھمن گھیری ہے کہ رنگ رنگ کے لوگ لینکس استعمال کرتے ہیں اور سب کی ایسا کرنے کی اپنی اپنی وجہ ہے؟ خیر اس پر تو انشاہ اللہ پھر کبھی بات ہو گی، آج تو ایک اہم خبر لے کر حاضر ہوا ہوں۔
جاننے والے جانتے ہیں کہ لینکس کے کئی ذائقے ہیں۔ ارے یہ کیا؟ ذرا پھر سے کہیے۔ کیا میں نے ٹھیک سے سنا؟ چلیں کوئی بات نہیں دیر آئد درست آئد۔ آخر آپ نے پوچھا تو سہی کہ یہ لینکس کس چڑیا کا نام ہے، یہی بڑی بات ہے۔ اچھا یہ بتائیں آپ نے ونڈوز کا نام سنا ہے؟ جی جی وہی ونڈوز جو غالباً آپ کے کمپیوٹر میں موجود نظام ہے اور جسکو آپ نے ایک اچھی خاصی رقم صرف کر کے حاصل کیا ہے۔ ویسے یہاں میں یہ فرض کر رہا ہوں کہ آپ ایک اصول پسند انسان ہیں اور چوری چکاری سے دور رہتے ہیں ورنہ ہمارے یاں تو ونڈوز کی سی ڈی آپ کو کسی ریڑھی والے سے بھی، سستے داموں مل جائے گی۔ خیر وہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے۔ بس یہ جان لیجیے کہ کمپیوٹر نظاموں میں ونڈوز کے علاوہ ایپل کمپنی کا میک (Mac) بھی ایک مقبول نظام ہے گرچہ پاکستان میں اس کے شیدائی کم کم ہی ہیں۔ ہاں یہ وہی ایپل ہے جسکے دوسرے مقبول پراڈکٹس میں مشہورِ زمانہ آئی پاڈ (Ipod) اور حال ہی میں شروع ہوا آئی فون (Iphone) ہے۔ خیر ان دو کمپیوٹر نظاموں کے علاوہ بھی دنیا ہے اور وہ دنیا ہے لینکس۔ یہ آزاد مصدر یعنی اوپن سورس ہے یعنی اسکا کوڈ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اگر آپ کرنا چاہیں تو یہ کوڈ اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیں۔ دوسری طرف اگر یہی کام آپ ونڈوز کے ساتھ کریں تو پھر شائد عدالت کا سامنا تیار کرنے کو تیار رہیں کہ مائکروسوفٹ یعنی ونڈوز نظام کی مالک کمپنی اپنے استعمال کنندگان کے ساتھ ایسا سلوک کرنے میں خاصی بدنام ہے۔ اسکے برعکس لینکس نظام کے موجد (اللہ اسکو دینِ اسلام کی طرف راغب کرے اور ایسی نیکیوں کی توفیق اسکے بعد بھی برقرار رکھے، آمین) نے اسکا کوڈ کُھلا اسی شرط پر رکھا تھا کہ آپ اسکو استعمال کریں، بہتر بنائیں لیکن اپنی تبدیلیوں کو آپ بھی نہیں چھپا سکتے۔ بالکل ایسے ہی جیسے کوئی شخص درخت لگائے لیکن اسکا پھل اس شرط پر سب میں بانٹ دے کہ کھانے والا نہ صرف یہ کہ درخت کو بہتر سے بہتر بنائے گا بلکہ اوروں کو بھی پھل کھانے سے نہیں روکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی ایجاد کے بعد لینکس خوب پھلی پھولی اور اب بھی پھل پھول رہی ہے۔ لیکن ٹھہریے، لینکس صرف ایک بنیاد ہے جس پر کمپیوٹر کے دوسرے اطلاقیے (Applications) کھڑے ہوتے ہیں۔ مثلاً اگر آپ انٹرنیٹ کی سیر چاہتے ہیں، برقی خط یعنی ای میل بھیجنا چاہتے ہیں، کوئی تصویر اپنے کمپیوٹر میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں، موسیقی سننا یا کوئی فلم دیکھنا چاہتے ہیں تو ایسا صرف لینکس یا ونڈوز کے استعمال سے ممکن نہیں۔ یہ دونوں یا ایسے کچھ اور نظام صرف بنیاد فراہم کرتے ہیں، اپنے کمپیوٹر سے ایسا کوئی بھی کام لینے کیلئے آپکو اطلاقیوں یا اپلیکیشنز کی ضرورت پڑتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ انٹرنیٹ کی سیر چاہتے ہیں تو اسکے لیے آپکو ایک عدد انٹرنیٹ براؤزر (Internet Browser) کی ضرورت پڑے گی مثلا مائکروسوفٹ ونڈوز میں موجود انٹرنیٹ ایکسپلورر، موزیلا کارپوریشن کا فائر فاکس یا پھر سفاری، اوپیرا، ایپیفینی وغیرہ ایسے اطلاقیے ہیں جن کی مدد سے آپ یہ کام کر سکتے ہیں۔ ویسے موٹے موٹے کام کرنے کے لیے ونڈوز یا میک والے اپنے نظاموں کے ساتھ کچھ ایسے اطلاقیے مفت فراہم کر دیتے ہیں، باقی چیزوں کے آپکو پیسے دینے پڑتے ہیں۔ مثلاً انٹرنیٹ ایکسپلورر تو آپکو مفت مل جائے گا لیکن مائکروسوفٹ آفس (Microsoft Office) آپکو مہنگے داموں خریدنا پڑے گا۔ اس صورتحال کو کچھ ایسا ہی لیجئے جیسے کوئی گاڑی تو قدرے سستے داموں آپکو مل جائے لیکن اسکو چلانے والا پٹرول آپکو انتہائی مہنگے داموں خریدنا پڑے۔ اب یہ کہنے کی ضرورت تو ہے نہیں کہ بنا پٹرول گاڑی کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔
میرے خیال میں اب مناسب وقت ہے کہ آپکو لینکس کے مختلف ذائقوں یعنی ڈسٹریبیوشن جسکو عام طور بھی مختصراً ڈسٹرو (Distro) بھی کہا جاتا ہے، کی بابت بھی بتا دیا جائے اور یہ وضاحت بھی ہو جائے کہ انگریزی زبان کے لفظ Free کا دنیائے لینکس میں کیا مطلب ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ لینکس (یا ونڈوز یا میک وغیرہ وغیرہ) صرف بنیادی نظام ہیں اور یہ نظام بغیر اطلاقیوں کے، ہم جیسے استعمال کنندگان کے کسی کام کے نہیں۔ اب ہوتا کچھ یوں ہے کہ دنیا بھر میں مختلف تجارتی کمپنیاں (Corporate organizations)، غیر تجارتی ادارے (not-for-profit organizations)، مختلف ہم خیال، ہم ذوق یا ہم شوق لوگوں کے گروپ اور یہاں تک کہ انفرادی طور پر سرگرم اشخاص بھی، لینکس کے بنیادی ڈھانچے پر اپنی مرضی کے اطلاقیے چڑھا کر آپکو استعمال کیلئے پیش کرتے ہیں، یعنی بنیاد وہی لیکن شکل، سہولیات، استعمالات اور مقاصد مختلف۔ لینکس کی انہی اقسام کو ڈسٹروز (یا اردو میں ذائقہ کہہ لیں) کہا جاتا ہے۔ یہاں یہ بھی خیال رہے کہ Free کا مطلب یہاں مفت نہیں بلکہ آزاد مصدر ہے، گرچہ لینکس کے کچھ بلکہ کافی کچھ ذائقے بالکل مفت بھی دستیاب ہیں۔ جو لوگ لینکس کے ذائقے بیچتے ہیں، بالکل غلط نہیں کرتے۔ آخر بنیادی ڈھانچے میں مناسب تبدیلی، مناسب اطلاقیوں کا چناؤ اور پھر منڈھاؤ، تقسیم کے کسی ذریعہ کا استعمال مثلاً سی ڈی یا ڈی وی ڈی کی تیاری اور پھر اس ذائقے کی تشہیر اور بعد از فروخت سروس وغیرہ وہ سب وجوہات ہیں کہ جنکی وجہ سے کوئی اگر لینکس بیچنا چاہے تو بیچ سکتا ہے۔ اور اس بات کی اجازت لینکس کے موجد نے بھی دے رکھی ہے۔ اب اگر ایسا ہے تو وہ لوگ کون ہیں جو نت نئے ذائقے تیار کرتے ہیں اور پھر استعمال کے لئے مفت پیش کرتے ہیں؟ جیسا کہ پہلے عرض کیا ایسا بہت سے لوگ یا ادارے کرتے ہیں۔ بسااوقت تجارتی ادارے دونوں قسم کی لینکس پیش کرتے ہیں، مثال کے طور پر ریڈہیٹ والے دفتری ماحول کے لیے ریڈ ہیٹ لینکس بیچتے ہیں جبکہ مشہورِ زمانہ لینکس کا ذائقہ فیڈورا مفت فراہم کرتے ہیں، آپ اسکو انٹرنیٹ سے باآسانی لے سکتے ہیں۔ اسی طرح لنسپائر والے اپنی ایک قسم فری سپائر مفت دیتے ہیں، مینڈریوا والوں کا بھی ایک مفت ایڈیشن ہے۔ دوسری طرف کچھ ادارے لینکس ذائقہ تو مفت فراہم کرتے ہیں لیکن اگر آپکو اسکے استعمال میں مدد چاہیے (یعنی بعد از فراہمی کی سروس) تو ایسا کرنے کے وہ پیسے لیتے ہیں، اسکی بہترین مثال ابنٹو لینکس (جو میں اس وقت استعمال کر رہا ہوں) والے کرتے ہیں۔ اگر کوئی ادارہ یا شخص انکی باقاعدہ مدد چاہتا ہے تو وہ ایسا کچھ رقم کی ادائیگی کے بعد کر سکتا ہے گرچہ میرے ذاتی خیال کے مطابق گھریلو استعمال کنندگان میں شائد ہی کوئی ایسا کرتا ہو کیونکہ جب آپ انٹرنیٹ کے ذریعے چند لمحوں میں اپنے سوال کا جواب دنیا بھر میں پھیلے ابنٹو گھرانے کے دوستوں سے حاصل کر سکتے ہیں تو پیسے خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
اب آتے ہیں لینکس اطلاقیوں کی جانب کہ جن کے بغیر لینکس تو کیا کوئی بھی کمپیوٹنگ نظام کم از کم مجھ جیسے گھریلو صارف کیلئے بیکار ہے۔ کیا صرف لینکس ہی مفت دستیاب ہے یا ایسے اطلاقیے بھی جو اسکو کارآمد بناتے ہیں، مفت دستیاب ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ لینکس مفت حاصل کرنے کے بعد معلوم ہو کہ اب اطلاقیوں پر خطیر رقم خرچ کر پڑیگی؟ کہیں گنجے کو کنگھی خریدنے کے بعد علم ہو کہ اسکے سر پر تو بال ہی نہیں؟ کہیں کوئی آپکو گاڑی مفت اور پٹرول اپنی مرضی کی قیمت کا بیچ رہا ہو؟ دیکھیں ایسا ممکن تو ہے اور ہم عام زندگی میں ایسی بہت سی مثالیں دیکھتے ہیں۔ مثلاً جرمنی میں او ٹو (o2) والے بیش قیمت موبائل فون تو ایک یورو یعنی تقریاً اسی پچاسی رپوں کا دیتے تھے لیکن کنشکن انہی کا استعمال ہوتا تھا اور وہ آپ کے ساتھ کیے گئے دو سالہ معاہدے میں ساری کسر نکال لیتے تھے۔ خیر یہاں ایسا کچھ نہیں، سو گھبرائیے مت۔ گرچہ ایسے اطلاقیے موجود ہیں جو آپ پیسوں سے خرید سکتے ہیں لیکن ان کے مقابلے میں مفت اطلاقیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ جو بھی کام آپ کرنا چاہتے ہیں، اسکے لئے کئی قسم کے اطلاقیے موجود ہیں جنہیں آپ انٹرنیٹ سے مفت حاصل کر سکتے ہیں۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ کہاں مہنگا مائکروسوفٹ آفس اور کہاں اس سے بہتر کام کرنے والا بالکل مفت اوپن آفس (openoffice.org) جو مزے کی بات کہ ونڈوز اور لینکس دونوں کیلئے دستیاب ہے۔ ویسے اگر آپ لینکس کے لئے دستیاب اطلاقیوں کا موازنہ ونڈوز میں چلنے والے اطلاقیوں سے کرنا چاہیں تو یہاں اور یہاں دیکھ لیں، یقیناً صورتحال واضح ہو جائے گی کہ آزادی کسے کہتے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ لینکس کیلئے بنائے جانے والے بیشتر اطلاقیے بالکل مفت دستیاب ہیں بلکہ یہ بھی کہ ایک ہی کام کرنے کیلئے آپکو کئی اقسام کے اطلاقیے ملتے ہیں، آپکی مرضی کہ ان میں سے کوئی سا بھی اپنی پسند یا ضرورت کے مطابق استعمال کریں۔
اب یقیناً آپ کے ذہن میں یہ سوال کلبلا رہا ہو گا کہ اگر اسوقت لینکس کے بلاشبہ ہزاروں ذائقے مفت دستیاب ہیں تو ان میں سے کون سا استعمال کرنا بہتر رہیگا۔ فکر کی کوئی بات نہیں، آپ یہ سوال پوچھنے والے تنہا شخص نہیں، تقریباً ہر شخص جو لینکس کو آزمانا چاہتا ہے، جلد یا بدیر یہی سوال پوچھتا ہے۔ خود میں نے بھی دسیوں ذائقے آزمائے ہیں۔ ویسے آپ اس ویبسائٹ پر ان میں سے چند ایک کا قدرے تقابلی جائزہ دیکھ سکتے ہیں۔ مختلف لوگ مختلف ذائقے پسند کرتے ہیں اور ایسا کرنے کی اپنی اپنی وجوہات ہیں۔ مجھے ابنٹو اور ڈیبین اچھے لگتے ہیں (گرچہ انکی بھی مزید اقسام ہیں) لیکن اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ فیڈورا، اوپن سُوز، سلیک ویر، پی سی لینکس او ایس، گینٹُو، زین واک، پپی وغیرہ بُرے ہیں۔ اگر آپ لینکس استعمال کرتے ہیں تو ضرور بتائیے گا کہ کونسی اور کیوں استعمال کرتے ہیں۔
اے لو، بات کیا تھی اور کہاں سے کہاں نکل گئی۔ خبر تو تھی لینکس والوں کیلئے لیکن سارا وقت ونڈوز والوں کو آزادی کا مطلب سمجھانے میں گزر گیا۔ خیر اب مختصراً بتا دیتا ہوں۔ لینکس کے مختلف ذائقے آپکی ضرورت کے اطلاقیے ہر وقت اپنے گودام جسے ریپازٹری (repository) کہا جاتا ہے، میں رکھتے ہیں اور ان کو انٹرنیٹ سے حاصل کرنے کا کوئی نہ کوئی سہل طریقہ بھی لینکس نظام میں رکھتے ہیں تا کہ بنیادی نظام کی تنصیب کے بعد آپ اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق مختلف النوع اطلاقیے اس نظام پر منڈھ لیں۔ اس اہتمام کو پیکج مینیجمنٹ سسٹم (package management system) کہا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیشرفت لنسپائر والوں نے کی ہے۔ انکا اطلاقیے حاصل کرنے کا طریقہ (جو ظاہر ہے کہ خود بھی بہ ذریعہ ایک اطلاقیہ ہی ہے) سی این آر کہلاتا ہے (جسکی کچھ تفصیل یہاں بھی ہے) جو پہلے صرف لنسپائر لینکس یا اسکی مفت قسم فری سپائر کے استعمال کنندگان کے لئے مخصوص تھا۔ اب انہوں نے حیرت انگیز طور پر اپنا یہ نظام انتہائی دریا دلی سے لینکس کے سب ذائقوں کو مفت دینے کا اعلان کیا ہے۔ یعنی آپ ایک چھوٹا سا پروگرام اپنے زیرِ استعمال کسی بھی لینکس ذائقے میں نصب کر کے لنسپائر والوں کے گودام میں موجود ہزاروں اطلاقیوں میں سے کوئی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ گرچہ یہ اطلاقیے آپ انٹرنیٹ سے براہِ راست بھی حاصل کر سکتے ہیں لیکن پھر ان اطلاقیوں کی آپ کی زیرِاستعمال لینکس میں تنصیب بعض اوقات ذرا تکنیکی مسئلہ بن جاتی ہے اور اس میں کم از کم میری صلاحیت تو انتہائی محدود ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ لنسپائر دنیائے لینکس میں خاصی متنازعہ رہی ہے اور اسکی تازہ وجہ وہ متنازعہ معاہدے تھے جو اس کمپنی نے مائکروسوفٹ کے ساتھ کیے تھے۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ایسے معاہدوں کے ذریعے مائکروسوفٹ لینکس پر قبضے کی کوشش بھی کر سکتی ہے اور پھر وہی گنجے کو کنگھی کی فروخت۔۔۔ خیر اب لینکسیوں کو کون سمجھائے کہ بھائی یہاں تو لوگوں نے پانی بھی بوتلوں میں بند کر کے بیچا ہے، تم تو انسانی عقل کی فروخت پر پابندی چاہتے ہو۔ بہرحال یہ فیصلہ تو شائد وقت ہی کریگا کہ لنسپائر والوں کی اپنی ٹیکنالوجی کی مفت فراہمی کی کیا وجہ تھی اور آیا ان کی نیت صاف تھی۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

Advertisements

6 Responses

Subscribe to comments with RSS.

  1. ساجداقبال said, on دسمبر 6, 2007 at 12:00 شام

    لنڈوز سے لنسپائر ۔۔۔۔ اور پھر فری سپائر کی کہانی۔ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ لیکن سی این آر مفت والے میں انکا کیا بزنس ماڈل ہو سکتا ہے؟ یا پھر یہ کوئی مناپلی بنانے کی کوشش ہے؟

  2. راشد کامران said, on دسمبر 6, 2007 at 7:21 شام

    کافی دلچسپ اور معلوماتی تحریر تھی۔۔ ذاتی طور پر مجھے بھی یوبنٹو ارو ماندریوا پسند ہے لیکن ہماری کمپنی میں ریڈ ہیٹ کا استعمال ہوتا ہے۔۔ جب سے ریڈ ہیڈ نے جے باس نامی مڈل ویر کمپنی کو خریدا ہے اسکے بعد ریڈ ہیٹ ۔۔ پیچیدہ اطلاقیوں کی تنصیب کے لیے “ون سٹاپ شاپ“ بن گئ ہے۔۔ امید ہے پاکستان میں جلد ہی کمپنیاں اوپن سورس کو ترجیح دینا شروع کر دیں گی۔

  3. راہبر said, on دسمبر 7, 2007 at 6:56 صبح

    بہت اچھی تحریر لکھی ہے۔ ونڈوز کا استعمال کرنے والوں کو کافی حد تک متاثر کرنے والی تحریر ہے۔ میں نے تو اب تک اوبنٹو اور ژوبنٹو ہی استعمال کی ہیں۔

  4. […] کو آئے ہیں۔ اسی موضوع پرگزشتہ تحاریر آپ یہاں، یہاں اور یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ میرے ابنٹو کے استعمال کی چند ایک وجوہات […]

  5. طارق راحیل said, on اکتوبر 14, 2009 at 3:43 شام

    dil to kr raha hai Linux ko use krny ka pr dar lagta hai windows hi use ki hia hamesha samjh ay gi k nai? Linux

  6. Aamir Shahzad said, on مئی 26, 2010 at 7:28 شام

    اتنا اچھا مضمون لکھنے کا شکریہ۔
    میں ونڈوز کے عادی لوگوں کو Zorin OS لینکس تجویز کروں گا۔


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: